Urdu Articles

آئمہ اہل بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی خدماتِ حدیث

 آئمہ اہل بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم
کی خدماتِ حدیث 
* ڈاکٹر محمد سلطان شاہ

حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ جل مجدہٗ کے آخری رسول ہیں اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب قرآن مجید آخری صحیفۂ ہدایت ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی امت کے لیے اُسوۂ حسنہ چھوڑا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھال کر نجاتِ اُخروی سے سرفراز ہو سکے۔ حضور سیّد الانام علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اقوال و افعال اور تقریرات قرآن مجید کی تفسیر ہیں جن کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آئندہ نسلوں تک پہنچانے کا فریضہ بطریقِ احسن سرانجام دیا۔ صحابہ کرامؓ میں سے بعض نے احادیث جمع بھی کیں۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲعنہنے ایک صحیفہ میں احادیث لکھ رکھی تھیں۔ حضرت علی رضی اﷲعنہ کی زوجہ محترمہ سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا ،حضور نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی تھیں اور انہیں آپﷺ کے ارشادات سننے کا بہت زیادہ موقع ملا۔ حضرت علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما کی اولاد میں سے حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کو صحابیت کا شرف حاصل تھا۔ حضرت امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما کی اولادِ پاک کو اپنے بزرگوں سے حضور نبی اکرم ﷺ کی احادیث سننے کا موقع ملا تھا او رانہوں نے ان احادیث کو اُمت تک پہنچانے میں کوئی کسر رَوا نہ رکھی۔ بعض نے احادیث کی باقاعدہ تدریس کے فرائض سرانجام دیے اور ان سے اَن گنت تلامذہ نے اکتساب فیض کیا۔ بعض محدثین نے ان سے احادیث کتابت کرکے محفوظ کر لیں اور کچھ حدیث سے محبت رکھنے والوں نے بڑی تعداد میں ان ائمہ عظام سے احادیث سن کر حفظ کر لیں اور انہیں آئندہ نسل تک پہنچایا۔ زیرِ نظر مقالہ میں’’ ائمہ اہل بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی خدمات فی الحدیث‘‘ کا ایک تحقیقی جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ 
سیّدنا علی المرتضیٰ بن ابی طالب رضی اﷲعنہ:
حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ ،حضور نبی کریم ﷺ کے عم زاد تھے۔ آپؓ کو بچوں میں سب 

* صدر شعبہ عربی و علوم اسلامیہ، جی سی یونیورسٹی لاہور 

سے پہلے اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل ہے۔ حضور نبی اکریم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں تبلیغ اسلام میں اور اُمور ریاست میں نمایاں کردار ادا کیا۔ غزوات میں بہادری کے جوہر دکھائے۔ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد خلفائے ثلاثہ کے ادوار میں قرآن و حدیث کے علوم سے عوام الناس کو بہروہ ر کرتے رہے۔ حضرت عثمان  رضی اﷲعنہ کی شہادت کے بعد مسلمانوں کے خلیفہ منتخب ہوئے۔ 
حضرت علی  رضی اﷲعنہ احادیث لکھ لیا کرتے تھے۔ آپؓ کے پاس تحریری احادیث کا ایک مجموعہ موجود تھا جو’’ صحیفۂ علی(علیہ السلام) ‘‘ کے نام سے مشہور تھا۔ کتبِ احادیث میں اس صحیفہ کا ذکر متعدد روایات میں ہے۔ امام بخاریؒ نے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت علی  رضی اﷲعنہ نے فرمایا:
مَا عِنْدَنَا شَیئٌ اِلاَّ کِتَابُ اللّٰہِ وَ ھٰذِہِ الصَّحِیْفَۃ عَنِ النَّبِيّ ﷺ (۱)
’’ہمارے پاس کچھ نہیں سوائے کتاب اللہ (قرآن مجید) اور اس صحیفہ کے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہے۔‘‘
امام بخاریؒ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ایک اور روایت یوں بیان کی ہے:
مَا کَتَبْنَا عَنِ النَّبِیِّ ﷺاِلاَّ الْقُرْاٰنَ وَمَا فِی الصَّحِیْفَۃِ۔ (۲)
’’ہم نے نبی اکرم ﷺ سے کچھ نہیں سیکھا سوائے قرآن مجید اور اس چیز کے جو اس صحیفے میں ہے۔‘‘
حضرت علی   رضی اﷲعنہ کے متعلق صحیح بخاری میں یہ روایت بھی ملتی ہے کہ ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن ابی طالب   رضی اﷲعنہ سے پوچھا: کیا آپ کے پاس کوئی کتاب ہے؟ کہا: نہیں بجز کتاب اللہ (قرآن) کے یا ایسی سمجھ کے جو کسی مسلمان کو حاصل ہو، اور جو کچھ اس صحیفے میں ہے۔ ابو حنیفہ کہتے ہیں میں نے پوچھا: تو پھر اس صحیفے میں کیا ہے؟ کہا: خون بہا اور قیدیوں کو رہا کرانے (کے قواعد) ،اور کہا: اس میں زخم کے ہر جانے کے قواعد (جراحات) اونٹوں کی عمریں (بغرض زکوٰۃ) ہیں اور یہ درج ہے کہ مدینہ جبل عیر سے فلاں مقام تک حرم ہے، جو کوئی وہاں قتل کا ارتکاب کرے یا قاتل کو پنا دے تو اس پر اللہ، فرشتوں، انسانوں سب ہی کی لعنت ہے۔ (قیامت کے دن) اس سے کوئی رقمی معاوضہ یا بدلہ قبول نہیں کیا جائے گا اور جو معاہداتی بھائی اپنے معاہداتی بھائی(فریق ثانی)کے اجازت کے بغیر کسی اور گروہ سے معاہداتی بھائی چارہ اختیار کرے تو اس پر بھی اِسی طرح (لعنت) ہے۔ مسلمانوں (میں سے ہر ایک) کی ذمہ داری ایک ہی ہے (یعنی ایک کا دیا ہوا امن سب پر پابندی عائد کرتا ہے) ،جو کسی مسلمان سے عہد شکنی کرے تو اس پر بھی اسی طرح (لعنت) ہے۔ (۳)

ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے مطابق غالباً اس سے مراد دستورِ مدینہ ہے جو، سن۱ھ میں رسول اللہ ﷺ نے نافذ فرمایا۔ محولہ قواعد اس میں موجود ہیں۔ (۴)
اس واقعہ کی ایک روایت ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے ’’مصنف‘‘ عبدالرزاق بن ہمام الصنعانی سے نقل کی ہے جو یوں ہے:
’’ جعفر بن محمد نے اپنے باپ سے اور انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی ہے کہ انہیں رسول اللہ ﷺ کی تلوار کے قبضے پر ایک صحیفہ بندھا ہوا ملا۔ اس میں یہ بھی تھا کہ اللہ پر سب سے زیادہ گراں وہ شخص گزرتا ہے جو ایسے آدمی کو قتل کرے جو اُسے قتل کرنے نہ آ رہا ہو اور ایسے آدمی کو مار پیٹ کرے جو اسے مار پیٹ نہ کر رہا ہو او ریہ کہ جو کسی قاتل کوپناہ دے تو قیامت کے دن اللہ اس سے کوئیر قمی معاوضہ یا بدلہ قبول نہ کرے گا۔‘‘(۵)
حضرت علی رضی اﷲعنہاپنے اس صحیفے کو بڑی حفاظت اور نہایت اہتمام سے اپنے پاس رکھتے تھے اور اپنی مجالس و خطبات میں اس کے مضامین بیان فرمایا کرتے تھے ۔امام بخاری ؒ روایت کردہ ایک حدیث کے الفاظ درج ذیل ہیں:
خَطَبْنَا عَلِیٌّ فَقَالَ مَا عِنْدَنَا کِتَابٌ نَقْرَأُہٗ اِلاَّ کِتَابُ اللّٰہِ تَعَالٰی وَمَا فِیْ ھٰذِہِ الصَّحِیْفَۃِ فَقَالَ فِیْھَا الجرَاحَات وَا أَسْنَانُ الْاِبِلِ وَالْمَدِیْنَۃ حَرَمٌ۔ (۶)
’’حضرت علی رضی اﷲعنہ نے ہمارے سامنے خطبہ دیا۔ پس انہوں نے فرمایا: ہمارے پاس کوئی کتاب نہیں جو ہم پڑھتے ہوں، سوائے اللہ تعالیٰ کی کتاب (قرآن مجید) کے اور ان احادیث کے جو اس صحیفے میں ہیں، پھر فرمایا کہ اس میں زخموں کی دیت (کے احکام) اور اُونٹوں کی عمریں ہیں اور یہ کہ مدینہ منورہ حرم ہے۔‘‘
سنن ابی داؤد میں روایت کردہ حدیث کے مطابق حضرت علی رضی اﷲعنہ سے مروی ہے:
ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بجز قرآن اور اس چیز کے جو اس صحیفے میں ہے، کچھ نہیں لکھا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مدینہ جبل عیر سے جبل ثور تک ایک حرم ہے جو کوئی قتل کا ارتکاب کرے یا قاتل کو پناہ دے تو اس پر اللہ، فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے۔ اس سے کوئی بدلہ یا رقمی معاوضہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ جو کسی مسلمان سے عہد شکنی کرے تو اس پر اللہ، فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے اور جو معاہداتی بھائی اپنے معاہداتی بھائی کی اجازت کے بغیر کسی اور گروہ سے معاہداتی بھائی چارہ اختیار کرے تو اس پر اللہ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے۔ اس سے کوئی بدلہ یا رقمی معاوضہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ (۷)

مذکورہ بالا روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ’’ صحیفۃ علیؓ ‘کافی طویل تھا اور وہ کم از کم چار سرکاری دستاویز کا مجموعہ تھا، یعنی جدولِ زکوٰۃ، مدینے کو حرم قرار دینے کا اعلان، دستورِ مدینہ اور خطبہ حجۃ الوداع۔ (۸)
’’ صحیفۃ علی ؓ ‘‘ اُن کے وصال کے بعد اُن کے صاحبزادے محمد بن حنفیہؓ کے پاس آیا، پھر امام جعفر صادق رضی اللہ عنہم کے پاس آیا اور انہوں نے حارث کو لکھ کردیا۔ 
حضرت علی رضی اللہ عنہم حدیث نبوی کا وسیع علم رکھتے تھے۔ ان کی روایات یکجا بھی ملتی ہے۔ مثلاً مسند احمد بن حنبل، المعجم الکبیر للطبرانی، المستدرک للحاکم۔ بعض حضرات نے حضرت علی رضی اللہ عنہم سے مروی احادیث الگ جمع کرکے ’’مسند علی ؓ ‘‘ نام رکھا ہے۔ 
حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ نے احادیث لکھائی بھی تھیں۔ انہوں نے ایک دن کوفہ کی مسجد میں فرمایا: کون ہے جو میرا علم ایک درہم میں حاصل کرنا چاہتا ہے۔ الحارث الاعوار دوڑ کر بازار گیا اور ایک درہم کا کاغذ خرید لایا ۔ 
فکتب لہ علمًا کثیرًا۔(۹) ’’آپ نے انہیں ان کاغذوں پر بہت سا علم لکھ دیا۔ ‘‘
ابن سعد کے مطابق حُر بن عدی کے پاس بھی حضرت علی رضی اللہ عنہم کی لکھائی ہوئی چیزوں کا ایک پورا رسالہ (صحیفہ) تھا۔ (۱۰)
حضرت علی رضی اللہ عنہم سے مروی روایات کے متعلق ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے:
روی عن النبي ﷺ وعن أبي بکر و عمر و المقداد بن الأسود و زوجتہ فاطمۃ رضی اللہ عنہا بنت رسول ﷺ ۔ (۱۱)
’’آپ نے نبی کریم ﷺ، حضرت ابوبکر صدیق،ؓ عمر فاروق ؓ ، مقداد بن ا لأسودؓ اور اپنی زوجہ محترمہ سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے جو رسول ﷺ کی صاحبزادی ہیں۔‘‘
حضرت علی رضی اللہ عنہم سے احادیث روایت کرنے والوں میں سے ابن حجر عسقلانی نے ستر سے زیادہ اسماء گنوائے ہیں۔ (۱۲) جن میں سے آپؓ کی اولادِ پاک کے علاوہ، صحابہ کرامؓ اور تابعینؓ شامل ہیں۔

سیّدنا امام حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما:
سیّدنا امام حسنؓ حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ اور حضرت سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے فرزندِ ارجمند اور حضور نبی کریم ﷺ کے نواسے تھے۔ آپؓ کی کنیت بالاتفاقِ علماء’’ ابو محمد‘‘ ہے۔ آپؓ کی ولادت باسعادت کے متعلق ابی الفرج الاصفہانی (م۳۵۶ھ) نے لکھا ہے:
وکان مولد الحسن فی سنۃ ثلاث من الھجرۃ۔ (۱۳)
’’حضرت حسن رضی اﷲعنہ ہجرت کے تیسرے سال میں پیدا ہوئے تھے۔‘‘
ماہِ ولادت کے حوالے سے مؤرخین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ امام محمد بن احمد بن عثمان الذھبی (م۷۴۸ھ) رقمطراز ہیں:
مولدہ فی شعبان سنۃ ثلاثٍ من الھجرۃ۔ وقیل: فی نصف رمضانھا۔ (۱۴)
’’ان کی ولادت ہجرت کے تیسرے سال شعبان میں ہوئی اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس سال نصف رمضان میں ہوئی۔ ‘‘
لیکن ابن جوزی (م۵۹۷ھ) نے رمضان المبارک حضرت امام حسن رضی اللہ عنہم کا ماہِ ولادت قرار دیتے ہوئے لکھا ہے: 
’’ولد في النصف من رمضان سنۃ ثلاثٍ من الھجرۃ۔‘‘(۱۵)
’’آپ نصف رمضان ۳ہجری کو پیدا ہوئے تھے۔‘‘
ابن اثیر کے مطابق ان کا نام’’ حسن‘‘ نبی کریم ﷺ نے رکھا اور ساتویں دن آپ ﷺ نے ان کاعقیقہ کیا اور حکم دیا کہ ان کے بال منڈوائے اور حکم دیا کہ اور ان کے بالوں کے ہم وزن چاندی خیرات کی جائے۔ (۱۶)
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہم کے فضائل متعدد احادیث میں مرقوم ہیں:
۱۔ حضرت انس 3 فرماتے ہیں:
کان أشبھھم بالنبي علیہ السلام الحسنؓ بن عليؓ۔(۱۷)
’’حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہم نبی کریم ﷺ سے بہت ہی مشابہ تھے۔‘‘
ایک دوسری روایت میں ہے:
الحسنُ أشبہ الناس برسول اللّٰہﷺ ما بین الصدر اِلی الرأس، والحسینؓ أشبہ بہ ما کان أسفل من ذلک۔ (۱۸)
’’حضرت حسن رضی اللہ عنہم کورسول اللہ سے مشابہت حاصل تھی سینہ سے سر تک اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کو سینہ سے قدمہائے مبارک تک مشابہت حاصل تھی۔‘‘
۲۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہم سے مروی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الحسنؓ والحسینؓ سید ا شباب أھل الجنۃ۔ (۱۹)
’’حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما جنتیوں کے سردار ہیں۔‘‘
۳۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الحسنؓ والحسینؓ ھماریحانتای من الدنیا۔ (۲۰)
’’حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما دونوں میری دنیا کی خوشبو (بہار) ہیں۔ ‘‘
۴۔ حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے اپنے نواسے امام حسن رضی اﷲعنہ کے لیے یوں دعا فرمائی:
اللھم اِني احبُّہ فاحبَّہ وأحبَّ مَن ےُحبُّہ۔ (۲۱)
’’اے اللہ اس کو دوست رکھتا ہوں تو دوست رکھ اور جو اس سے محبت رکھتا ہے اُسے دوست رکھ۔‘‘
۵۔ سلمہ بن وھرام، عکرمہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت حسن رضی اﷲعنہ کو کندھے پر سوار کیے گلی میں تشریف لے جا رہے تھے۔ کسی نے کہا: ’’یا غلام! نعم المرکب رکبت‘‘ (اے بچے! تو اچھی سواری پر سوار ہوا)۔ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا: ونعم الراکب ھو (۲۲) ’’اور سوار بھی اچھا ہے۔‘‘
۶۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے:

رأیت رسول اللّٰہ ﷺ علی المنبر والحسن اِلی جنبہ وھو یقول: اِن ابني ھذا سیّدٌ ، ولعلَّ اللّٰہ أن ےُصلح بہ بین فئتین من المسلمین۔ (۲۳)
’’میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر دیکھا، آپ کے ساتھ حضرت حسن رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے تھے اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا: میرا یہ بیٹا سردار ہے۔ اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرا دے گا۔‘‘
جب ۱۷؍ رمضان المبارک ۴۰ھ کو حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کی شہادت ہوئی تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے۔ اُن کے ہاتھ پر چالیس ہزار سے زیادہ آدمیوں نے جان دینے کے اقرار پر بیعت کی تھی۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ قریباً سات ماہ تک عراق، خراسان، حجاز اور یمن وغیرہ کے خلیفہ رہے اور پھر اپنے نانا جان ﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق معاویہؓ بن ابی سفیان کے حق میں خلافت سے دستبردار ہو گئے۔ علامہ ابن کثیر علیہ الرحمہ نے لکھا ہے:
’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ خلافت میرے بعد تیس سال رہے گی۔ چنانچہ حضرت حسن،ؓ حضرت معاویہؓ کے حق میں ربیع الاول ۴۱ھ میں دستبردار ہوئے اور آنحضرتﷺکی وفات سے اس دن تک تیس سال پورے ہوتے ہیں۔ ‘‘ (۲۴)
’’ تفسیر واحدی‘‘ میں امام حسن رضی اللہ عنہ کی ذہانت کے بارے میں لکھا ہے کہ ایک شخص نے بیان کیا کہ میں مدینہ کی مسجد میں آ کر دیکھتا ہوں کہ ایک شخص جماعتِ کثیرہ میں بیٹھا ہوا آنحضرتﷺ کی حدیث بیان کر رہا ہے۔ میں نے اس محدث سے پوچھا کہ شاہد اور مشھود کے معانی بیان کیجیے۔ اُس نے فرمایا کہ شاہد سے مراد جمعہ کا دن اور مشھود سے عرفہ کا دن مقصود ہے۔ پس میں اور لوگوں کے پاس جو اسی مسجد میں وعظ بیان فرما رہے تھے، گیا اور اُن سے دونوں لفظوں (شاہد و مشہود) کے معنے پوچھے۔ انہوں نے بھی اُسی کے قریب قریب بیان کیا جو پہلے محدث نے بیان کیا تھا یعنی شاہد جمعہ کا دن ہے اور مشہود قربانی کا دن، پھر میں وہاں سے ایک اور جوان شخص کے پاس گیا جس کا چہرہ نورانی تھا، جو لوگوں کو وعظ کر رہا تھا اور اُن سے دونوں لفظوں کے معانی دریافت کیے۔ اس جوان نے جواب دیا: اے سائل ! شاہد محمد ہیں اور مشہود قیامت کا دن۔ کیا تو نے نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے پاک رسول ﷺسے خطاب فرمایا ہے: اِنا ارَسلنٰک شاھدًا ومبشراً و نذیراً(یعنی اے پیغمبر! ہم نے تمہیں شاہد حالِ خلائق اور مسلمانوں کو جنت کی خوشخبری، کافروں کو دوزخ سے ڈرانے کے لیے بھیجا ہے)، اور دوسری جگہ حق سبحانہ فرماتا ہے، ذلک یوم مجموع لہ النّاس وذلک یوم مشھود(یعنی قیامت کا وہ دن ہے جس کے لیے سب لوگ جمع ہوں گے اور وہ دن حاضر کیا گیا ہے)۔ پس قرآن مجید کی اِن دونوں آیتوں کے ملانے سے یہ بات بخوبی ثابت ہو گئی کہ شا ہد پیغمبر خدا ﷺ ہیں اور مشہود قیامت کا دن۔ یہ سن کر میں وہاں سے چل دیا اور لوگوں سے ان تینوں صاحبوں کے نام دریافت کیے۔ حاضرین نے کہا جس سے پہلے تو نے پوچھا تھا وہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ ہیں اور دوسرے مسؤل حضرت عبداللہ بن عمرؓ ہیں او رتیسرے صاحب کا نام مبارک حضرت حسن بن علی ہے، رضی اللہ عنہم اجمعین۔ (۲۵)
حضرت امام حسن  رضی اللہ عنہما سات برس کے تھے کہ جب حضور نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا۔ چونکہ حضور نبی اکرم ﷺ کے انتہائی قریب رہے اس لیے صغیر سنی کے باوجود انہیں بعض احادیث یاد تھیں جو انہوں نے براہِ راست اپنے نانا جان سے سنی تھیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے والد گرامی حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اﷲعنہاور دیگر صحابہ سے بھی احادیث سنی ہوں گی۔ 
حضرت امام حسن  رضی اللہ عنہماجب براہِ راست حضور نبی ﷺسے روایت کرتے ہیں تو اُن کا شمار اصاغر صحابہ کرامؓ میں ہوتا ہے۔ حضرت امام حسن رضی اﷲعنہ سے ایسی روایات کی تین مثالیں نقل کی جاتی ہیں جو ابن اثیر نے’’ اسد الغابہ ‘‘میں رقم کی ہیں:
۱۔ ہمیں ابوجعفر احمد بن علی نے اور کئی ایک آدمیوں نے خبر دی ،وہ کہتے ہیں کہ ہمیں الفتح کروخی نے اپنی سند سے ابوعیسیٰ یعنی محمد بن عیسیٰ ترمذی تک خبر دی، وہ کہتے تھے ہمیں ابوالاحواص نے ابواسحاق سے انہوں نے یزید بن ابی مریم سے ،انہوں نے ابوالحوراء سے روایت کرکے خبر دی کہ وہ کہتے تھے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما فرماتے تھے، مجھے رسول اللہ ﷺ نے چند کلمات تعلیم فرمائے تھے جن کو میں و تر (کی دعائے قنوت) میں پڑھ لیا کرتا ہوں۔ (وہ کلمات یہ ہیں):
اللھم اھدنی فیمن ھدیت وعافنی فیمن عافیت و تولنی فیمن تولیت وبارک لی فیما اعطیت وقنی شرما قضیت فانک تقضی ولا یقضی علیک وانہ لایذل من والیت تبارکت ربنا و تعالیت۔ (۲۶)
۲۔ ہمیں ابواحمد یعنی عبدالوہاب بن سکینہ نے خبر دی ،وہ کہتے تھے ہمیں محمد بن علی سلامی نے خبر دی، وہ کہتے تھے ہمیں ابن ابی الصقر نے خبر دی، وہ کہتے تھے ہمیں ابوالبرکات بن نطیف نے خبر دی، وہ کہتے تھے ہمیں حسن بن شیق نے خبر دی، وہ کہتے تھے ابوالبشر دولانی نے خبر دی، وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، وہ کہتے تھے ہمیں محمد بن جعفر نے خبر دی، وہ کہتے تھے ہمیں شعبہ نے خبر دی ،نیز ابوالبشر کہتے تھے ہمیں یزید بن ابی مریم نے ابوالحوراء سے نقل کرکے خبر دی کہ وہ کہتے تھے میں نے حضرت حسنؓ بن علیؓ سے عرض کیا کہ آپ کو رسول اللہ ﷺ کی کچھ باتیں یاد ہوں (تو بیان کیجیے) انہوں نے کہا مجھے رسول اللہ ﷺ کی ایک بات یہ یاد ہے کہ میں نے (ایک مرتبہ) صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لے کر اپنے منہ میں رکھ لی تھی۔ آنحضرت ﷺ نے اس کو (میرے منہ سے) نکال لیا اس حال میں کہ اس میں میرا کھجوروں میں ملا دیا۔ کسی نے کہا یا رسول اللہ! ایک کھجور کی کیا بات تھی؟ (آپ نے کھا لینے دیا ہوتا) آپ ﷺ نے فرمایا:
’’ ہمارے لیے یعنی آل محمد (ﷺ) کے لیے صدقہ حلال نہیں۔ ‘‘(۲۷)
۳۔ ہمیں عبداللہ بن احمد بن محمد بن عبدالقاہر نے خبر دی، وہ کہتے تھے ہمیں محمد یعنی جعفر بن حسین قاری نے خبر دی، وہ کہتے تھے ہمیں عبید اللہ بن عمر نے خبر دی، وہ کہتے تھے ہمیں عبداللہ بن ابراہیم بن ایوب نے خبر دی، وہ کہتے تھے ہمیں موسیٰ بن اسحاق نے خبر دی، وہ کہتے تھے ہمیں خالد عمری نے خبر دی، وہ کہتے تھے ہمیں سفیان ثوری نے سعد بن طریف سے، انہوں نے عمیر بن مامون سے روایت کرکے خبر دی کہ وہ کہتے تھے میں نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہتے تھے میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص نماز فجر پڑھ کر اپنے مصلیٰ پر بیٹھا رہے یہاں تک کہ آفتاب نکل آئے تو یہ کام اُس کے لیے دوزخ سے حجاب ہو جائے گا یا فرمایا کہ دوزخ سے ایک پردہ ہو جائے گا۔ (۲۸)
ابن حجر عسقلانی (م ۵۸۴ھ):
روی عن جدہ رسول اللّٰہ ﷺ وأبیہ علی وأخیہ حسین وخالہ ھند بن أبي ھالۃ۔(۲۹)
ابن اثیر امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے احادیث روایت کرنے والوں کے متعلق رقمطراز ہیں:
’’حضرت حسن سے ام المؤمنین سیّدہ عائشہؓ اور شعبی اور سوید بن غفلہ اور شفیق بن سلمہ اور ہبیرہ بن یریم اور مسیب بن نجبہ اور اصبع بن نیاتہ اور ابوالحوراء اور معاویہ بن حدیج اور اسحق بن بشار اور محمد بن سیرین وغیرہم نے روایت کی ہے۔‘‘ (۳۰)
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کرنے والوں کے نام امام ابن حجر عسقلانی بھی بتائے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’وعنہ ابنہ الحسن و عائشۃ أم المؤمنین و أبوالجوزاء ربیعۃ بن شیبان وعبداللہ و أبو جعفر ابنا علی بن الحسین و جبیربن نفیر و عکرمۃ مولی ابن عباس و محمد بن سیرین وأبو مجلز لاحق ابن حمید و ھبیرۃ بن یریم و سفیان بن اللیل و جماعۃ۔‘‘(۳۱)
اس کا بھی ثبوت ملتا ہے کہ امام حسن بصری علیہ الرحمہ نے حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے خط و کتابت کی۔ وہ عریضہ جو خواجہ حسن بصریؓ نے نواسۂ رسول حضرت امام حسنؓ کی خدمت میں بھیجا اور اُن سے’’ قدریوں‘‘ کے بارے میں اُن سے فتویٰ معلوم کیا اور اُس کے جواب میں لکھا جانے والا مکتوب دونوں حضرت علی بن عثمان ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے کشف المحجوب میں نقل کیا ہے۔ (۳۲)
حضرت زید بن حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہم:
حضرت امام حسن کے فرزندِ ارحمند حضرت زیدؓ کی والدہ اُم بشیر بنت ابی مسعود تھیں۔ عبدالرحمن بن ابی الموال سے مروی ہے کہ میں نے زید بن حسنؓ کو دیکھا کہ سوار ہو کر سوق الظہر میں آتے اور وہاں ٹھہرتے، لوگ اُن کی طرف دیکھ کر اُن کے عظیم الشان اخلاق سے تعجت کرتے اور کہتے:
جدہ رسول اللّٰہ ﷺ۔ (۳۳) (ان کے جد رسول اللہ ﷺ ہیں) ۔آپ کی خاندانی شرافت و عظمت اور تبحر علمی کے باعث بڑے بڑے عالم و فاضل ان کی زیارت کو آتے اور ان کی ملاقات کو فخر کا باعث جانتے تھے۔ عمر بن عبدالعزیزؓ جیسا شخص آپؓ کی تعظیم میں بکثرت مبالغہ کرتا تھا۔ (۳۴) ابن سعد کے مطابق حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ نے ابوبکر بن حزم کے ذریعے دس ہزار دینار جتنی خطیر رقم بنی ہاشم میں تقسیم کرنے کا حکم دیا اور مرد اور عورت، صغیر و کبیر میں مساوات سے کام لینے کا حکم صادر کیا۔ ابوبکر بن حزم نے ایسا ہی کیا۔ اس پر زید بن حسنؓ ،ابوبکر سے ناراض ہوئے کہ عمر میرے اور میرے بچوں کے درمیان مساوات کرتے ہیں۔ ابوبکر نے کہا کہ آپ کی جانب سے یہ گفتگو امیر المؤمنین کو نہیں پہنچنی چاہیے کہ وہ ناراض ہوں۔ آپ لوگوں کے بارے میں اب تک اُن کی رائے اچھی ہے۔ زید نے کہا میں خدا کے واسطے تم سے درخواست کرتا ہوں کہ انہیں لکھ دو اور اس سے آگاہ کر دو۔ ابوبکر نے عمر کو لکھا کہ زید بن حسنؓ نے ایسی بات کہی جس میں سختی تھی اور زید نے جو کچھ کہا اُس سے عمر کو آگاہ کر دیا۔ لیکن عمر بن عبدالعزیزؓ اس پر بھی ناراض نہ ہوئے۔ ابن سعد لکھتا ہے۔ 
فلم یبالِ عمر و ترکہ (۳۵)
’’عمر نے اُن کی شکایت و سخت کلامی کی پروا نہ کی اور انہیں چھوڑ دیا۔‘‘
عبداللہ بن ابی عبیدہ سے مروی ہے کہ جس روز زید بن حسنؓ کا انتقال ہوا ، میں اپنے والد کے ہمراہ سوار ہو کر گیا۔ اُن کی وفات مدینے سے چند میل کے فاصلے پر’’ بطحاء ابن ازہر‘‘ میں ہوئی۔ انہیں اٹھا کر مدینہ طیبہ لایا گیا اور بقیع میں دفن کیا گیا۔ (۳۶) وصال کے وقت اُن کی عمر نوے برس تھی۔ (۳۷)
حضرت زید بن حسنؓ نے اپنے والد اور بہت سے صحابہ کرامؓ سے روایت احادیث کی اور ہزاروں تابعین نے آپ سے احادیث روایت کی ہیں۔ (۳۸) محمد بن عمر کہتےلعاب (دہن) مل چکا تھا اور اس کو صدقہ کی 

کھجوروں میں ملا دیا۔ کسی نے کہا یا رسول اللہ! ایک کھجور کی کیا بات تھی؟ (آپ نے کھا لینے دیا ہوتا) آپ ﷺ نے فرمایا:
’’ ہمارے لیے یعنی آل محمد (ﷺ) کے لیے صدقہ حلال نہیں۔ ‘‘(۲۷)
۳۔ ہمیں عبداللہ بن احمد بن محمد بن عبدالقاہر نے خبر دی، وہ کہتے تھے ہمیں محمد یعنی جعفر بن حسین قاری نے خبر دی، وہ کہتے تھے ہمیں عبید اللہ بن عمر نے خبر دی، وہ کہتے تھے ہمیں عبداللہ بن ابراہیم بن ایوب نے خبر دی، وہ کہتے تھے ہمیں موسیٰ بن اسحاق نے خبر دی، وہ کہتے تھے ہمیں خالد عمری نے خبر دی، وہ کہتے تھے ہمیں سفیان ثوری نے سعد بن طریف سے، انہوں نے عمیر بن مامون سے روایت کرکے خبر دی کہ وہ کہتے تھے میں نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہتے تھے میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص نماز فجر پڑھ کر اپنے مصلیٰ پر بیٹھا رہے یہاں تک کہ آفتاب نکل آئے تو یہ کام اُس کے لیے دوزخ سے حجاب ہو جائے گا یا فرمایا کہ دوزخ سے ایک پردہ ہو جائے گا۔ (۲۸)
ابن حجر عسقلانی (م ۵۸۴ھ):
روی عن جدہ رسول اللّٰہ ﷺ وأبیہ علی وأخیہ حسین وخالہ ھند بن أبي ھالۃ۔(۲۹)
ابن اثیر امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے احادیث روایت کرنے والوں کے متعلق رقمطراز ہیں:
’’حضرت حسن سے ام المؤمنین سیّدہ عائشہؓ اور شعبی اور سوید بن غفلہ اور شفیق بن سلمہ اور ہبیرہ بن یریم اور مسیب بن نجبہ اور اصبع بن نیاتہ اور ابوالحوراء اور معاویہ بن حدیج اور اسحق بن بشار اور محمد بن سیرین وغیرہم نے روایت کی ہے۔‘‘ (۳۰)
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کرنے والوں کے نام امام ابن حجر عسقلانی بھی بتائے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’وعنہ ابنہ الحسن و عائشۃ أم المؤمنین و أبوالجوزاء ربیعۃ بن شیبان وعبداللہ و أبو جعفر ابنا علی بن الحسین و جبیربن نفیر و عکرمۃ مولی ابن عباس و محمد بن سیرین وأبو مجلز لاحق ابن حمید و ھبیرۃ بن یریم و سفیان بن اللیل و جماعۃ۔‘‘(۳۱)
اس کا بھی ثبوت ملتا ہے کہ امام حسن بصری علیہ الرحمہ نے حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے خط و کتابت کی۔ وہ عریضہ جو خواجہ حسن بصریؓ نے نواسۂ رسول حضرت امام حسنؓ کی خدمت میں بھیجا اور اُن سے’’ قدریوں‘‘ کے بارے میں اُن سے فتویٰ معلوم کیا اور اُس کے جواب میں لکھا جانے والا مکتوب دونوں حضرت علی بن عثمان ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے کشف المحجوب میں نقل کیا ہے۔ (۳۲)
حضرت زید بن حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہم:
حضرت امام حسن کے فرزندِ ارحمند حضرت زیدؓ کی والدہ اُم بشیر بنت ابی مسعود تھیں۔ عبدالرحمن بن ابی الموال سے مروی ہے کہ میں نے زید بن حسنؓ کو دیکھا کہ سوار ہو کر سوق الظہر میں آتے اور وہاں ٹھہرتے، لوگ اُن کی طرف دیکھ کر اُن کے عظیم الشان اخلاق سے تعجت کرتے اور کہتے:
جدہ رسول اللّٰہ ﷺ۔ (۳۳) (ان کے جد رسول اللہ ﷺ ہیں) ۔آپ کی خاندانی شرافت و عظمت اور تبحر علمی کے باعث بڑے بڑے عالم و فاضل ان کی زیارت کو آتے اور ان کی ملاقات کو فخر کا باعث جانتے تھے۔ عمر بن عبدالعزیزؓ جیسا شخص آپؓ کی تعظیم میں بکثرت مبالغہ کرتا تھا۔ (۳۴) ابن سعد کے مطابق حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ نے ابوبکر بن حزم کے ذریعے دس ہزار دینار جتنی خطیر رقم بنی ہاشم میں تقسیم کرنے کا حکم دیا اور مرد اور عورت، صغیر و کبیر میں مساوات سے کام لینے کا حکم صادر کیا۔ ابوبکر بن حزم نے ایسا ہی کیا۔ اس پر زید بن حسنؓ ،ابوبکر سے ناراض ہوئے کہ عمر میرے اور میرے بچوں کے درمیان مساوات کرتے ہیں۔ ابوبکر نے کہا کہ آپ کی جانب سے یہ گفتگو امیر المؤمنین کو نہیں پہنچنی چاہیے کہ وہ ناراض ہوں۔ آپ لوگوں کے بارے میں اب تک اُن کی رائے اچھی ہے۔ زید نے کہا میں خدا کے واسطے تم سے درخواست کرتا ہوں کہ انہیں لکھ دو اور اس سے آگاہ کر دو۔ ابوبکر نے عمر کو لکھا کہ زید بن حسنؓ نے ایسی بات کہی جس میں سختی تھی اور زید نے جو کچھ کہا اُس سے عمر کو آگاہ کر دیا۔ لیکن عمر بن عبدالعزیزؓ اس پر بھی ناراض نہ ہوئے۔ ابن سعد لکھتا ہے۔ 
فلم یبالِ عمر و ترکہ (۳۵)
’’عمر نے اُن کی شکایت و سخت کلامی کی پروا نہ کی اور انہیں چھوڑ دیا۔‘‘
عبداللہ بن ابی عبیدہ سے مروی ہے کہ جس روز زید بن حسنؓ کا انتقال ہوا ، میں اپنے والد کے ہمراہ سوار ہو کر گیا۔ اُن کی وفات مدینے سے چند میل کے فاصلے پر’’ بطحاء ابن ازہر‘‘ میں ہوئی۔ انہیں اٹھا کر مدینہ طیبہ لایا گیا اور بقیع میں دفن کیا گیا۔ (۳۶) وصال کے وقت اُن کی عمر نوے برس تھی۔ (۳۷)
حضرت زید بن حسنؓ نے اپنے والد اور بہت سے صحابہ کرامؓ سے روایت احادیث کی اور ہزاروں تابعین نے آپ سے احادیث روایت کی ہیں۔ (۳۸) محمد بن عمر کہتے ہیں:
وقد روی زید عن جابر بن عبداللّٰہ (۳۹)’’زید نے جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے۔‘‘
حضرت زید بن حسنؓ کی اولاد میں بھی بعض اہم رواۃ ہستیاں شامل ہیں۔ ان کے ایک صاحبزادے ابو محمد حسنؓ بن زیدؓ تھے۔ انہوں نے تابعین کے ایک جم غفیر اور انبوہِ کثیر سے بہت سی حدیثیں روایت کیں اور خلق کثیر کو پہنچائیں۔ اُن کا پچاسی برس کی عمر میں ۱۶۸ھ میں مدینہ سے پانچ میل دور مکہ کی طرف’’ حاجر ‘‘کے مقام پر وصال ہوا۔ آپؓ کے سات صاحبزادے تھے جن میں سب سے بڑے زید بن حسن بن زید بن حسن بن علی رضی اللہ عنہم باقی رہے اور ایک دختر نفیسہ بڑی فاضلہ اور فقیہ تھیں۔ (۴۰) 
ایک روایت ہے کہ نفیسہ بنت زید سے ولید بن عبدالملک بن مروان سے نکاح کیا تھا۔ (۴۱) یہ بات مشہور ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ بھی ان کے شاگرد تھے اور اکثر اوقات ان کی شاگردی پر فخر کیا کرتے تھے۔ ان کی قبر مصر میں مشہور اور خلائق کی زیارت گاہ ہے۔ (۴۲)
ابن سعد (م۲۳۰ھ) نے حسن بن زید رضی اللہ عنہما کے بارے میں لکھا ہے:
کانت عندہ أحادیث وکان ثقۃ۔(۴۳)
’’آپ کے پاس احادیث مبارکہ تھیں اور آپ ثقہ تھے۔‘‘
امام نسائی نے حسن بن زید رضی اللہ عنہما سے درج ذیل حدیث روایت کی ہے: 
ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے مطابق امام بخاریؒ ابن ابی حاتم، ابنِ ماکولا اور مزی نے امام حسن بن زید کے ترجمہ میں بیان کیا ہے کہ آپ نے درج ذیل اکابر تابعین سے احادیثِ مبارکہ روایت کی ہیں:
۔ اپنے والد زید بن حسن مجتبیٰ ۔ چچا کے بیٹے عبداللہ بن حسن 
۔ عکرمہ مولیٰ ابن عباس ۔ معاویہ بن عبداللہ بن جعفر
۔ المطلب بن عبداللہ ۶۔ عبداللہ بن ابی بکر بن حزم
۷۔ مسلم بن ریاح مولیٰ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم ۔(۴۴)
امام حسن بن زید کا شمار امام اعظم ابوحنیفہؓ کے شیوخ میں کیا جاتا ہے۔ 
امام حسن بن الحسن بن علی بن ابی طالب الملقب حسن مثنیٰ رضی اللہ عنہم 
امام حسن مجتبیٰ  کے صاحبزادے ہیں جو بڑے عالم فاضل اور زاہد تھے۔ امام حسین شہید کربلا  کی چھوٹی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے آپؓ کی شادی ہوئی۔ حسن مثنیٰ ؓ اپنے عم محترم حضرت امام حسین رضی اللہ عنہم  کے ساتھ معرکۂ کربلا میں حاضر تھے اور زخموں سے چور ہو کر واقعہ کربلا کے بعد اہل بیتؓ کے زندانیوں میں تشریف رکھتے تھے مگر اسماء بنت الحکم الضراری نے انہیں قیدیوں میں سے نکال کر کہا:’’ان کو صرف ان کے بھانچے ابی جیان کی خاطر چھوڑ دو‘‘۔ شاید ان کی حسن مثنیؓ سے قرابت داری تھی۔ اس سفارش پر عمرو بن سعد نے انہیں چھوڑ دیا۔ امام حسن مثنیٰ نے بہت سی احادیث اپنے والد ماجد اور بعض دیگر صحابہ سے روایت کی ہیں اور بہت سے تابعین اور خلائق نے ان سے نقل کیں۔ سن ستانوے ہجری میں پچاس ساٹھ سال کی عمر کے درمیان وفات پائی۔ (۴۵) ابن سعد کے مطابق حضرت حسن مثنیٰ کے بیٹے عبداللہ بن حسن، حسن بن حسن اور ابراہیم بن حسن نے کوفے میں ابوجعفر منصو رکے قید خانے میں وفات پائی اور آپ کی صاحبزادی سیّدہ زینب بنت حسن سے ولید بن عبدالملک بن مروان نے نکاح کیا لیکن طلاق دے دی۔ (۴۶)
امام عبداللہ بن حسن مثنیٰ رضی اللہ عنہما:
امام ابومحمد عبداللہ بن حسن مثنیٰ ؓ ،حضرت امام حسن مجتبیٰ  کے پوتے تھے۔ آپ کی والدہ محترمہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہم  کی صاحبزادی تھیں جن کا نام سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تھا۔ حضرت عبداللہ کو اس زمانے کے لوگ ’’شیخ العترۃ‘‘ کہتے تھے کیونکہ وہ بزرگ اور ثقہ آدمی تھے۔ ہزارہا حدیثیں اپنے والد ماجد اور تابعین سے روایت کیں اور بہت سے لوگوں نے ان سے احادیث سن کر آئندہ نسل تک پہنچائیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ ان کی بے حد تعظیم کرتے تھے۔ پچھتر برس کی عمر میں ۱۴۵ھ میں وفات پائی۔ (۴۷) ان کی وفات کے متعلق ابن سعد نے لکھا ہے:
عبداللہ بن حسن مات فی السجن أبي جعفر المنصور بالکوفۃ۔ (۴۸)
’’عبداللہ بن حسن کے کوفہ میں ابوجعفر المنصور کے قید خانے میں وفات پائی۔‘‘
ابوالفرج الاصفہانی (م ۳۵۶ھ) نے ان کے بارے میں لکھا ہے:

وقتل عبداللّٰہ بن الحسن في محبسہ بالھاشمےۃ، وھو ابن خمس و سبعین، سنۃ خمس واربعین وماءۃ۔(۴۹)
ڈاکٹر طاہر القادری کے مطابق امام بخاری، امام ابن ابی حاتم، امام مزی اور امام عسقلانی نے اپنی کتب میں امام عبداللہ بن حسن المثنیّٰ کے ترجمہ میں بیان کیا ہے کہ امام عبداللہ نے اپنے والد امام حسن المثنیٰ اور اپنی والدہ سیّدہ فاطمہ صغریٰ رضی اللہ عنہما سے روایت کرنے کے علاوہ درج ذیل اکابر تابعین سے بھی روایت کیا ہے:
۔ عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب ۔ ابراہیم بن محمد بن طلحہ
۔ عبدالرحمن بن ھر مز الاعرج ۔ عکرمہ مولیٰ ابن عباس
۵۔ ابوبکر بن عمرو حزم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔ (۵۰)
امام موفق بن احمد المکی ، امام ابن بہزاز اور امام محمد بن یوسف صالحی کی تحقیق کے مطابق امام عبداللہ بن حسن امام اعظیم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے حدیث میں شیخ ہیں۔ (۵۱)
ابوالفرج اصفہانی نے عبداللہ بن حسن مثنیٰ کے بارے میں لکھا ہے:
وکان عبداللّٰہ بن الحسن شیخ بني ھاشم، والمقدم فیھم، وذا الکثیر منھم فصلاً، علماً و کرماً۔ (۵۲)
حضرت عبداللہ بن حسن المثنیٰ نجیب الطرفین فاطمی ہونے کے باعث فرمایا کرتے:
أنا أقرب الناس من رسول اللّٰہ ﷺ ، ولدني رسول اللّٰہ مرتین (۵۳)
آپ حدیث کے ثقہ امام تھے۔ امام ابوحاتم محمد بن حیان (م۳۵۴ھ/۹۶۵ء) نے اپنی کتاب ’’الثقات‘‘ میں عبداللہ بن حسن مثنیٰ کو ثقہ راوی شمار کیاہے۔ امام محمد عبدالرحمن بن ابی حاتم راوی ہیں کہ میں نے اپنے والد ابوحاتم محمد بن ادریس ورازی تمیمی کو کہتے ہوئے سنا: 
عبداللّٰہ بن الحسن بن الحسن بن علي، ثقۃ۔ (۵۴)
’’حضرت عبداللہ بن الحسن المثنیٰ بن الحسن المجتبیٰ بن علی المرتضیٰ ثقہ ہیں۔‘‘
امام عمر و بن حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم:
حضرت امام حسن مجتبیٰؓ کے تیسرے صاحبزادے عمرو بن حسن رضی اللہ عنہما اپنے عمِ محترم حضرت امام حسینؓ کے ہمراہ معرکۂ کربلا میں شریک ہوئے اور شہادت سے سرفراز ہوئے۔ آپ کے فرزند محمد بن عمر و بن حسن کا شمار بزرگانِ دین اور اولیاء کاملین میں ہوتا ہے۔ آپؓ نے حضرت جابرؓ سے بہت سی حدیثیں سُنیں اور اِن سے محدثین کی ایک بڑی جماعت مثل امام بخاری، امام مسلم، امام ابوداؤد اور امام نسائی جیسوں نے بکثرت احادیث نقل کی ہیں۔ (۵۶)
امام حسن المُثَلَّت بن حسن المثنّٰی رضی اللہ عنہما:
آپ حضرت امام حسن مجتبیٰؓ کے پوتے، حضرت حسن المثنّٰی کے فرزند ارجمند اور امام عبداللہ بن حسن المثنی کے بھائی تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت فاطمہ بنت الحسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم تھا۔ (۵۷)
امام مزی اور امام عسقلانی نے اپنی کتب میں امام حسن المثلثؓ کے ترجمہ میں بیان کیا ہے کہ آپ نے اپنے والد امام حسن المثنی اور اپنی والدہ سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ (۵۸) ایک بزرگ جماعت سے آپ احادیث روایت کی ہیں اور دوسرے محدثین نے ان سے روایات نقل کی ہیں۔ امام ابن حبان نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے۔ (۵۹)
امام ابن ماجہ نے اپنی سُنن میں امام حسن المثلثؓ سے درج ذیل حدیث نقل فرمائی ہے۔ 
ابوالفرج الاصفہانی نے اُن کی وفات کے بارے میں لکھا ہے:
و توفي الحسن بن الحسن بن الحسن في محبسہ بالھا شمےۃ في ذي القعدۃ سنۃ خمس و أربعین وماءۃ۔ وھو ابن ثمان و سنین سنۃ۔ (۶۰)
’’حسن بن حسن بن حسن رضی اللہ عنہم کا وصال (ابوجعفر منصور کی) قید میں عراق کے علاقہ ہاشمیہ میں ۱۴۵ھ میں ہوا۔ ان کی عمر اڑسٹھ برس تھی۔ ‘‘
حضرت سیّدنا امام حسین بن علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہما:
امام حسین شہید کربلاؓ حضرت علی بن ابی طالبؓ ، اور سیّدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے فرزند ارجمند اور حضور نبی کریم ﷺکے نواسے تھے۔ 
امام ذہبی اور ابن حجر عسقلانی (۶۱) نے تاریخِ ولادت پانچ شعبان ۴ھ بتائی ہے۔ (۶۲) جب آپ کی ولادت ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے ان کے کان میں اذان کہی۔

(۶۳) حضور نبی کریم ﷺنے آپ کا نام حسین رکھا۔ (۶۴) کتبِ احادیث و سیر میں یہ روایت ملتی ہے:
الحسین أشبﷺ ہُ برسول اللّٰہ ﷺ من صدرہ اِلی قدمیہ (۶۵)
’’حضرت حسینؓ ، رسول کریم ﷺسے سینہ سے پاؤں تک مشابہ تھے۔‘‘
حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
حسینؓ مني و أنا من حسینؓ أحب اللّٰہ من أحب حسینًا، حسین سبط من الاسباط۔ (۶۶)
’’حسینؓ میرے ہیں اور میں حسینؓ کا ہوں۔ اللہ تعالیٰ اُس شخص کو دوست رکھے جو حسینؓ کو دوست رکھے حسینؓ ایک سبط ہیں اسباط سے۔‘‘
ابن حجر مکی(۶۷) سے امام حسینؓ کے فضائل میں بہت سی احادیث جمع کی ہیں، چند احادیث ملاحظہ ہوں:
۱۔ حسنؓ اور حسینؓ نوجوانان بہشت کے سردار ہیں اور فاطمہؓ، سوائے مریم ؑ کے جنتی عورتوں کی سردار ہیں۔‘‘
یہ روایت بخاری، ابویعلیٰ، ابن حبان، طبرانی اور حاکم نے ابوسعید سے بیان کی ہے۔ 
۲۔ ترمذی نے حضرت انسؓ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہے کہ میرے اہل بیتؓ میں سے حسنؓ اور حسینؓ مجھے سب سے محبوب ہیں۔ 
۳۔ احمد، ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت ابوہریرہؓ سے بیان کیا ہے کہ جو حسنؓ اور حسینؓ سے محبت رکھتا ہے وہ مجھ سے محبت رکھتا ہے اور جو ان سے بغض رکھتا ہے وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے۔ 
حضرت امام حسینؓ کی شہادت دسویں محرم ۶۱ھ میں بمقام کربلا ہوئی جو عراق میں واقع ہے۔ (۶۸)
ابن حجر عسقلانی نے اُن کی مردیات کے متعلق لکھا ہے:
’’روی عن جدہ وأبیہ و أمہ و خالہ ھند بن أبي ھالۃ و عمر بن الخطابؓ۔‘‘(۶۹)
حضرت امام حسینؓ سے روایت کرنے والوں کے اسماء ابن حجر عسقلانی نے یوں گنوائے ہیں:
’’وعنہ أخوہ الحسن و بنوہ علي و زید و سکینۃ و فاطمۃ و ابن ابنہ أبو جعفر الباقر و الشعبي وعکرمۃ و کرز التیمی و سنان ابن أبي سنان الاؤلی و عبداللہ بن عمر و بن عثمان والفرزدق و جماعۃ۔‘‘(۷۰)
امام ذھبی نے اُن سے روایت کرنے والوں کے متعلق لکھا ہے:
’’حدَّث عنہ: ولداہ عليُّ و فاطمۃ، وعبید بن حنین، وھمام الفرزدق، وعکرمۃُ، والشعبیُّ، وطلحۃ العقیلي، وابنُ أخیہ زید بن الحسن، وحفیدُہ محمد بن علی الباقر، ولم یدرکہ ، وبنتہ سکینۃ، وآخرون۔‘‘(۷۱)
امام سیّد علی بن حسین، زین العابدین رضی اللہ عنہما:
آپ کا اسم گرامی علی، کنیت ابو محمد، ابوالحسن اور ابوبکر ہے اور لقب سجاد اور زین العابدینؓ ہے۔ حضرت امام حسین شہید کربلاؓ کے فرزند ارجمند ہیں۔ آپ مدینہ منورہ میں ہجرت کے تینتیسویں سال پیدا ہوئے۔ بعض روایات میں آپ کا سالِ پیدائش ۳۶ھ یا ۳۸ہجری ہے۔ آپ کی والدہ کا نام شہر بانو ہے۔ (۷۲)
ابن سعد نے امام علی بن حسین رضی اللہ عنہما کے متعلق لکھا ہے:
وھو علی الأصغر بن الحسین۔ (۷۳) ’’آپ علی اصغر بن حسین ہیں۔‘‘
مفتی محمد اکرام الدین دہلوی نبیرہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی امام زین العابدین کو’’ علی اوسط‘‘ لکھتے ہیں۔ وضاحت میں انہوں نے لکھا ہے کہ’’ علی اوسط‘‘ زین العابدینؓ کا نام اس شخص کے نزدیک صحیح ہو گا جو اس بات کا قائل ہو کہ امام حسینؓ کے فرزند وں میں ہیں سے تین صاحبزادوں کا نام علی تھا اورجواس کے قائل ہیں کہ آپؓ کے دو صاحبزادوں کا نام ہی علی تھا،ان کے نزدیک علی اصغربن زین العابدینؓ ہیں اور جو لوگ کہتے ہیں کہ زین العابدین کا علی اوسط نام ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ علی اصغر اور تھے جو اپنے والد بزرگوار کی گود میں تیر کھا کر شہید ہوئے۔ (۷۴)
علی اکبرؓ کے کربلا میں شہید ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔ 
امام زین العابدینؓ کربلا میں اپنے والد ماجد حضرت امام حسینؓ اور دیگر خاندان کے افراد کے ساتھ شریک تھے۔ا س وقت اُن کی عمر تیرہ برس تھی۔ (۷۵)بیماری کے باعث آپ نے جنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اپنی پھوپھی سیّدہ زینبؓ کے ہمراہ بڑے صبر اور حوصلے سے ابن زیاد اور یزید کے ہاں اپنے خاندان کی نمائندگی کا حق ادا کیا۔ 
اپنے اعزہ کی شہادت اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد حضرت امام زین العابدینؓ کا دل ایسا ٹوٹ گیا کہ مدینہ آنے کے بعد انہوں نے عزلت نشینی اختیار کر لی اور بنو اُمیہ کی حکمرانی کے خلاف اُٹھنے والی کسی تحریک کا حصہ نہ بنے۔ تاہم علم و عمل اُن کی تخصص رہا اور اہلِ حجاز کے ہاں اُن کی بڑی تکریم رہی۔ 

ابونعیم اور سلفی نے بیان کیا کہ جب ہشام بن عبدالملک نے اپنے باپ کی زندگی یا ولید کے زمانے میں حج کیا تو بھیڑ کی وجہ سے حجراسود تک پہنچنا اس لیے ممکن نہ ہو سکا تو زمزم کی ایک جانب اس کے لیے منبر نصب کیا گیا جس پر بیٹھ کر وہ لوگوں کو دیکھنے لگا۔ اس کے اردگرد اہلِ شام کے سربر آوردہ لوگوں کی ایک جماعت بھی تھی۔ اسی اثناء میں حضرت زین العابدینؓ آ گئے۔ جب آپ حجرا اسودہ کے پاس پہنچے تو لوگ ایک طرف ہٹ گئے اور آپؓ نے حجراسود کو بوسہ دیا۔ شامیوں نے ہشام سے کہا کہ یہ کون ہے؟ تو اس نے اس خوف سے کہ کہیں شامی زین العابدینؓ میں دلچسپی لینا نہ شروع کر دیں، کہا میں انہیں نہیں جانتا۔ تو عرب کے مشہور شاعر فرزدق نے کہا میں انہیں جانتا ہوں پھر اُس نے مدحِ زین العابدینؓ ،ہشام کی موجودگی میں اشعار سنائے:
ہشام نے جب قصیدہ سنا تو غضبناک ہو کر فرزدق کو عسفان کے مقام پر محبوس کر دیا۔ امام زین العابدینؓ نے فرزدق کو بارہ ہزار درہم دینے کا حکم دیا اور ساتھ ہی معذرت بھی کی۔ اگر ہمارے پاس زیادہ ہوتا تو ہم تمہیں وہ بھی دے دیتے۔ فرزدق نے جواب دیا۔ میں نے آپ کی مدح صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی خاطر کی ہے، اس انعام کے لیے نہیں، تو حضرت امام زین العابدینؓ نے فرمایا کہ ہم اہل بیتؓ جب کسی چیز کو دے دیتے ہیں تو پھر واپس نہیں لیا کرتے تو فرزدق نے وہ درہم قبول کر لیے او رپھر قید میں ہی ہشام کی ہجو لکھی اور اُسے بھیج دی تو اس نے فرزدق کو قید سے رہا کر دیا۔ (۷۶)
یہ واقعہ حضرت سید علی بن عثمان ہجویری علیہ الرحمہ نے بھی اپنی کتاب ’’کشف المحجوب‘‘ میں مع قصیدہ فرزدق ابوالفراس نقل فرمایا ہے۔ (۷۷)
ابن سعد کے مطابق امام زین العابدینؓ کی وفات ۹۲ ھ یا ۹۴ھ میں ہوئی۔ (۷۸) بعض کے نزدیک سن وفات ۹۵ہجری ہے۔ انہیں عباس کے قبہ میں حضرت امام حسنؓ کی قبر کے قریب دفن کیا گیا۔ (۷۹)
ابن سعد نے امام زین العابدینؓ کے متعلق لکھا ہے:
کان علي بن حسین ثقۃً مأمونًا کثیر الحدیث عالےًا رفیعاً ورعاً۔ (۸۰)
’’علی بن حسین ثقہ و مامون و کثیر الحدیث اور عالی مرتبہ، بلند پایہ اور پرہیز گار تھے۔‘‘
امام علی بن حسین رضی اللہ عنہما نے متعدد برگزیدہ ہستیوں سے احادیث بیان کی ہیں۔ امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:
’’روی عن ابیہ وعمہ الحسن وأرسل عن جدہ علي بن ابي طالب و روی عن ابن عباس والمسور بن مخرمۃ و أبي ھریرۃ وعائشۃ وصفےۃ بنت حیي وام سلمۃ و بنتھا زینب بنت أبي سلمۃ و أبی رافع مولی النبي ﷺ وابنہ عبید اللّٰہ بن أبي رافع و مروان بن الحکم وعمرو بن عثمان و ذکوان أبي عمرو مولی عائشۃ و سعید بن المسیب و سعید بن مرجانۃ و بنت عبداللّٰہ بن جعفر۔‘‘ (۸۱)
’’آپؓ نے اپنے والد گرامی امام حسینؓ اپنے چچا امام حسن رضی اللہ عنہما سے اپنے دادا جان حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کی وساطت سے روایت کیا ہے اور آپ نے ابن عباس، مسور بن مخرمہ، ابوہریرہ ، عائشہ صدیقہ، صفیہ بنت حي، ام سلمہ اور اُن کی بیٹی زینب بنت ابوسلمہ، ابورافع مولیٰ رسول اللہ ﷺ اور اُن کے بیٹے عبید اللہ بن ابی رافع، مروان بن حکم، عمرو بن عثمان، ذکوان، ابوعمرو مولیٰ عائشہ صدیقہ، سعید بن المسیب، سعید بن مرجانہ اور عبداللہ بن جعفر کی بیٹی سے احادیث روایت کی ہیں۔‘‘
امام ذھبی نے امام زین العابدینؓکے شیوخِ حدیث کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’وحدیث عن أبي الحسین الشھید ۔۔۔۔ وعن صفےۃ اُمّ المومنین، وذلک في ’’الصحیحین‘‘ وعن أبی ھریرۃ، و عائشۃ و روایتہ عنھا في ’’مسلم‘‘ وعن أبي رافع، وعمّہ الحسن، وعبداللّٰہ بن عباس، واُمّ سلمۃ والمسور بن مخرمۃ، وزینب بنت أبي رافع، وسعید بن المسیب، وسعیب بن مرجانۃ، وذکوان مولی عائشۃ و عمرو بن عثمان بن عفان۔‘‘ (۸۲)
ابن جوزی نے اُن صحابہ و صحابیات رضی اللہ عنہم میں سے چند اسماء گنوائے ہیں جن سے حضرت امام زین العابدینؓ نے احادیث بیان کی ہیں:
أسد علی بن الحسین عن أبیہ و ابن عباس و جابر بن عبداللّٰہ و صفےۃ و أم سلمۃ و غیرھم من أصحاب رسول اللّٰہ ﷺ۔ (۸۳)
امام زین العابدینؓ ثقہ تابعی تسلیم کیے جاتے ہیں۔ محدث ابوبکر بن ابي شیبہ کا قول ہے:
اصح الأسانید کلھا الزھري عن علي بن الحسین عن أبیہ عن علي۔ (۸۴)
’’زہری کی وہ روایات جو علیؓ بن حسینؓ، اُن کے والد اور اُن کے داد حضرت علی المرتضیؓ کے سلسلہ سے مروی ہیں، وہ اصح الاسانید ہیں۔‘‘
آپ مسجد نبوی میں قرآن و حدیث کا درس دیا کرتے تھے۔ یزید بن