Urdu Articles

فوائد الفواد میں مباحثِ علوم القرآن

* ڈاکٹر محمد سلطان شاہ

صوفیہ کرام رحہم اللہ منازلِ سلوک طے کرنے سے قبل خود کو زیورِ علم سے آراستہ کرنا لازم سمجھتے تھے، کیونکہ علم دین کے بغیر معرفتِ الٰہی ناممکن ہے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ہوں یا سیّد علی ہجویری۔۔۔ خواجہ باقی باللہ ہوں یا خواجہ معین الدین چشتی اجمیری۔۔۔ ۔حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی ہوں یا مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہم۔۔۔۔ سبھی قرآن و حدیث، فقہ و تصوف اور سیرت و تاریخ کے جیّد عالم تھے۔ اپنے پیش رو بزرگانِ دین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ہر عہد کے صوفیہ نے دینِ اسلام کی تفہیم کو اپنے لیے لازم گردانا اور علم کے حصول کے لیے انتھک محنت کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان قدسی نفوس کے ملفوظات اُن کی تبحرِ علمی کا منہ بولنا ثبوت ہیں۔
سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی ابتدائی زندگی حصولِ علم کے لیے وقف کر دی۔ آپؒ نے بدایوں میں سب سے پہلے قرآن کریم ناظرہ پڑھا، پھر صرف و نحو کی ابتدائی کتابیں محلے کی مسجد میں پڑھیں۔ اوسط درجے کی کتابوں کا درس اپنے شہر کے ممتاز علماء سے لیا، ان میں سب سے نمایاں شخصیت حضرت علاء الدین اصولی کی ہے۔ اُن سے دوسری کتابوں کے علاوہ فقہ کی کتاب ’’ قد وری‘‘ کا درس بھی لیا۔ بدایوں میں آپؒ نے زیادہ تر ادب، لغت اور فقہ کا درس لیا اور ’’مقاماتِ حریری‘‘ کے چالیس مقام زبانی یاد کر لیے تھے۔ دہلی آ کر آپؒ نے حدیث شریف کا باقاعدہ درس لینا شروع کیا اور باقی وقت کسی تنہائی کے مقام پر جاکر قرآن شریف حفظ کیا کرتے تھے۔ آپؒ نے حدیث شریف کی کتاب ’’مشارق الانوار‘‘ بھی پوری حفظ کر لی تھی۔ دہلی میں آپؒ قریباً چار سال تک مزید تعلیم حاصل کرتے رہے۔ آپؒ کے باکمال اساتذہ میں شمس الدین خوارزمی، رضی الدین حسن الصغانی کے شاگرد برہان الدین محمود بن ابی الخیر اسعد بخاری بلخی، امین الدین محدث تبریزی اور محمد بن احمد بن محمد الماریکلی شامل ہیں۔ اپنے پیرو مرشد حضرت بابا فرید الدین مسعود قدس اللہ سرہ العزیز سے علمِ ظاہر کا بھی درس بھی لیا۔ علمِ عقائد میں ابوشکور محمد بن عبدالسعید الکبشی السالمی ؒ کی کتاب ’’التمہید فی بیان التوحید‘‘ 

* صدر شعبہ عربی و علوم اسلامیہ ، جی سی یونیورسٹی لاہور 
سبقاً سبقاً پڑھی۔ تصوف میں شیخ شہاب الدین سہروردی ؒ کی تصنیف ’’عوارف المعارف‘‘ کے چھ ابواب 
پڑھے، اس کے علاوہ قرآن شریف کے دس پارے سنا کر تجوید درست کی۔ آپؒ نے شیخ حمید الدین ناگوری سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف ’’لوائح‘‘ بھی بابا فرید علیہ الرحمہ سے پڑھی۔ (۱)
حضرت نظام الدین اولیاء قدس اللہ سرہ العزیز اپنی گفتگو میں قرآن و حدیث، سیرت و تاریخ، فقہ و تصوف اور لغت و ادب کے حوالے دیا کرتے تھے۔ آپ اپنے مریدوں کو کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت کرنے کی ہدایت فرماتے تھے۔ آپ علوم القرآن پر دسترس رکھتے تھے۔ بعض اوقات کسی آیتِ مبارکہ کی تفسیر فرماتے اور اپنے سامعین کو قرآنی معارف سے آگاہ فرماتے۔ 
زیرِ نظر مضمون میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے’’ علوم القرآن‘‘ سے متعلق مباحث کو یکجا کر دیا جائے، تاکہ قرآن مجید سے متعلق اُن کے ارشادات سے مستفید ہوا جا سکے۔ 
تلاوتِ قرآن:
حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا:
’’ اَقْرَءُ وْا الْقُرْاٰنَ فَاِنَّہٗ ےَاْ تِیْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ شَفِیْعًا ‘‘۔ (۲)
’’قرآن شریف پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کرے گا۔‘‘
صحیح مسلم کی روایت کے مطابق جو شخص قرآن مجید پڑھتا ہے اور اس میں اٹکتا ہے اس کو دوگنا ثواب ہے۔ (۳) اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کو حفظ میں حائل رکاوٹوں کی پروا نہ کرتے ہوئے، کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ 
ایک دفعہ تلاوتِ قرآن اور حفظ کی برکتوں کا ذکر آیا۔ خواجہ امیر حسن علاء سجزی دہلوی نے عرض کی کہ اگر یاد کرنے کا موقعہ نہ ملے تو ناظرہ پڑھنا کیسا ہے؟ ارشاد ہوا کہ اچھا ہے، اس میں آنکھ کے لیے بھی ایک حظ ہے۔ ا س کے بعد فرمایا کہ شیخ کبیر حضرت بابا فرید قدس سرہ العزیز جس کسی سے قرآن یاد کرنے کے لیے کہتے، فرماتے کہ پہلے سورۂ یوسف یاد کرو کہ جو سورۂ یوسف یاد کر لیتا ہے، اس کی برکت سے حق تعالیٰ پورے قرآن کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ اسی مناسبت سے ارشاد فرمایا کہ پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جو شخص قرآن کو یاد کرنے کی نیت کرتا ہے مگر یاد نہیں کر پاتا اور اسی نیت کے ساتھ اس جہان سے رخصت ہو جاتا ہے اس کوجب قبر میں لٹاتے ہیں تو ایک فرشتہ آتا ہے اور بہشت سے ایک ترنج لا کر اس کے ہاتھ میں رکھ دیتا ہے۔ وہ شخص اسے کھا لیتا ہے اور تمام قرآن اسے حفظ ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد حشر کے دن اسے حافظ اٹھایا جاتا ہے۔ ‘‘(۴)
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ قرآن مجید کو ترتیل اور تردید کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔ حاضرین میں سے کسی نے سوال کیا کہ’’ تردید‘‘ کا کیا مطلب ہے؟۔۔۔ ارشاد ہوا کہ جس آیت سے پڑھنے والے کو ذوق اور رقّت حاصل ہو اس کی تکرار کرنی چاہیے۔ اس وقت فرمایا کہ ایک دفعہ رسول مکرم ﷺکچھ پڑھنا چاہتے تھے۔ جب بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم کہا تو اس بسم اللّٰہ ہی میں ان کے مبارک دل پر ایک کیفیت طاری ہو گئی اور بیس دفعہ اس کی تکرار فرمائی۔ (۵)
حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ختم قرآن کے بعد سورہ الحمد اور سورہ بقرہ کی چند آیتیں پڑھتے ہیں ،یہ کیا چیز ہے؟ اس کا واقعہ یہ ہے کہ حضرت رسالت مآب ﷺسے پوچھا گیا کہ: مَنْ خَیْرُ النَّاس (لوگوں میں سب سے اچھا کون ہے؟) حضرت محمد ﷺنے فرمایا ’’الحال المرتحل‘‘۔ ’’حال ‘‘اُسے کہتے ہیں جو کسی پڑاؤ پر آ کر اترے اور’’ مرتحل‘‘ اُسے کہتے ہیں جو روانہ ہو جائے اور یہ اشارہ اس طرف ہے کہ جب کوئی قرآن پڑھتا ہے اور ختم کرتا ہے تو گویا ایک منزل آ کر اترتا ہے اور جب دوبارہ شروع کرتا ہے تو گویا دوبارہ روانہ ہو جاتا ہے۔ پس انسانوں میں سے بہترین وہ شخص ہوتا ہے جو قرآن ختم کرتے ہی فوراً شروع بھی کر دیتا ہے۔ ایسے شخص کو رسول اکرم ﷺ نے ’’الحال و المرتحل‘‘ کی صفت سے یاد فرمایا ہے۔ (۶)
علامہ سیوطی ؒ کے مطابق ایک ختم سے فارغ ہوتے ہی دوسرا ختم شروع کر دینا مسنون ہے اور اس کی بابت ترمذی وغیرہ کی یہ حدیث سند قرار دی گئی ہے کہ خدا کے نزدیک سب سے بڑھ کر قابلِ پسند کام اُس شخص کا ہے جو قرآن کو شروع کرکے اُسے پڑھتاہے اور جب اُس کے خاتمہ پر پہنچتا ہے تو پھر سے آغاز کر دیتا ہے اور دارمی نے ’’سَنَد حَسَن‘‘ کے ساتھ بواسطہ ابن عباسؓ، ابی بن کعبؓ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺجس وقت ’’قُلْ اَعُوْذُ بِر؟بِّ النَّاسِ‘‘ پڑھ چکتے تو الْحَمْدُسے پھر شروع کر دیتے اور اس کو پڑھ لینے کے بعد سورۃ البقرہ میں سے بھی ’’َاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْن‘‘ تک قرأت فرماتے اور اس کے بعد ختمِ قرآن کی دعا فرما کر اٹھتے تھے۔ (۷)
آدابِ تلاوت:
خواجہ امیر حسن سجزی کے مطابق حضرت نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ:
قرآن خوانی کے آٹھ آداب ہیں۔ ان میں سے پانچ آداب بیان فرمائے۔ اوّل یہ کہ قرآن پڑھتے وقت پڑھنے والا اللہ سے لو لگائے رکھے اور اگر یہ چیز میسر نہ ہو تو چاہیے کہ جو کچھ پڑھتا ہو، اس کے معانی دل پر گزارے اور اگر یہ بھی میسر نہ ہو تو چاہیے کہ قرآن خوانی کے وقت اللہ کی عظمت و جلال کو اپنے دل پر طاری رکھے۔ حاضرین میں سے کسی نے سوال کیا کہ یہ بات بھی تو وہی تعلق بحق ہے جس کو پہلے ادب کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہوا کہ نہیں وہ ذاتِ حق سے متعلق ہے اور یہ صفات سے متعلق ہے۔ چوتھا ادب یہ بیان فرمایا کہ تلاوت کے وقت شرم غالب ہونی چاہیے کہ میں اس دولت کے لائق کہاں!!۔۔۔ میرے لیے اس سعادت کا موقع کیسے؟ ۔۔۔اور اگر یہ بھی نہ ہو تو اتنا سمجھے کہ اس قرآن خوانی کا اجر دینے والا اللہ تعالیٰ ہے، وہ مجھے ضرور ثواب عطا فرمائے گا۔۔۔ اس درمیان بندے (جامع ملفوظات)نے عرض کی کہ جب بھی بندہ قرآن مجید پڑھتا ہے تو جو کچھ اس کے کھلے معانی معلوم ہوتے ہیں وہ دل پر گزارتا ہے اور اگر تلاوت کے دوران بندے کا دھیان بھٹکتا ہے یا کسی اور فکر میں دل مشغول ہو جاتا ہے تو میں اپنے آپ سے کہتا ہوں کہ یہ کیسا دھیان ہے اور یہ کیسے پاگل پن کے خیالات ہیں!۔۔۔ اور پھر اپنے دِل کو ان کے معانی میں مشغول کر لیتا ہوں۔ اسی وقت کسی ایسی آیت پر پہنچ جاتا ہوں جو مذکورہ بالا خطراتِ قلب اور بے دھیانی کو روکنے والی ہوتی ہے یا ایسی کوئی آیت سامنے آتی ہے جس میں دل کی اس مشکل کا حل ہوتا ہے۔ خواجہ ذکرہ اللہ بالخیر نے فرمایا کہ یہ بہت اچھی چیز ہے، اس کو بنائے رکھنا۔ (۸)
قرأتِ کلام اللہ:
اللہ تعالیٰ جل مجدہ نے ارشاد فرمایا :
’’وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلاً‘‘ (۹) ’’اور قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کیجیے۔‘‘
حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺکی قرأت کی یوں تعریف کی ہے کہ: ’’ آپ  ﷺبڑی وضاحت کے ساتھ حرف حرف نمایاں کرکے پڑھا کرتے تھے۔ ‘‘ (۱۰)
شیخ نظام الدین اولیاءؒ نے فرمایا کہ میں نے ایک رات مولانا شرف الدین امام کے پیچھے نماز پڑھی۔ بہت اچھا اور پُرکیف پڑھتے تھے۔ حروف کے مخارج ادا کرنے کا جو حق ہے، اس کا پورا خیال رکھتے تھے۔ اس بات کی مناسبت سے حکایت بیان فرمائی کہ سنام کے رہنے والے ایک مولوی صاحب تھے جنہیں مولانا دولت یار کہتے تھے، وہ بہت اچھا اور خوب پڑھتے تھے ان سے زیادہ اچھا اور کوئی نہیں پڑھ سکتا تھا۔ (۱۱)

شیخ محبوبِ الٰہی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں نے چھ سیپارے شیخ کبیر قدس اللہ سرہ العزیز (حضرت بابا فریدؒ ) سے پڑھے ہیں۔ جس روز میں نے یہ گزارش کی کہ میں آپ سے قرآن پڑھنا چاہتا ہوں تو فرمایا کہ پڑھو۔ اس کے بعد جمعہ کے روز عصر کے وقت تک جبکہ فرصت رہتی تھی، میں کچھ پڑھا کرتا۔ الغرض چھ سیپارے شیخ سے پڑھ لیے۔ جب میں نے پڑھنا شروع کیا تو مجھ سے فرمایا کہ ’’الحمد للّٰہ ‘‘ پڑھو۔ جب میں نے پڑھنا شروع کیا اور ’’ولا الضالین‘‘ پر پہنچا تو ارشاد ہوا کہ’’ضاد‘‘ کو اس طرح پڑھو جیسے میں پڑھتا ہوں۔ ہر چند میں نے چاہا کہ اسی طرح پڑھوں جیسے شیخ پڑھ رہے ہیں لیکن نہ ہو سکا۔ پھر فرمایا کہ کیسی فصاحت اور بلاغت تھی، حضرت شیخ ’’ضاد‘‘ کو اس طرح پڑھتے تھے کہ کوئی اور نہیں پڑھ سکتا تھا۔(۱۲)
قرآن مجید کی قرأت کا ذکر نکلا تو حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا یہ دو فائدے میں نے ایک کتاب میں ایسے دیکھے ہیں جو اور کہیں کم دیکھے ہیں۔ ایک نکتہ اس آیت میں ہے:
’’وَاِذَ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّمُلْکًا کَبِیْرًا‘‘ (۱۳)
امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ مَلِکًا کَبِیْرًا پڑھتے تھے۔ دوسرا نکتہ اس آیت میں ہے: ’’لَقَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ‘‘ میں مِنْ اَنْفَسِکُمْ(۱۴) پڑھتے تھے۔ یہ’’ انفس‘‘ تفضیل ہے نفیس سے۔ (۱۵)
اختلافِ قرأت:
’’تفسیر کشاف‘‘ کا ذکر آیا، فرمایا کہ اس میں اَلْحْمْدُ کی تفسیر میں لکھا ہے کہ حسن بصریؒ کی قرأت اَلْحَمْدِ للّٰہ ہے۔ دال کے زیر سے ،اور دال کے زیر کی وجہ یہ سمجھتے ہیں کہ لِلّٰہ کا’’ لام‘‘ متصل ہے اور اس’’ لام‘‘ کی حرکت مبنی ہے۔ لیکن ابراہیم کی قرأت الحمدُ للّٰہ ہے ،دال پر پیش اور لام پر بھی پیش۔ یہ ابراہیم نخعی کی قرأت ہے یا کسی اور کی،اللہ بہتر جانتا ہے۔ بہرحال ’’کشاف‘‘ لکھنے والے کا کہنا یہ ہے۔ حسن بصریؒ کی قرأت سے ابراہیم کی قرأت بہتر ہے کیونکہ حسن بصری ؒ للّٰہ کی لام کی وجہ سے دال کی زیر رکھتے ہیں۔ یعنی للّٰہ کے لام کی زیر مبنی ہے۔ الحمد کی دال پر بھی زیر ہونا چاہیے۔ لیکن ابراہیم الحمد للّٰہ کے دال پر پیش ہونے اور للّٰہ کے لام کے ا س سے متصل ہونے کی وجہ سے لام پر بھی پیش لگاتے ہیں۔ کیونکہ الحمد کی دال کی حرکت ایک عامل کی وجہ سے ہے اور وہ اعراب جسے کوئی عامل بدل دے، وہ مبنی کے اعراب سے قوی ہوتاہے۔ خواجہ ذکرہ اللہ بالخیر نے یہ تشریح بیان فرمانے کے بعد فرمایا کہ میں نے اس سے ایک نتیجہ نکالا ہے اور وہ یہ ہے کہ الحمد کی دال ایسے شخص کی مانند ہے جس کا کوئی پیر ہو اور وہ اس سے کہے کہ اس طرح رہو اور اُس طرح رہو اور للّٰہ کا لام اسی شخص کی مانند ہے کہ جس کا کوئی پیر نہ ہو اور وہ جیسا ہے ویسا ہی رہے۔(۱۶) 
صوفےۂ کرام اور حفظِ قرآن:
قرآن مجید کا حفظ کرنا امت پر فرض کفایہ ہے۔ اگر ہر عہد کے کچھ لوگ حفظ کر لیں گے تو ایک نسل سے اگلی نسل میں قرآن مجید تواتر سے منتقل ہوتا رہے گا۔ صوفےۂ کرام نے حضور نبی کریم ﷺ کی اس حدیثِ مبارکہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیشہ قرآن مجید حفظ کرنے کی کوشش کی:
’’ اَفْضَلُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْاٰنَ وَعَلَّمَہٗ ‘‘ (۱۷)
’’تم میں سے بہترین وہ شخص ہے جو قرآن مجید سیکھتا ہے اوردوسروں کو سکھاتا ہے۔ ‘‘
مشائخ عظام میں سے کئی حافظِ قرآن تھے۔ ’’فوائد الفواد‘‘ میں ہے کہ:
’’ایک رات حضرت شیخ بہاء الدین زکریا رحمۃ اللہ علیہ نے حاضرین کی طرف رُخ کرکے فرمایا: تم میں سے کوئی ہے جو آج رات دو رکعت نماز پڑھے اور ایک رکعت میں قرآن مجید ختم کرے؟ حاضرین میں سے کوئی اس بات کے لیے آمادہ نہ ہوا۔ شیخ بہاء الدین ؒ آگے بڑھے اور ایک رکعت میں قرآن مجید ختم کر لیا اور چار سیپارے مزید پڑھے اور دوسری رکعت میں سورہ اخلاص پڑھ کر نماز پوری کی۔ ‘‘ (۱۸)
شیخ قطب الدین بختیار کاکی قدس اللہ سرہ العزیز کی بزرگی کا ذکر کرتے ہوئے حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ آپ ؒ نے آخری عمر میں قرآن مجید حفظ کیا اور جب پورا قرآن حفظ کر چکے تو آپ کا انتقال ہو گیا۔ رحمۃ اللہ علیہ ۔(۱۹)
ایک شخص نے حاضر ہو کر فاتحہ کی درخواست کی، اس نیت سے کہ قرآن یاد ہو جائے۔ خواجہ ذکرہ اللہ بالخیر نے پوچھا: کتنا حفظ کر چکے ہو؟ بولا ،تہائی حفظ کر لیا ہے۔ ارشاد ہوا کہ باقی کو تھوڑا تھوڑا کرکے یاد کر لو اور پہلے حفظ کیے ہوئے کو بھی دہراتے رہو۔ (۲۰)
ایک بار خواجہ نوح ،خواجہ نظام الدین سے ملنے آئے ۔اُن کے چلے جانے کے بعد آپ نے اُ ن کی بہت تعریف فرمائی اور کہا کہ ان کو قرآن یاد ہے اور ہر جمعہ کی رات قرآن ختم کرتے ہیں۔ (۲۱)
صلوٰۃ التراویح:

سلطان المشائخ نے ایک حکایت بیان فرمائی کہ امام اعظم ابوحنیفہ کوفی رحمۃ اللہ علیہ رمضان کے مہینے میں ایک قرآن تو تیس راتوں میں تراویح کے اندر ختم کرتے اور ایک ختم ہر روز اور ایک ختم ہر رات ۔ مجموعی طور پر رمضان کے مہینے میں اکسٹھ ختم فرماتے۔ (۲۲)
قرآن اورا س کے حفظ کی برکت کا ذکر آیا۔ حضرت شیخ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ بدایوں میں ایک صاحب تھے جن کو قرآن سات قرأتوں کے ساتھ یاد تھا اور بڑی صلاحیت والے اور صاحبِ کرامت تھے، ایک ہندو کے غلام تھے،ا ن کو’’ شادی مقری‘‘ کہتے تھے۔ ان کی ایک کرامت یہ تھی کہ جو بھی ان سے ایک صفحہ قرآن کا پڑھ لیتا، اللہ تعالیٰ اسے پورا قرآن پڑھنا میسر فرماتا۔ میں نے بھی ان سے ایک سیپارہ پڑھا اور اس کی برکت سے قرآن یاد ہو گیا۔ ‘‘ (۲۳)
فضیلتِ تلاوتِ سُوَر:
حضو رنبی کریم ﷺنے سورۂ اخلاص کی تلاوت کی فضلیت بیان فرمائی ہے۔ حدیث شریف میں ہے:
’’ قَالَ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْاٰنِ ‘‘ ۔(۲۴)
’’آپ ﷺ نے فرمایا قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ تہائی قرآن کے برابر ہے۔‘‘
ایک اور روایت میں ہے:
’’فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلّٰی اللّٰہُ عََلَےْہِ وَسَلَّمَ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بَیَدِہٖ اِنَّھَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقْراٰنِ۔‘‘ (۲۵)
’’تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے یہ (قل ھو اللّٰہ احد) ایک ثلث قرآن کے برابر ہے۔‘‘
فوائدالفوائد میں ہے کہ :
’’سورہ اخلاص‘‘ کی فضیلت کا ذکر نکلا۔زبانِ مبارک سے ارشاد ہواکہ پیغمبرﷺ نے فرمایاہے کہ سورہ اخلاص تہائی قرآن ہے۔پھر فرمایا کہ یہ جو ختم قرآن کے بعد تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھتے ہیں اس میں یہی حکمت ہے کہ اگر ختم کے دوران میں کچھ کمی رہ گئی ہوتو سورہ اخلاص کے تین مرتبہ پڑھنے سے ختم مکمل ہو جائے۔(۲۶)
نماز میں خاص سورتوں اور آیات کی تلاوت:
چونکہ احادیثِ مبارکہ میں بعض سورتوں یا آیات کی تلاوت کی فضیلت بیان ہوئی ہے اس لیے صوفیہ  کرام نے نفلی نمازوں میں بعض سورتوں یا آیات کی تخصیص کر دی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ اجر و ثواب کا حصول ممکن ہو۔ 
خواجہ محبوب الٰہی ؒ نے فرمایا کہ: نمازِ ظہر کے بعد دس رکعت پانچ سلاموں سے پڑھو اور ان دس رکعتوں میں قرآن مجید کی آخری دس سورتیں پڑھو۔ اس نماز کو’’ نمازِ خضر‘‘ کہتے ہیں۔ (۲۷)
سنت نمازوں میں سورتوں کا تعین فرمایا۔ صبح کی نماز کی سنتوں میں فاتحہ کے بعد’’ الم نشرح‘‘ اور’’ الم ترکیف‘‘، نماز ظہر کی چار رکعتوں میں سے ایک میں سورہ قل یا ایھا الکفرون سے قل اللّٰہ احد تک (سورہ کافرون، سورہ نصر، سورہ لھب، سورہ اخلاص) نمازِ ظہر کی دو رکعت سنت میں آیت الکرسی ، امن الرّسول، عصر کی نماز کی سنتوں میں اذا زلزلت الارض سے الھکم التکاثر (سورہ زلزال، سورہ عادیات،سورہ قارعہ، سورہ تکاثر) نمازِمغرب کی سنتوں میں سورۂ کافرون و سورۂ اخلاص، عشاء کی نماز کی چار سنتوں میں آیت الکرسی، امن الرسول، شھد اللّٰہ اور قل اللھم مالک الملک، عشاء کی نماز کی دو رکعت سنت میں قل یا ایھا الکفرون اور سورہ اخلاص، اور نمازِ وتر میں انا انزلنہ، سورہ الکافرون اور سورہ اخلاص۔ (۲۸)
خواجہ نظام الدین اولیاء قدس سرہ العزیز نے فرمایا کہ ایمان کی حفاظت کے لیے مغرب کی نماز کے بعد دو رکعت اس طرح پڑھنی چاہئیں: پہلی رکعت میں فاتحہ کے بعد سات مرتبہ سورہ اخلاص اور ایک مرتبہ سورۂ فلق اور دوسری رکعت میں فاتحہ کے بعد سورۂ اخلاص سات مرتبہ اور سورۃ الناس ایک مرتبہ۔ اس کے بعد سر سجدے میں رکھ دے اور تین دفعہ کہے ’’ یَا حَيُّ یَا قَیُّوْمُ ثَبِّتْنِیْ عَلَی الْاِےْمَانِ‘‘ (۲۹) خواجہ محبوبِ الٰہی علیہ الرحمہ نے ’’صلوٰۃ البروج‘‘ کی ترکیب اس طرح بتائی کہ نمازِ مغرب کے بعد دو رکعت اس طرح پڑھیں کہ پہلی رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد ’’والسماء ذات البروج‘‘ اور دوسری رکعت میں فاتحہ کے بعد والسماء والطارق پڑھی جاتی ہے۔ (۳۰)
صلوٰۃ النور، نمازِ استعاذہ، نماز اشراق اور صلوٰۃ الاستخارہ میں سورۂ فاتحہ کے بعد مخصوص سورتیں یا آیات تلاوت کرنے کی نصیحت فرمائی ہے۔ (۳۱)
خاص سورتوں کی تلاوت کے فوائد:
حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے شہد اور قرآن کو شفا قرار دیا ہے۔ قرآن مجید کی بعض سورتوں کی تلاوت کرنے یا دم کرنے سے بعض بیماریوں کا علاج کیا جا سکتا ہے یا بعض بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ علامہ جلال الدین سیوطی ؒ نے ’’الاتقان فی علوم القرآن‘‘ میں ایسی روایات نقل فرمائی ہیں جن میں قرآن مجید کی کچھ سورتوں یا آیات کو جسمانی بیماریوں کے لیے شفا بتایاگیا گیا ہے۔ (۳۲) حضرت نظام الدین اولیاء قدس اللہ سرہ العزیز کے ملفوظات میں بھی ’’دُنبل ‘‘کے مرض سے محفوظ رہنے کے لیےقرآنی نسخہ بتایا گیا ہے۔ شیخ محبوب الٰہی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ :
’’جو شخص نمازِ عصر کی سنتوں میں ’’سورہ بروج‘‘ پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ ’’دنبل‘‘ سے اس کو محفوظ رکھتا ہے۔ چونکہ ’’نارو‘‘ بھی اسی قبیل کی چیز ہے اس لیے اُمید ہے کہ اس سے حفاظت رہے گی۔‘‘ (۳۳)
قرآنی الفاظ کے لغوی و اصطلاحی معانی:
قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ ہمیں مختلف آیات کی تفہیم کے لیے اس میں موجود تمام الفاظ کے لغوی معانی جاننا ضروری ہیں۔ ’’فوائد الفواد‘‘ میں کئی قرآنی الفاظ کی لغوی تشریح کی گئی ہے۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ علیہ نے ’’الواجد‘‘ اور’’ الشکور ‘‘کے معانی اس طرح واضح فرمائے:
’’الواجد‘‘ کے معنی ہیں الغنی۔ اس کے بعد فرمایا کہ’’ الواجد‘‘ کے معنی وجد سے بھی آئے ہیں۔ یعنی وجد عطا کرنے والا، جیسے اللہ تعالیٰ کا ایک نام شکور ہے۔ شکور اس کو کہتے ہیں جو شکر ادا کرے لیکن یہاں اس کے معنی یہ ہیں کہ بندوں کا شکر قبول کرنے والا۔ اسی طرح ’’الواجد‘‘ ظاہر میں وہ ہو گا جو صاحبِ وجد ہو اور یہ بات پاک اور بدتر خدا کے لیے درست نہیں ہو گی۔ پس اس جگہ ’’واجد‘‘ کے معنی وجد عطا کرنے والے کے ہیں۔‘‘ (۳۴)
اصحابِ کہف کے حوالے سے قرآن مجید میں یہ بتایا گیا ہے کہ انہوں نے بیدار ہونے کے بعد اپنے ایک ساتھی کو شہر بھیجا کہ وہ ’’اَزْکیٰ طَعَامًا‘‘ (۳۵) لائے۔ حضرت نظام الدین اولیاء قدس سرہ العزیز سے پوچھا گیا کہ اس سے کیا مراد تھی؟ فرمایا کہ وہ ایسا کھانا چاہتے تھے جو طبیعتوں کو مرغوب ہو۔ بعض لوگوں کے قول کے مطابق اس کھانے سے مراد چاول تھے۔ واللہ اعلم۔ (۳۶)
خواجہ محبوب الٰہی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ایک درویش سے پوچھا گیا کہ تمہیں کلام اللہ کی کون سی آیت سب سے زیادہ پسند ہے؟ بولے ’’اُکُلُھَا دَائمٌ‘‘ (۳۷) (جنت کے درختوں میں ہمیشہ پھل رہتے ہیں) اس وقت یہ نکتہ بیان فرمایا کہ ’’اَکلٌ‘‘ ہے اور’’اُکلٌ ‘‘اور’’اَکْلَۃٌ‘‘ ہے اور ’’اُ کْلَۃٌ‘‘ ہے۔ اس کے بعد ان چار کلموں کی تشریح فرمائی کہ: اَکلٌ (کھانا) مصدر ہے۔ اُکلٌ جو کچھ کھاتے ہیں۔ اَکلَۃٌ ایک بار ایک ہی دفعہ کھانا اور اُکلۃٌ ایک نوالہ۔ (۳۸)
ایک موقع پر حضرت سلطان المشائخ قدس اللہ سرہ العزیز نے فرمایا کہ:
اللہ تعالیٰ ’’اَلَدُّ الْخِصَام‘‘ کو اپنا دشمن قرار دیتا ہے اور’’ الدالخصام‘‘ وہ شخص ہوتا ہے جو سخت دشمنی پیدا کرے۔ (۳۹)
تفسیری مباحث:
قرآن مجید کی سورۃ الاحقاف میں اللہ تعالیٰ نے انسانی بچے کے حمل و رضاعت کی کل مدت تیس ماہ بتائی ہیں۔ چونکہ ایک دوسری آیتِ مبارکہ میں رضاعت کی مدت دو سال بتائی گئی ہے اس لیے حمل کی اقل مدت چھ ماہ بنتی ہے۔ 
حضرت محبوبِ الٰہی رحمۃ اللہ علیہ کی زبان سے ارشاد ہوا کہ ایک دفعہ کوئی شخص امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور ان سے کہا کہ میں نے ایک عورت سے چھ مہینے پہلے شادی کی تھی۔ آج اس نے بچہ جنا ہے۔ اس بارے میں کوئی حکم فرمائیے۔ ’’فَاَمَرَبِرَ جْمِھَا‘‘ (پس انہوں نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا)۔ اسی مجلس میں امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ موجود تھے، وہ کچھ سوچنے لگے۔ امیر المومنین عمرؓ نے حضرت علیؓ سے مخاطب ہو کر کہا کہ مَا تقول، آپ اس بارے میں کیافرماتے ہیں؟حضرت علیؓ نے کہا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ: ’’وَحَمْلُہٗ وَفِصٰلُہٗ ثَلٰثُوْنَ شَھْراً‘‘(۴۰) یعنی بچے کے حمل کی مدت اور اس کے دودھ پلانے کی مدت تیس مہینے ارشاد ہوئی ہے۔ پس دو سال کی مدت تو دودھ پلانے کی ہوئی۔ اس لیے یہ بھی درست ہو گا کہ حمل کی مدت چھ مہینے ہو۔ اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے وہ حکم منسوخ فرما دیا اور کہا : ’’لَولَا عَلِیٌّ لَھَلَکَ عُمَرْ‘‘ اگر علیؓ نہ ہوتے تو عمرؓ ہلاک ہو جاتا۔ (۴۱)
یہ واقعہ قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر مظہری میں بروایت قتادہ نقل کیا ہے۔ (۴۲)
ولایت کی دو قسمیں ہیں: ایک ولایتِ ایمان اور دوسری ولایتِ احسان۔ ولایتِ ایمان تو یہ ہے کہ جو بھی مومن ہے وہ ولی ہو سکتا ہے۔ اس موقع پر یہ آیت یاد دلائی:
اَﷲُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ یُخْرِجُھُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ(۴۳) 
’’اللہ اِ ن لوگوں کا ولی ہے جو ایمان لائے ،ساور اللہ انہیں اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے۔‘‘
البتہ ولایتِ احسان یہ ہے کہ کسی کو کوئی کشف اور کرامت اور عالی مرتبہ حاصل ہو جائے۔(۴۴)
ایک شخص نے عرض کی کہ معراج کی کیانوعیت تھی؟ حضرت محبوبِ الٰہی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مکے سے بیت المقدس اسراء تھا اور بیت المقدس سے پہلے آسمان تک معراج تھی اور پہلے آسمان سے قَابَ قَوْسَیْن کے مقام تک اعراج۔ اُس شخص نے اپنے سوال میں اضافہ کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کہتے ہیں کہ جسم کو بھی معراج ہوئی اور روح کو بھی، ہر ایک کو کس طرح ہو سکتی ہے؟ اس پر خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نے یہ مصرع پڑھا:

’’فظُنَّ خیراً ولا تسئل عن الخبر‘‘۔
’’یعنی اچھا گمان رکھو اور تحقیق حال میں مت لگو۔‘‘
اس موقع پر فرمایا کہ اس پر بھی ایمان رکھنا چاہیے اور زیادہ تحقیق و تفتیش میں نہیں پڑنا چاہیے۔(۴۵)
تفاسیر قرآن و مفسرین کا ذکر:
سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ قرآن و حدیث کے جیّد عالم تھے۔ آپؒ کے خلیفہ خواجہ امیر حسن سجزی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق ۷ ذی القعدہ ۷۰۹ھ بروز پیر جب وہ اپنے مرشد کریم کے ہاں حاضر ہوئے، اُن کے سامنے امام ناصر الدین رحمۃ اللہ علیہ کی’’ تفسیر ناصری ‘‘تھی اور خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ صاحبِ تفسیر کے حالات بیان کر رہے تھے۔ (۴۶) پروفیسر محمد سرور کے مطابق امام ناصر الدین رحمۃ اللہ علیہ رضیہ سلطانہ کے عہد حکومت میں تھے۔ اُس زمانے میں آپ کی تفسیر القرآن ایک معیاری تفسیر سمجھی جاتی تھی۔ (۴۷)
ایک دفعہ امام ناصر الدین بیمار ہو گئے اور اس بیماری میں انہیں سکتہ ہو گیا۔ اقرباء اور دوستوں نے جانا کہ انتقال کر گئے۔ چنانچہ انہیں قبر میں دفن کر دیا گیا۔ جب رات ہوئی تو انہیں ہوش آ گیا اور معلوم ہوا کہ انہیں قبر میں دفن کر دیا گیا ہے۔ اسی حیرت اور لاچاری میں انہیں یاد آیا کہ جو شخص پریشانی میں چالیس بار سورۂ ےٰسٓ پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس تنگی میں کشادگی عطا فرماتا ہے اور راہ پیدا کر دیتا ہے۔ اسی وقت ےٰسٓ پڑھنی شروع کر دی۔ جب اُنتالیس مرتبہ پڑھ چکے تو کشادگی کے آثار پیدا ہوئے اور ہوا یہ کہ کوئی کفن چور کفن کے لالچ میں آیااور اُس نے قبر کھولی۔ امام سمجھ گئے کہ یہ کفن چور ہے۔ چالیسویں مرتبہ سورہ ےٰسٓ پڑھی تو آہستہ آہستہ پڑھی تاکہ وہ نہ سنے اور قبر کو مرضی کے موافق کھولے۔ قصہ مختصر جب چالیس بارسورہ ےٰسٓ پوری ہو گئی تو امام ناصر آہستہ سے قبر کے باہر آئے۔ کفن چور نے جب یہ دیکھا تو اس پر ایسی دہشت طاری ہوئی کہ اس کا پِتّہ پھٹ گیا اور اسی وقت مر گیا۔ امام کو اس کے مرنے کا بہت دُکھ ہوا۔ انہوں نے اس واقعہ کے بعد تفسیر لکھی۔ (۴۸)
صاحبِ کشاف کے بارے میں فرمایا کہ افسوس! کہ اتنے علوم رکھنے کے باوجود وہ باطل عقیدہ رکھتا تھا۔ اس کے بعد حکایت بیان فرمائی کہ میں نے مولانا صدر الدین قونیوی سے سُنا ہے وہ کہتے تھے کہ ایک دفعہ میں مولانا نجم الدین سنامی کے پاس تھا،انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ کس شغل میں رہے ہو؟ میں نے کہا مطالعۂ تفسیر میں۔ پوچھا کونسی تفسیر؟۔۔۔ میں نے کہا’’ کشاف ‘‘اور ’’ایجاز ‘‘اور’’ عمدہ‘‘۔ مولانا نجم الدین نے کہا کہ’’کشاف‘‘ اور’’ ایجاز ‘‘تو جلا دو، بس ’’عمدہ‘‘ کو پڑھو۔ مولانا صدر الدین کہتے تھے کہ مجھے یہ بات ناگوار ہوئی اور میں نے ان سے کہا کہ آپ ایسا کیوں کہتے ہیں؟ بولے شیخ بہاء الدین زکریا رحمۃ اللہ علیہ نے یہی کہا ہے۔ مولانا صدر الدین کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات بھی ناگوار گزری۔ رات کو یہ تینوں کتابیں چراغ کے سامنے پڑھ رہا تھا۔ ’’ایجاز ‘‘اور’’ کشاف ‘‘کو میں نے نیچے رکھ دیا تھا اور’’ عمدہ‘‘ ان دونوں کتابوں کے اوپر تھی۔ اسی درمیان میں سو گیا۔ یکایک شعلہ بھڑکا، میں بیدار ہو گیا۔ ’’کشاف‘‘ اور ’’ایجاز‘‘ دونوں جو نیچے رکھی تھیں جل گئی تھیں اور’’ عمدہ‘‘ سلامت رہ گئی تھی۔ (۴۹)
دوسری حکایت بیان فرمائی کہ حضرت شیخ صدر الدین عارف رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دفعہ چاہا کہ نحو مفصل پڑھیں۔ا پنے والد کے سامنے عرضداشت کی۔ شیخ بہاء الدین زکریا رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ آج رات صبر کو لو اور ذرار ات گزر جانے دو۔ جب رات ہوئی تو خواب میں دیکھا کہ کسی کو زنجیر میں جکڑے کھینچ کر لے جا رہے ہیں۔ پوچھا یہ کون ہے؟ کہا یہ زمخشری مفصل لکھنے والا ہے۔ اس کو دوزخ میں لے جا رہے ہیں۔ (۵۰)
نورِ قرآن :
حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
خواجہ حسن افغان اُمّی تھے، کچھ بھی نہیں پڑھا تھا۔ لوگ ان کے پاس آتے اور ان کے سامنے کاغذ اور تختی رکھ دیتے تھے جن پر چند سطریں لکھی ہوتیں، بعض نظم میں اور بعض نثر میں، بعض عربی میں اور بعض فارسی میں۔ ہر موضوع پر چند سطریں لکھتے تھے اور ان سطروں کے درمیان ایک سطر قرآن مجید کی آیت کی بھی لکھ دیتے تھے۔ پھر ان سے پوچھتے تھے کہ ان سطروں کے درمیان قرآن کی سطر کون سی ہے؟ وہ قرآن کی آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوتے کہ یہ ہے۔ ان سے کہا جاتا کہ آپ نے توقرآن پڑھا نہیں ہے، آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ قرآن کی آیت ہے؟۔۔۔ فرماتے کہ جو نور اس سطر میں دیکھتا ہوں وہ دوسری سطروں میں نہیں ہے۔ (۵۱)
حوالہ جات
۱۔ فاروقی، نثار احمد، پروفیسر، مقدمہ فوائد الفواد، مترجم خواجہ حسن ثانی نظامی دہلوی (دہلی: اُردو اکادمی، ۱۹۹۲ء) ص۷۷۔۱۰۶۔
۲۔ صحیح مسلم، کتاب فضائل القرآن، باب فضل قراء ۃ القرآن و سورہ البقرۃ۔
۳۔ صحیح مسلم، کتاب فضائل القرآن، باب فضیلت حافظ القرآن۔
۴۔ فوائد الفواد۔ جلد دوم، مجلس بست ویکم۔

۵۔ ایضاً۔ جلد دوم، مجلس بست و سوم۔
۶۔ ایضاً۔ جلد چہارم، مجلسِ بستم۔
۷۔ سیوطی، جلال الدینؒ ، الا تقان فی علوم القرآن، ۱:۳۰۰۔
۸۔ فوائد الفواد، جلد دوم۔ ۹۔ المزمل:۷۳:۴۔
۱۰۔ سیوطی،الا تقان فی علوم القرآن: ۲۸۵۔ ۱۱۔ فوائد الفواد، جلد چہارم، مجلس سی و دوم۔
۱۲۔ ایضاً:اعجاز الحق قدوسی (مترجم) سیر الاولیاء از امیر خورد (لاہور: اردو سائنس بورڈ، ۱۹۹۶ء) ص۱۶۳۔
۱۳۔ الدھر۔ ۷۶:۲۰۔
۱۴۔ التوبۃ۔ ۹: ۱۲۸۔ ۱۵۔ فوائد الفواد، جلد پنجم، مجلس چہارم۔
۱۶۔ فوائد الفواد، جلد سوم، مجلسِ یازدہم۔
۱۷۔ مسند احمد، جلد ۱، ص۵۷، ۵۸۔
۱۸۔ فوائد الفواد، جلد اوّل، مجلس پنجم۔
۱۹۔ ایضاً، جلد دوم، مجلس سی ام۔
۲۰۔ ایضاً، جلد سوم، مجلسِ سوم۔
۲۱۔ ایضاً، جلد دوم، مجلس سی و ہشتم۔
۲۲۔ فوائد الفواد، جلد چہارم مجلسِ نہم۔
۲۳۔ ایضاً، جلد چہارم، مجلس بست و ہشتم۔
۲۴۔ صحیح مسلم، کتاب فضائل القرآن، باب فضل قِرَآءَۃِ قُلْ ھُوَ اللّٰہ اَحَدٌ ۔
۲۵۔ صحیح بخاری، کتاب التفسیر، باب فضل قل ھو اللّٰہ احد۔
۲۶۔ فوائد الفواد، جلد چہارم، مجلسِ بستم۔ ۲۷۔ فوائد الفواد، جلد اول، مجلس نو ز دہم۔
۲۸۔ ایضاً، ۲۹۔ ایضاً جلد دوم، مجلس پنجم۔
۳۰۔ ایضاً۔ ۳۱۔ ایضاً ، جلد اوّل، مجلس بست ویکم۔
۳۲۔ سیوطی، جلال الدینؒ ، علامہ، الا تقان فی علوم القرآن،، مترجم محمد حلیم انصاری (لاہور: ادارۂ اسلامیات، ۱۹۸۲ء) جلد دوم، ص۴۰۔۴۰۷۔
۳۳۔ فوائد الفواد، جلد دوم،مجلس سی ویکم۔
۳۴۔ ایضاً، جلد اوّل،مجلس سی ویکم۔
۳۵۔ الکہف: ۱۸:۱۹۔ ۳۶۔ فوائد الفواد، جلد چہارم، مجلس شصت و سوم۔
۳۷۔ ایضاً۔۱۳:۲۵۔ ۳۸۔ فوائد الفواد، جلد چہارم، مجلس سی و ہفتم۔
۳۹۔ ایضاً، جلد پنجم، مجلس بستم۔ ۴۰۔ الاحقاف :۴۶:۱۵۔
۴۱۔ فوائد الفواد، جلدپنجم، مجلسِ بست و سوم۔
۴۲۔ محمد ثناء اللہ، قاضی۔ التفسیر المظہری (کوئٹہ: بلوچستان بکڈپو، ۱۹۸۳ء) جلد۷۔۸، ص۴۰۳۔
۴۳۔ البقرہ۔ ۲:۲۵۷۔ ۴۴۔ فوائد الفواد، جلد پنجم، مجلس بست و ششم۔
۴۵۔ ایضاً، جلد سوم، مجلس پنجاہ و ہشتم۔
۴۶۔ ایضاً، جلد دوم، مجلس ہجدہم۔
۴۷۔ محمد سرور، پروفیسر (مترجم) اردو فوائد الفواد (لاہور: محکمہ اوقاف پنجاب، ۱۹۷۳ء) ص ۱۴۸۔
۴۸۔ فوائد الفواد، جلد دوم، مجلس ہجدہم۔ ۴۹۔ ایضاً، جلد سوم، مجلسِ ایازدہم۔
۵۰۔ ایضاً۔ ۵۱۔ ایضاً، جلد اوّل، مجلسِ ہشتم۔