Urdu Articles

اسفارِ صوفیہ اور سیّدِ ہجویر رحمۃ اللہ علیہ کی سیاحت

اسفارِ صوفیہ اور سیّدِ ہجویر رحمۃ اللہ علیہ کی سیاحت

* ڈاکٹر محمد سلطان شاہ

انسانی زندگی میں سفر کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ درحقیقت زندگی اور سفر لازم و ملزوم ہیں۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں سفرِ حج تو صاحبِ استطاعت کے لیے ناگزیر ہے کیونکہ اس کے بغیر مناسکِ حج کی ادائیگی ناممکن ہے۔ اسی طرح حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے اپنے اُمتیوں کو مسجدِ حرام، مسجدِ نبوی اور مسجدِ بیت المقدس کی زیارت کے لیے سفر اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ حصولِ علم کی غرض سے سفر کرنا ہمارے اسلاف کا شعار رہا ہے۔ قرآن مجید میں ’’سیروا فی الارض‘‘ کے الفاظ ہمیں سفر اختیار کرنے کی ترغیب دلاتے ہیں۔ الغرض سفر کئی مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی کے مطابق سفر عام طور پر درج ذیل مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے:
۱۔ حصولِ معاش کے لیے 
۲۔ حصولِ علم کے لیے
۳۔ تجارت کے لیے
۴۔ فرائضِ منصبی ادا کرنے کے لیے جیسے سفرا دوسرے ملکوں میں سفارت کے لیے جاتے ہیں۔ 
۵۔ معلومات میں اضافہ کے لیے
۶۔ آیات اللہ یعنی مناظرِ فطرت اور مظاہرِ قدرت کا مشاہدہ کرنے کے لیے
۷۔ زیارت کے لیے 
۸۔ عبرت کے لیے
۹۔ عزیزوں دوستوں سے ملاقات کے لیے 
۱۰۔ سفر کی ایک قسم، ہجرت بھی ہے۔ (۱)
ان کے علاوہ صوفیہ مردانِ خدا کی زیارت اور مزارات اولیاء اللہ سے استفادہ و استفاضہ کی غرض سے سفر اختیار کرتے ہیں۔ (۲) تلاشِ مرشد کی غرض سے بعض صوفیہ نے طویل سفر کیے۔ بعض صوفیہ ایسے 

* صدر شعبہ عربی و علوم اسلامیہ، جی سی یونیورسٹی لاہور 
بھی ہیں جو سفر کو تزکیہ نفس کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور ہمیشہ سفر میں رہتے ہیں، کبھی قیام نہیں کرتے۔ شیخ ابراہیم خواص قدس سرہٗ کا تعلق ایسے طبقے سے تھا، آپ کسی شہرمیں چالیس دن سے زیادہ قیام نہیں کرتے تھے، ان کا خیال تھا کہ اگر چالیس دن سے زیادہ کسی شہر میں مقیم رہیں گے تو ان کے توکل میں فر ق آ جائے گا، چونکہ اس عرصے میں لوگ ان کو اچھی طرح جان لیں گے اور لوگوں کا ان کی طرف رجوع شروع ہو جائے گا۔ (۳) حضرت بشرحافی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اے قاریو، اے طالبو، سفر کرو کہ تم خوش رہو اور پاک و صاف رہو، اس لیے کہ پانی زیادہ دیر تک ایک جگہ ٹھہرا رہتا ہے تو وہ متغیر ہو جاتا ہے، اس کا رنگ اور مزہ سب کچھ بدل جاتا ہے۔ (۴) حضرت بایزید بسطامی قدس سرہٗ نے حضرت احمد خضرویہ سے پوچھا کہ آپ کب تک دنیا کی سیر و سیاحت میں مشغول رہیں گے؟ انہوں نے جواب دیا، پانی ایک جگہ ٹھہر جانے سے اس میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے اور اس کا رنگ تبدیل ہو جاتا ہے، آپ نے فرمایا، پھر سمندر کیوں نہیں بن جاتے تاکہ نہ بدبو پیدا ہو اور نہ رنگ تبدیل ہو۔ (۵) اس سے واضح ہوتا ہے کہ صوفیہ کے ہاں سیروسیاحت کی بڑی اہمیت ہے۔ 
مخدوم الاولیاء، سلطان الاصفیاء حضرت علی ہجویری قدس سرہٗ العزیز نے اپنے عہد کے قریباً تمام اسلامی ممالک کی سیاحت کی اور وہاں کے مشائخ و صوفیہ سے اکتساب فیض کیا۔ اس کا ذکر اُن کی معروف کتاب کشف المحجوب میں کئی مقامات پر ملتا ہے۔ چونکہ کتاب سیّد علی ہجویری کا سفرنامہ نہیں ہے اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انہوں نے اتنے ہی ملکوں اور شہروں کی سیاحت کی جن کے نام ان کی کتاب میں مذکورہ ہوئے ہیں اور ان کا سفر پاک و ہند بھی صرف اس حد تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ غزنی سے چل کر لاہور پہنچ گئے۔ (۶)
محمد گل احمد خان عتیقی نے لکھا ہے کہ آپ نے غزنی میں اپنے خاندان کے مقتدر مشائخ اور جید علماء کرام سے ظاہری علوم اور باطنی کمالات سے فیض یاب ہونے کے بعد سیر و سیاحت کو اپنایا۔ سیروسیاحت، کرشمۂ ہائے قدرت کے مشاہدے اور حسن منظر سے لطف اندوز ہونے، اولیاءِ کرام اور ان کے مزارات کی زیارت اور اُن سے روحانی فیوض و برکات حاصل کرنے کا ذریعہ بھی اور تبلیغی مشن کا حصہ بھی ہے کیونکہ اس سے لوگوں کی عادات و اطوار اور مزاج شنا کا ملکہ بھی حاصل ہوتا ہے اور مصائب و مشکلات برداشت کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے جس سے تبلیغ اسلامی کی راہیں کھلتی چلی جاتی ہیں۔ سلوک کے لا ینحل عقدے کھلتے ہیں اور سلوک کی منزلیں طے ہونے لگتی ہیں۔ (۷)
آر۔ اے۔ نکلسن نے سیّد علی ہجویری کی کتاب کشف المحجوب کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا جس کے مقدمے میں اُس نے مصنف کے اسفار کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:
" He mentions a great number of shaykhs whom he had met and conversed with in the course of his wandermgs. He traveled from far and wide through the Muhammadan empire from Syria to Turkistan and from the Indus to the Caspian sea."(۸) 
روسی مستشرق پروفیسر ژوکوفسکی (Zhukovsky) کشف المحجوب کا فارسی متن ایڈٹ کیا جو اُس کی موت کے بعد ۱۹۲۶ء میں لینن گراڈ کے زیورِ طباعت سے آراستہ ہوا۔ اُس نے سیّد ہجویرعلیہ الرحمہ کی سیاحت اور اس کی افادیت کے حوالے سے یوں اظہارِ کیال کیا۔ 
" The many-sided development of Jullabi was fostered in a material degree by his travels, and in his time he traveled much. He visited many parts of the Musulman world, and thus came into contact with leading religious men and Sufis of his day133133. In such manner he acquired that varied and vivid material which he used later in his stories of different Shaykhs and generally in his broad and illuminating judgment of diverse questions and Sufistic teaching."(۹) 
اس طرح ژوکوفسکی کے مطابق حضرت علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے اسفار مختلف شیوخ کے متعلق واقعات اور معلومات کے حصول کا ذریعہ بنے جن کو انہوں نے بعدمیں اپنی کتاب میں بیان کیا۔ 
سیّد علی ہجویری قدس سرہ العزیز نے اپنی کتاب کے تیرھویں باب میں شام، عراق، فارس، قہستان، آذربائیجان ، طبرستان، کمش، کرمان، خراسان، ماوراء النہر اور غزنی کے مشائخ عظام کا ذکر کیا ہے۔ ان میں سے بیشتر سے انہیں ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ خراسان کے نو صوفیہ کے اسماء گرامی اور مختصر تذکرہ کے بعد فرماتے ہیں:
’’میں نے تین سو مردانِ خُدا خراسان میں ایسے پائے جو آفتاب و ماہتابِ طریقت ہیں۔‘‘ (۱۰)
نکلسن کے مطابق جن ممالک اور شہروں کا سیّد علی ہجویری نے سفر کیا اُن میں آذربائیجان، بسطام، دمشق، رملہ، شام میں بیت الجن، طوس، اوزکند، المنہا، مرو، سمرقند اور عراق شامل ہیں۔ (۱۱) حکیم محمد موسیٰ امرتسری علیہ الرحمہ نے ان اماکن میں کچھ مزید ناموں کا اضافہ کیا ہے۔ اُن کی تیار کردہ نامکمل فہرست میں مندرجہ بالا اماکن کے علاوہ ماوراء النہر، خراسان، کمش، کمند، نیشاپور، بخارا، سرخس، رملہ، بغداد، فارس، نواحی خوزستان، فرغانہ، شلاتک، ترکستان اور پاک و ہند شامل ہیں۔ (۱۲)
محمد گل احمد خان عتیقی کے مطابق سیّد ہجویر علیہ الرحمہ حجاز مقدس بھی گئے۔ اُن کا کہنا ہے:
’’آپ کے تذکرہ نگاروں کی تحقیق کے مطابق تمام عالمِ اسلام کا سفر کیا اور اسی سیرو سیاحت کے دوران آپ نے دو مرتبہ حج کی سعادت بھی حاصل کی۔ ‘‘ (۱۳)
حکیم محمد موسیٰ امرتسری کے مطابق کشف المحجوب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے پاک و ہند کے اکثر شہروں کی سیاحت کی تھی، یہاں کے علماء سے ملے تھے اور یہاں کی تہذیب و تمدن و رسم و رواج اور ہندوؤں کے عقائد سے گہری واقفیت حاصل کی تھی۔ (۱۴) اس کا ثبوت درج ذیل واقعات سے ملتا ہے:
۱۔ میں نے ہندوستان میں ایک مرد کو دیکھا کہ وہ تفسیر اور وعظ اور علم کا دعویٰ کرتا تھا۔ اُس نے اس بارے میں مجھ سے بحث کی۔ جب میں نے دیکھا اور اس پر نظر کی تو وہ فنا و بقا کو جانتا ہی نہ تھا۔(۱۵)
۲۔ مشہور ہے کہ ہندوستان میں شکاریوں کا ایک گروہ ایسا ہے کہ یہ لوگ باہر جنگل میں نکل جاتے ہیں اور گانا شروع کر دیتے ہیں اور بڑی سُریلی سُریلی آوازیں نکالتے ہیں۔ ہرن جب انہیں سُن پاتے ہیں تو اُنہی کی طرف بھاگتے چلے آتے ہیں۔ انہیں قریب آتا دیکھ کر یہ لوگ ان کے گرد گھیرا سا ڈال لیتے ہیں اور مسلسل گاتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ راگ کی لذت سے ہرن کی آنکھیں بند ہونے لگتی ہیں اور (اسی خمار کی حالت میں) بالآخر وہ سو جاتا ہے او روہ لوگ اس کو پکڑ لیتے ہیں۔ (۱۶)
۳۔ میں نے ہندوستان میں دیکھا کہ زہرِ قاتل کے اندر ایک کیڑا پیدا ہو جاتا ہے اور نہ صرف یہ کہ اس زہر میں زندہ رہ سکتا ہے بلکہ اس کی زندگی موقوف ہی اس زہر میں پڑے رہنے پر ہوتی ہے۔ (۷)
حضرت علی ہجویری افغانستان کے شہر غزنی سے برصغیر پاک و ہند میں داخل ہوئے اور کئی شہروں سے ہوتے ہوئے لاہور پہنچے جسے انہوں نے اپنی قیام گاہ بنایا۔ یہیں اُن کا وصال ہوا اور یہی شہر اُن کی آخری آرام گاہ ہے۔ 
اپنے مرشد ابوالفضل محمد بن حسن الختلی قدس سرہ العزیز کے وصال کے وقت سیّد علی ہجویری علیہ الرحمہ اُن کے پاس تھے۔ اس واقعہ کو انہوں نے کشف المحجوب میں یوں بیان فرمایا ہے: 
’’جس روز کہ حضرت کی وفات کا وقت آیا، آپ اس روز بیت الجن میں تھے۔ یہ ایک گاؤں ہے جو دمشق اور بانیا رود کے مابین ایک گھاٹی پر آباد ہے۔ آپ کا سر مبارک میری گود میں تھا۔ ‘‘ (۱۸)
ماورا ء النہر سر سبز و شاداب صوبہ تھا۔ کسی ملک میں نہ تو اتنے فقہاء تھے اور نہ علم کا ایسا چرچا تھا۔ سیّد علی ہجویری علیہ الرحمہ کو وہاں کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا، جس کا انہوں نے ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حضرت احمد حماد سرخسی ماوراء النہر میں اُن کے رفیق تھے جو تجرد پسند تھے۔ (۱۹) ایک اور مقام پر لکھتے ہیں کہ مجھے ایک بار موراء النہر کے ملامتی سے ملاقات کا اتفاق ہوا تو جب وہ بے تکلف ہو گیا تو میں نے اس سے کہا بھائی اس قسم کے شوریدہ افعال سے تمہاری کیا مراد ہے؟ کہنے لگا مخلوق سے اپنے آپ کو چھپانا۔ میں نے کہا۔ لوگ بہت ہیں اور تیری عمر کم۔ تو زمانہ میں ان سے پیچھا چھڑانے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا، لہٰذا تو خود اُن کو کیوں نہیں چھوڑ دیتا تاکہ اس شغل سے تو بھی آزاد ہو جائے اور ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ لوگوں میں مشغول ہوتے ہیں اُن کا یہ خیال ہوتا ہے کہ لوگ اُن کی طرف مشغول ہیں۔ تو ایسا کیوں نہیں کرتا کہ تو اپنے کو نہ دیکھ تاکہ پھر تجھے کوئی نہ دیکھے۔ (۲۰)
شیخ ہجویری ایک اور مقام پر اس خطے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انہوں نے ایک کامل بزرگ کو ماوراء النہر میں دیکھا جو سلسلۂ ملامتیہ سے تعلق رکھتا تھا۔ اُس کا یہ حال تھا کہ وہ مرغوب اشیاء جسے انسان شوق سے کھاتا ہے، بالکل استعمال نہ فرماتے۔ (۲۱)
سیّد علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ بسطام میں حضرت شیخ بایزید قدس سرہٗ العزیز کے مزار پر بھی حاضر ہوئے اور کسی مسئلے کے حل کے لیے وہاں مجاوری کرتے رہے۔ آخر وہ مسئلہ حل ہو گیا۔ (۲۲) وہ ایک دفعہ دمشق کے درویشوں کے ساتھ ابن المعلا کی زیارت کے لیے رملہ کے ایک گاؤں بھی تشریف لے گئے۔ (۲۳) شیخ ہجویری ایک بار شام میں تھے اور حضرت سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ مؤذنِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار کے سرہانے سو رہے تھے کہ انہوں نے اپنے آپ کو مکہ معظمہ میں دیکھا اور اسی خواب میں دیکھا کہ سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی شیبہ سے تشریف لا رہے ہیں اور آپ نے ایک معمر کو اپنے پہلو میں اس طرح لے رکھا ہے جیسے بچوں کو شفقت سے لیتے ہیں۔ شیخ فرطِ محبت سے دوڑے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پائے اقدس کو چومنے لگے۔ وہ اس تعجت میں تھے کہ یہ معمر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنے محبوب کون ہیں؟ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے تعجب کو نُورِ نبوت سے سمجھ گئے اور اُن سے فرمانے لگے:
’’ یہ تیرا امام ہے اور تیسرے شہر کے لوگوں کا امام ہے یعنی ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ‘‘(۲۴)
کشف المحجوب میں سیّدِ ہجویر علیہ الرحمہ کے بغداد میں قیام کا بھی ذکر ملتا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ہم نے بغداد اور اس کے گرد و نواح میں ملحدین کا ایک گروہ دیکھا ہے جو اپنے آپ کو حضرت حسین بن منصو رحلاج رضی اللہ عنہ کا معتقد ظاہر کرتا ہے اور اپنے الحاد و زندقہ پر اُن کے کلام پر حجت لاتا ہے۔ اور اس گروہ کا نام ہی حلاجی ہے اور حضرت حسین بن منصور کے معاملہ میں اس حد تک غلّو کرتا ہے۔ جس حد تک روافض محبتِ علی کرم اللہ وجہہ میں کرتے ہیں۔ (۲۵)
اپنے سفرِ خراسان کا ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ میں علی بن عثمان جلابی ہوں۔ میں خراسان کے ایک قصبہ پہنچا جسے مکند کہتے ہیں۔ وہ ایک بزرگ تھے جنہیں ادیب مکندی کہتے تھے۔ یہ وہاں کے مشہور بزرگ تھے۔ وہ بیس سال تک برابر قیام میں رہے۔ نماز میں تشہد کے سوا کبھی نہ بیٹھے ان سے میں نے اس کا سبب پوچھا۔ فرمایا ابھی میرا وہ درجہ نہیں کہ حضورِ حق کا مشائدہ مشاہدہ بیٹھ کر کروں۔ (۲۶)
سیّد علی ہجویری علیہ الرحمہ طوس بھی تشریف لے گئے۔ وہاں انہوں نے ایک بار حضرت شیخ ابوالقاسم گرگانی رحمۃ اللہ علیہ سے سوال کیا کہ درویش کو کم از کم کیا چیز لازم ہے جس سے اُس کے ساتھ نام فقر موزوں ہو سکے۔ فرمایا تین چیزیں کم از کم ضروری ہیں اور اس سے کم ہرگز نہ ہوں۔ اوّل یہ کہ وہ اپنی کمبلی پر جب پیوند لگائے تو یہ سمجھے کہ پیوند کس طرح موزوں رہے گا اور اسے کس طرح کمبلی پر چسپاں کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ (دل کی آواز اور عوام کی بات) اچھی طرح سُن سکے اور اس کی حقیقت کو سمجھنے کی اہلیت رکھے۔ تیسرے یہ کہ فقیر کا کوئی قدم زمین پر بیکار وغیرہ موزوں نہ پڑے۔ (۲۷)
ایک دن حضرت علی ہجویری اپنے شیخ کے ہمرکاب تھے۔ چلتے چلتے آذربائیجان کی آبادی سے گزرے تو انہوں نے دو تین خرقہ پوش دیکھے کہ گندم کے ڈھیروں پر کھڑے ہوئے تھے اور اپنے خرقہ کے دامنوں کو کسانوں کی طرف پھیلا رکھا تھا تاکہ وہ اس میں گندم میں سے اُن کے دامنوں میں کچھ ڈالیں۔ سیّد ہجویری کے شیخ قدس سرہٗ نے اُن کی طرف نظر ڈالی او ریہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:
’’ اُولْٰءِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوَا الضَّلٰلَۃَ بِالْھُدٰی فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُھُمْ وَمَا کَانُوْا مُھْتَدِیْن‘‘ (۲۸)
’’ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی تو ان کی تجارت نے انہیں کچھ فائدہ نہ پہنچایا او ریہ ہدایت یافتہ نہیں ہیں۔‘‘
سیّد ہجویری علیہ الرحمہ نے عرض کی حضور یہ لوگ کس قدر ذلّت میں مبتلا ہیں کہ لوگوں کی نظروں میں ذلیل ہو رہے ہیں۔ شیخ نے فرمایا کہ ان کے پیر کو مرید جمع کرنے کی حرص ہوئی ہے تو ان کو دُنیا جمع کرنے کی حرص ہو گئی۔ (۲۹)
سیّد علی بن عثمان قدس سر ہٗ العزیز بخارا بھی گئے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ بخارا میں شیخ احمد سرقندی کو دیکھا کہ چالیس برس گزر گئے تھے مگررات کو کبھی نہ سوتے تھے۔ صرف دن کے وقت تھوڑی سی نیند کر لیا کرتے تھے۔ (۳) مرو (Marv)میں ایک امامِ حدیث سے ملاقات کا ذکر بھی کشف المحجوب میں درج ہے۔ (۳۱) ترکستان میں علی ہجویری علیہ الرحمہ نے جو مشاہدہ کیا اُس کا ذکر اُن کیہی زبانی سُنیے:
’’ ترکستان میں مَیں نے دیکھا کہ سرحدِ اسلام کے قریب ایک شہر میں ایک پہاڑی سی تھی کہ اس کے اندر آگ لگ گئی تھی اور وہ برابر جل رہی تھی اور اس کے پتھروں میں سے نوشادر اُبل اُبل کر باہر آ رہا تھا۔ لیکن اس آگ میں ایک چوہا تھا کہ اگر اسے باہر نکالتے تو وہ ہلاک ہو جاتا۔‘‘ (۳۲)
صاحبِ کشف المحجوب نے اپنے اسفار کے ذکر کے علاوہ تےئیسویں باب میں آدابِ صحبت سفر رقم فرمائے ہیں جس میں انہوں نے اپنے قارئین کو ہدایت کی ہے کہ مسافر کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ حافظِ سنت رہے۔ (۳۳) پچیسواں باب چلنے پھرنے کے آداب سے متعلق ہے اور چھبیسویں باب میں فاضلِ مصنف نے سفر و حضر میں سونے کے آداب پر بحث کی ہے۔ 
اس مقالہ سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ سیّد علی ہجویری قدس سرہٗ العزیز نے اپنا کوئی سفر کسی مالی منفعت کے لیے نہیں کیا بلکہ اُن کا ہر سفر روحانی سفر تھا۔ 

حوالہ جات

۱۔ صدیقی، ظہیر احمد، پروفیسر ڈاکٹر۔ تصوف اور تصوراتِ صوفیہ (لاہور: مجلس تحقیق و تالیف فارسی،جی سی یونیورسٹی، ۲۰۰۸ء) ص۴۰۹۔
۲۔ امرتسری، محمد موسیٰ، حکیم۔ دیباچہ، کلام المرغوب ترجمۂ کشف المحجوب از ابوالحسنات سیّد محمد احمد قادری (لاہور: شیخ اکیڈمی، ۱۳۹۳ھ) ص۴۷۔
۳۔ سہروردی، شہاب الدین، شیخ الشیوخ، عوارف المعارف، مترجم حضرت شمس بریلوی۔
۴۔ صدیقی، ظہیر احمد، پروفیسر ڈاکٹر۔ تصوف اور تصوراتِ صوفیہ، ص۴۱۱۔
۵۔ ایضاً، ص۴۱۱، ۴۱۲۔
۶۔ امرتسری، محمد موسیٰ۔ دیباچہ کلام المرغوب ترجمہ کشف المحجوب، صص۴۷،۴۸۔
۷۔ نیروی، محمد الطاف، اُردو ترجمہ کشف المحجوب، مقدمہ محمد گل احمد خان عیتقی، اشاعت اوّل ۱۹۹۲ء۔
۸۔ Nicholson, R.A (tr.) The Kashf al Mahjub (Lahore: Sang-e-Meel) publications, 1996) P.vi
۹۔ Zhukovsky, Sidney Jerruld, E.Denison Ross, Being a translation of Professor Zhokovsky's introduction to his edition of the kashf ul Mahjub, Bulletin of the school of oriental studies, university of London, vol,5, No.3 (1929) p.477
۱۰۔ قادری، سید محمد احمد، علامہ ابوالحسنات، (مترجم) کلام المرغوب ترجمۂ کشف المحجوب، ص۳۳۴۔
۱۱۔ Nicholson (tr.) The Kashf ul-Mahjub, P.vi.
۱۲۔ امرتسری، حکیم محمد موسیٰ، دیباچہ کلام المرغوب ترجمۂ کشف المحجوب، ص۴۷۔
۱۳۔ نیروی، محمد الطاف، اُردو ترجمہ کشف المحجوب۔
۱۴۔ امرتسری، حکیم محمد موسیٰ، دیباچہ کلام المرغوب ترجمۂ کشف المحجوب، ص۴۷۔
۱۵۔ قادری، سیّد محمد احمد، علامہ ابوالحسنات (مترجم) کلام المرغوب ترجمۂ کشف المحجوب، ص۴۳۲۔
۱۶۔ یزدانی، محمد عبدالمجید، پروفیسر۔ کشف المحجوب کا مستند ترین اُردو ترجمہ گنج مطلوب، (لاہور، ناشرانِ قرآن لمیٹڈ، ۱۹۶۸ء) ص۶۴۹،۶۵۰۔
۱۷۔ ایضاً، ص۶۶۲۔
۱۸۔ قادری، سیّد محمد احمد، علامہ ابوالحسنات (مترجم) کلام المرغوب ترجمۂ کشف المحجوب، ص۳۲۵۔
۱۹۔ ایضاً، ص۵۷۰،۵۷۱۔ ۲۰۔ ایضاً، ص۷۰۔
۲۱۔ ایضاً، ص۱۴۷۔
۲۲۔ قادری، سیّد محمد احمد، علامہ ابوالحسنات، کلام المرغوب ترجمہ کشف المحجوب، ص۱۷۱۔
۲۳۔ ایضاً، ص۵۴۴۔ ۲۴۔ ایضاً، ص۲۱۶۔
۲۵۔ ایضاً، ص۳۰۶۔ ۲۶۔ ایضاً، ص۵۳۳۔
۲۷۔ ایضاً، ص۱۴۵۔ ۲۸۔ البقرۃ ۲:۱۶۔
۲۹۔ قادری، کلام المرغوب ترجمۂ کشف المحجوب، ص۱۵۵۔

۳۰۔ یزدانی، محمد عبدالمجید، پروفیسر، گنج مطلوب، ص۵۷۴۔
۳۱۔ ایضاً، ص۶۵۱۔ ۳۲۔ ایضاً، ص۶۶۲۔
۳۳۔ قادری، کلام المرغوب ترجمہ کشف المحجوب، ص۵۴۷۔