Urdu Articles

سیّد علی ہجویری ؒ کی معاصر صوفیۂ کرام سے ملاقاتیں

*ڈاکٹر محمدسلطان شاہ

صوفیۂ عظام رحمہم اللہ کے نزدیک قرآنِ کریم اوراحادیثِ مبارکہ تصوف کا بنیادی مآخذ ہیں۔ اس لیے پہلے وہ علومِ قرآن وحدیث کی تحصیل کرتے ہیں پھر تزکیۂ نفس کے لیے کسی مرشدِ کامل کی تلاش میں نکلتے اور سلوک واحسان کی منازل طے کرتے ہیں ۔ بیشتر سالکان راہِ طریقت کسی ایک ہی کامل ہستی کی توجہ اورتربیت سے عارف بن جاتے ہیں اور بعض متلاشیانِ معرفت کو ایک سے زیادہ صوفیۂ کرام کی صحبت و تربیت سے گوہرِ مقصود تک رسائی ملتی ہے، لیکن تصوف کی دنیامیں اپنے مرشد کے علاوہ دیگر کاملانِ عصر اور عارفانِ وقت سے فیض حاصل کرنا کبھی معیوب نہیں سمجھا گیا۔صوفیہ کے تذکار اور مشائخ کے ملفوظات میں اس کی اَن گنت مثالیں ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر حضر ت خواجہ معین الدین چشتی اجمیر ی قدس سرہ العزیز نے خرقۂ خلافت تو حضرت شیخ الشیوخ خواجہ عثمان ہرونی قدس سرہ سے حاصل کیا لیکن وہ اپنے زمانے کے متعدد نامور مشائخ عظام کی زیارت سے مشرف ہوئے او ر ان کی صحبت سے فیض یاب ہوئے جن میں حضرت سلطان الاولیاء، محبوب سبحانی غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ جن کی صحبت میں ستاون روز تک رہے، شیخ ضیاء الدین ابو النجیب عبدالقاہر سہروردی، شیخ نجم الدین کبریٰ ،شیخ یوسف ہمدانی ،شیخ اوحد الدین کرمانی اورشیخ المشائخ ابو سعید تبریزی رحمۃ اللہ علیہم شامل ہیں ۔(۱) شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں کہ :
’’میرے بھائی شیخ بہاء الدین زکریا قدس سرہ العزیز نے بہت سفر کیے تھے ۔ مَیں نے ۱۳۸۰مشائخ کبار سے ملاقات کی تھی لیکن شیخ بہاء الدین زکریا ؒ نے بے شمار مشائخ سے ملاقات کی تھی‘‘۔(۲)
مخدوم الاولیاء، سلطان الاصفیاء حضرت علی بن عثمان ہجویری قدس سرہ العزیز نے شیخ ابوالفضل الختلی الشامیؒ کے دستِ اقدس پر بیعت کی اور قریباً چالیس برس تک انہیں اپنے شیخ کی صحبت ورفاقت کا شرف حاصل رہا۔(۳)

*۔ صد ر شعبہ عربی وعلومِ اسلامیہ ،جی سی یونیورسٹی لاہور 
حضرت سیّد ہجویر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ’’کشف المحجوب‘‘ میں متعدد با ر اپنے مرشدِکریم شیخ ابوالفضل ختّلی رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر کیا ہے۔ دراصل ان کے بارے میں زیادہ تر معلومات کا سرچشمہ سیّدعلی ہجویریؒ کی یہی کتاب ہے۔ اپنے شیخِ طریقت کے علاوہ سیّدِ ہجویر علیہ الرحمہ کی جن معاصر صوفیۂ کرام سے ملاقاتیں ہوئیں ان کا ذکر بھی اسی کتاب کے متعدد صفحات پر بکھرا ہوا ہے ۔ حضرت مخدوم علی ہجویری ؒ رقمطراز ہیں :
’’ مَیں نے تین سو مردانِ خدا ،خراسان میں ایسے پائے جوآفتابِ طریقت ہیں‘‘۔(۴)
کئی تذکرہ نویسوں نے حضرت سیّد ہجویررحمۃ اللہ علیہ کی مختلف علاقوں میں موجود اپنے معاصر اولیاء کرام سے ملاقاتوں کا ذکر کیا ہے ۔ سیّد صباح الدین عبدالرحمن نے" بزم صوفیہ" میں لکھا ہے:
’’روحانی کسب وکمال کے لیے تمام اسلامی ممالک شام، عراق،بغداد،پارس،قہستان، آذربائیجان ،طبرستان،خوزستان، کرمان، خراسان، ماوراء النہراورترکستان وغیرہ کا سفر کیااور وہاں کے اولیائے عظام اورصوفیائے کرام کی رُوح پرور صحبتوں سے مستفیض ہوئے‘‘۔(۵)
اس ضمن میں ڈاکٹر ظہور الحسن شارب رقمطراز ہیں :
’’آپؒ نے خراسان،ماوراء النہر ،مَرو، آذربائیجان وغیرہ کی سیروسیاحت کی ،بہت سے درویشوں سے ملے اوربہت سی برگزیدہ ہستیوں سے استفادہ کیا۔ حضرت شیخ ابوالقاسم گرگانی،حضرت شیخ ابو سعید ابوالخیر اور حضرت شیخ ابوالقاسم قشیری رحمہم اللہ تعالیٰ کے رُوحانی فیوض سے مستفید ومستفیض ہوئے‘‘۔(۶)
نواب معشوق یار جنگ نے "اخبارالصالحین "میں اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھاہے:
’’حضرت شیخ علی الہجویری داتاگنج بخشؒ نے جن مشائخ کو دیکھا اور ان کی صحبت میں رہے ان کے نام نامی یہ ہیں :
حضرت شیخ ابوالفضل حسن خُتّلی ،ابوالقاسم عبدالکریم قشیری، ابوالعباس احمدبن محمدشقاقی، ابوالقاسم علی بن عبداللہ الکرمانی ،ابو احمد مظفر بن احمدبن حمدان ‘‘(رحمہم اللہ تعالیٰ)۔(۷)
مولانا عبدالرحمن جامی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق شیخ علی بن عثمان الجلابی الہجویری رحمۃ اللہ علیہ مشائخ کبار کی صحبت سے مستفیض ہوئے ۔(۸)
روسی مستشرق پروفیسر ژوکو فسکی(Professor Zhukovsky) نے حضرت سیّد علی الہجویریؒ کے اپنے شیخ طریقت ابوالفضل ختّلیؒ کے علاوہ دیگر صوفیۂ عظام سے اکتسابِ فیض کرنے کے بارے میں لکھا ہے:
'' Besides Khuttali, Jullabi had other guides who are followers of Junayd. '' (۹) 
ہم عصر مشائخ کرام سے ملاقاتیں حضرت علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کی تعمیر شخصیت میں ممدومعاون ثابت ہوئیں ۔ اس کے متعلق ژوکوفسکی کا کہنا ہے:
'' The many sided development of Jullabi was fostered in a material degree by his travels, and in his time he travelled much. He visited many parts of the Musulman world, and thus came in contact with leading religious men and Sufis of his day..... and debated with them questions in which he was interested, and striving the while to determine the merits of those with whom he talked''.(۱۰) 
پروفیسر اینا سفوروا(Anna Suvorova)نے سیّد علی بن عثمان ہجویری قدس سرہ العزیز کے اسفار کی غرض وغایت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
''Like many sufis before and after him, al-Hujwiri travelled all over the Muslim world in search of Knowledge and for intercourse with the spiritual fratermity".(۱۱) 
پادری جان۔ اے سبحان (John A. Subhan)رقمطراز ہے:
'' Like most of the sufis ha was a great wanderer. He travelled through the great part of the Muslim empire of his time; from Syria to Turkistan and from the Indus to the Caspian Sea. In all the places he visited, he sought out the sufis and saints and conversed with them''.(۱۲) 
شیخ علی ہجویری ؒ کو امام ابوالقاسم عبدالکریم بن ہوازن قشیریؒ (۳۷۶ھ۔۴۶۵ھ) کی صحبت میسر رہی ،جو نامور صوفی اورمحدث تھے۔ انہوں نے شیخ ابوعلی الحسن بن علی النیشا پوری الدّقّا ق سے خرقۂ خلافت حاصل کیا، جو اپنے زمانے کے صاحب کشف وکرامت بزرگ تھے ۔ شیخ ابوعلی الحسنؒ نے اپنی بیٹی فاطمہ کا عقدامام قشیری ؒ سے کردیا جن کے بطن سے چھ بیٹے اور ایک بیٹی پید ا ہوئی ۔ آ پؒ کی سب سے معروف تصنیف "رسالہ قشیریہ" ہے جسے انہوں نے ۴۳۷ھ میں لکھنا شروع کیا اور ۴۳۸ھ کے اوائل میں مکمل کیا ۔(۱۳) سیّد علی ہجویری نے "کشف المحجوب" میں کئی باراُن کا ذکر کیا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
’’ مَیں نے استاد ابوالقاسم قشیری ؒ سے سنا، فرماتے ہیں کہ: مَیں نے ایک بار طائرانی سے پوچھا کہ آپ اپنا ابتدائی حال سنا ئیں۔ فرمایا: ایک وقت مجھ پر وہ تھا کہ ایک پتھر کی ضرورت پڑی، رودخانہ سرخس میں جو پتھر مَیں نے اٹھایا ،وہی جوہر بن گیا۔ مَیں نے اسے پھینک دیا۔ یہ اس لیے نہیں کہ ان کی نظر میں جو ہر اور پتھر یکساں تھے، بلکہ اس لیے کہ انہیں پتھر کی ضرورت تھی، جو ہر درکار نہ تھا‘‘۔(۱۴)
ایک اور مقام پر سیّد علی ہجویریؒ نے ان سے سماعت کی ہوئی گفتگو یوں نقل فرمائی: 
’’ مَیں نے استاد ابوالقاسم قشیریؒ سے سنا کہ لوگوں نے فقر اور غناء میں گفتگو کرکے اپنے لیے ایک کو پسند کرلیاہے۔ مگرمَیں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے لیے میرا جمیلِ حقیقی جو پسند فرمائے، اس میں ہی مجھے رکھے۔اگر میرے لیے غنا ء پسند فرمائے تو مجھے اپنی یاد سے غافل نہ کرے اور اگر فقر پسند فرمائے ،تو اس میں حریص ہونے سے محفوظ رکھے‘‘۔(۱۵)
حضرت ابوالحسن علی بن جعفر خرقانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی ۴۲۵ھ)قزوین کے قریب خرقان کے رہنے والے تھے اور اپنے زمانہ کے غوث ہوئے ہیں۔(۱۶)فرقان بالتحریک استر آباد کے راستہ پھر بسطام کی بستیوں میں سے ایک بستی کا نام ہے جہاں ابوالحسن علی ابن احمد ؒ قبر ہے۔آپؒ صاحبِ کرامت ہیں۔ انہوں نے تہتر سال کی عمر میں۴۲۵ء میں وفات فرمائی۔(۱۷)صاحبِ کشف المحجوب ان کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
’’استاد ابوالقاسم قشیری رحمۃ اللہ علیہ سے سنا کہ فرماتے ہیں:جب ہم ولایت خراسان میں آئے تو ہماری فصاحت ختم ہوگئی اور عباراتِ حال جاتی رہیں،یہ دبدبہ وشوکت پیر خراسانی کا تھا کہ ہم اپنے منصبِ ولایت سے وہاں کی مدتِ قیام میں معزول ہوگئے۔(۱۸)
ابوالقاسم عبدالکریم بن ہوازن قشیری رحمۃ اللہ علیہ سے حضرت علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے سنا کہ انہوں نے فرمایا :
’’مثل المتصوف کعلۃ البرسام اولہ ہذایان وآخرہ سکوت واذا تمکنت خرس‘‘۔(۱۹)
(صوفی کی مثال مریض برسام کی سی ہے جس کی ابتداء ہذیان اوربہکی بہکی باتوں سے ہوتی ہے اورآخر میں خاموشی ،اور جب وہ متمکن ہوجاتا ہے تو گونگا کردیاجاتاہے)
شیخ ابوالقاسم گرگانی رحمۃ اللہ علیہ اپنے زمانے کے معروف صوفی تھے۔ آپؒ بڑے قوی حال تھے۔ چنانچہ آپ تمام مشائخِ عصر کی توجہ کا مرکز تھے اور سب آپ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ آپ پر مریدوں کے احوال وواقعات منکشف ہوتے تھے۔(۲۰)
سیّد علی ہجویری قدس سرہ العزیز حضرت ابوالقاسم علی بن عبداللہ گرگانیؒ (المتوفٰی ۴۵۰ھ) کی صحبت سے بھی مستفیض ہوتے رہے۔ ان کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’ایک روز میں شیخ گرگانؒ کی خدمت میں حاضرتھا اور اپنے لطائف جو مجھ پر منکشف ہوئے تھے ،عرض کررہا تھا تاکہ اپنا حال ان کی ہدایت کے مطابق درست کروں کیونکہ آپ ناقدِ وقت تھے۔ حضرت علی گرگانی رحمۃ اللہ علیہ میرا تمام حال احترام کے ساتھ سُنتے ہیں۔ میرا لڑکپن، اوربچپن کانخوت اور جوشِ جوانی مجھے اپنے حال کی ترجمانی پر حرص بڑھا رہا تھااور دل میں یہ خیال سکہ زن ہوا کہ جو لطائف مجھ پر منکشف ہوئے ہیں شاید اس قد ر لطائف ان پر منکشف نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اتنے غور وخوض سے سُن رہے ہیں ۔ شیخ علی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی فرا ستِ ولایت سے میرے ضمیر کی آواز وخیال کو پہچان لیا اور فرمایا :اے جانِ پدر! میری یہ فروتنی اورنیاز مندی تیرے لیے نہیں ہے بلکہ ہر مبتدی سے جو اپنے حالات لطائف مجھے سناتا ہے ، ایسے ہی سناتا ہے ، یہ تمہارے لیے خاص نہیں ہے۔ جب مَیں نے آپ سے یہ الفاظ سُنے تو میں خاموش ہوگیا۔ آپ نے جب میری یہ خجالت محسوس فرمائی تو مجھ سے فرمایا: بیٹا!انسان کو طریقت میں اس سے زیادہ نسبت نہیں کہ جب وہ اس طریق کو اختیار کرتا ہے تو پھر اس کوچہ کے سوا کسی اورسمت اُسے جانا منظور نہیں ہوتا اور جب وہ اس منزل سے معزول کردیا جاتا ہے تو اسے اس کوچہ کے مذاکرہ سے فرحت ہوتی ہے، تو نفی واثبات اورفقدانِ وجود ہر دو، ایک خواہش کے ماتحت ہیں اور انسان کبھی اپنے پندارِ وہم وخواہش سے رستگار نہیں ہوسکتا، اُسے چاہیے کہ بارگاہِ ایزدی میں بندگی وعبودیت اختیار کرے اورتمام نسبتوں کو اپنے سے رفع کرکے سوا نسبت مردانگی اور خرم واستقلال وفرمانبرداری کے ،کسی وقت التفات نہ رکھے‘‘۔(۲۱)
معاصر صوفیہ عظامؒ ایک دوسرے کے روحانی مقام و مرتبے سے واقف ہوتے ہیں۔چنانچہ 
حضرت سیّد ہجویر رحمۃ اللہ علیہ اپنے ہم عصر خواجہ گرگانی قدس سرہ العزیز کے بارے میں لکھا ہے: 
’’حضرت ابوالقاسم گرگانی رحمۃ اللہ علیہ آج کے دن قطب مدار ہے۔‘‘(۲۲)
خواجہ ابو احمد مظفر بن احمد حمدان رحمۃ اللہ علیہ پر اللہ تعالیٰ جل مجدہ نے حکمرانی کی حالت میں معرفت کا دروازہ کھول دیا اور کرامت کا تاج ان کے سر پر رکھ دیا۔ آپ بڑے خوش بیان تھے او ر فنا وبقا کے موضوع پر خوب تقریر کرتے تھے۔(۲۳)
حضرت مخدوم سیّد علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے ابو احمد مظفر رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق لکھا ہے :
’’ مَیں نے خود حضرت ابو احمد مظفر ؒ سے سنا کہ فرماتے تھے کہ وہ نعمت جو عرفاء وکملا ء کو قطع بوادی عشق اور طے مراجل جہد کے بعد حاصل ہوئی، اللہ تعالیٰ نے مجھے مسند پر حکومت کرتے ہوئے عطا فرمائی،بلکہ جو لوگ متکبر ہیں وہ (اپنے اوپر قیاس کرکے) حضرت خواجہ ابو احمد مظفر ؒ کے اس قول کو محض تعلی خبر کرتے ہیں ،حالانکہ یہ ان کا عیب ہے،اس لیے کہ جو اپنے حال کو صداقت سے بیان کرے وہ محض دعویٰ نہیں ہوتا،علی الخصوص جب کہ ان کی رفعت مکانی کو ارباب معنی بھی بیان کررہے ہیں ‘‘۔(۲۴)
سیّد علی ہجویری ؒ فرماتے ہیں ایک دن گرمی کی شدت سے شیخ ابو المظفرؒ کی خدمت میں اپنے کپڑوں کو شوریدہ کیے ہوئے پسینہ میں شرابور سراسیمہ حاضر ہوا۔ مجھ سے فرمایا:ابوالحسن ! کیا حال ہے جو اس قدر گھبرا رہے ہو؟مَیں نے عرض کی :سرکارسماع کی خواہش ہے ۔ اسی وقت کسی خادم کو حکم ہوا، علی الفور قوال حاضر ہوگئے اور ایک جماعت اہلِ مشرف کی بھی آگئی۔ قوالی شروع ہوئی کہ ایک نو عمر لڑکے نے جوش جوانی اور قوت ارادہ اور آتشِ عشقِ حرارت سے اثناءِ سماع میں مجھے مضطرب کردیا۔ کچھ اس کے جذبات سے اور کچھ کلماتِ پُرسوز سے مَیں بیقرار ہوگیا۔ تھوڑی دیر میں وہ کیفیتِ غیبانی جو آفتِ حال مجھ پر طاری ہوئی تھی ، کم ہوئی تو مجھ سے دریافت فرمایا :اب تیر اکیا حال ہے ؟ میں نے عرض کیا ، اب بہت سکون ہے ۔(۲۵)
سیّد علی ہجویری ؒ ایک اور صوفی ’’ادیب مکندیؒ ‘‘کا تذکرہ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: 
’’ مَیں علی بن عثمان جلابی ہوں۔مَیں خراسان کے ایک قصبہ پہنچا ہوں جسے ’’مکند‘‘ کہتے ہیں۔ یہ وہاں ایک بزرگ تھے جنہیں ادیب مکندی کہتے ہیں ۔یہ وہاں کے مشہور بزرگ تھے ۔ یہ بیس سال برابر قیام میں رہے سوائے تشہد کے، نماز میں کبھی نہ بیٹھے۔ ان سے میں نے اس کا سبب پوچھا۔ فرمایا: ابھی میرا وہ درجہ نہیں کہ حضورِ حق کا مشاہدہ بیٹھ کر کروں۔‘‘(۲۶)
حضرت سیّد علی ہجویری ؒ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ مَیں نے دمشق کے درویشوں کے ساتھ ابن المعلاقدس سرہ العزیز کی زیارت کے لیے جانے کا قصد کیا۔ یہ رملہ کے ایک گاؤں میں رہتے تھے۔راستے میں ہم نے آپس میں باتیں کیں کہ کچھ دل میں سوچ کر چلو ،تاکہ وہ حضرت ہمیں ہمارے باطن سے مطلع کریں اور ہماری مشکل حل ہو۔
میں نے سوچا کہ مناجاتِ ابنِ حسینؓکے اشعار اُن سے سُنوں ۔
دوسرے نے سوچا: مجھے طحال کا مرض ہے ،یہ اچھا ہو جائے۔
تیسرے نے کہا: مجھے حلوہ صابونی ان سے لینا ہے۔
جب ہم ان کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے ایک جزو کاغذ کا، جس میں اشعارِ مناجاتِ ابنِ حسینؓ لکھے تھے میرے آگے رکھ دیئے، اور دوسرے کے طحال پر ہاتھ پھیر ا، وہ جاتی رہی۔ تیسرے کو کہاکہ حلوہ صابونی سپاہیوں کی غذا ہے اور تو اولیاء کا لباس رکھتا ہے اور اولیاء کے لباس والے کو سپاہیوں کا مطالبہ درست نہیں، دو باتوں سے ایک بات اختیار کر۔(۲۷ ) شیخ ابوالفارس بن غالب فارسی رحمۃ اللہ علیہ حضرت سیّد علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے ہمعصر تھے، ان سے مرشدِ لاہورؒ نے روایت بھی نقل کی ہے ،صاحبِ کشف المحجوب لکھتے ہیں :
’’ مَیں نے شیخ ابو الفارس بن غالب رحمۃ اللہ علیہ سے سنا کہ ایک روز وہ شیخ ابو سعید ابوالخیر فضل اللہ بن محمد رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تاکہ ان کی زیارت کریں۔ فرماتے ہیں: مَیں نے دیکھا کہ وہ ایک تخت پر چاروں طرف تکیہ لگائے اور پیروں کے نیچے علیحدہ تکیے رکھے آرام گزیں ہیں اور رداء مصری اوڑھے سورہے ہیں اور مَیں ایک میلی کملی مثل چرم گاؤ چرک آلودہ کے اوڑھے پہنچا اور ریاضت ومجاہدہ سے رنگ زرد کیے ہوئے تھا۔ ان کا یہ حال منال، جاہ وجلال دیکھ کر اپنے دل میں بد اعتقاد ہوا۔ میں نے اپنے جی میں کہا کہ میں بھی ایک درویش ہوں اور یہ بھی ایک درویش ہے کہ اس قدر آرام میں ہے اور مَیں اس قدر ریاضت میں ہوں۔وہ اس وقت میرے باطن سے واقف ہوئے او رمیرے غرور اوربددلی کو دیکھا ۔ مجھ سے فرمایا :ابو مسلم! تو نے کس کتاب میں پڑھا ہے کہ مغرور آدمی درویش ہوتا ہے، جب میں نے تمام کائنات میں حق ہی حق دیکھا تو حق تعالیٰ نے مجھے تخت نشین کیا اور جب تو نے صرف اپنے آپ کو دیکھا، اللہ تعالیٰ نے تجھے نیچے رکھا، ہمارے حصہ میں مشاہدہ آیا اور تیرے حصے میں مجاہدہ اور یہ دونوں مقامات حق سے ہیں اور حق تعالیٰ اس سے پاک ہے او ر درویش مقامات سے فانی اور حالات سے بچا ہوا ہوتاہے‘‘۔(۲۸ )
شیخ احمد سمر قندی رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا کہ آپؒ بخارا میں تھے کہ چالیس رات خواب نہ فرماتے اور دن میں تھوڑی دیر سوتے۔(۲۹ )
صاحبِ کشف المحجوب نے لکھاہے کہحضرت احمد حماد سرخسیؒ جو ماوراء النہر میں میرے رفیق تھے اور صاحبِ شان مرد تھے ۔ لوگوں نے انہیں مجبور کیا کہ آپ کو نکاح کی ضرورت ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ انہوں نے پوچھا کیوں؟ آپؒ نے فرمایا: ا س لیے کہ میں اپنے حال میں آپ سے غائب ہوتا ہوں، یا حاضر۔ جب غائب ہوتا ہوں تو دو جہاں سے بے خبر ہوتا ہوں اور جب حاضر ہوتاہوں تومیں اپنے نفس کو اتنا قابو میں رکھتا ہوں کہ جب اسے دو روٹیاں ملتی ہیں تو وہ سمجھتا ہے کہ مجھے ہزار حوریں ملیں ۔ تو دل کا شغل بڑا کام ہے ، جس چیز سے ہوسکے بہتر ہے۔ (۳۰ )
شیخ احمد خاوی سرخسیؒ بھی ایک مدت تک حضرت سیّد علی بن عثمان ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے رفیق رہے۔(۳۱) ایک بار ان سے مخدوم علی ہجویریؒ نے استفسار کیا کہ ان کی ابتدائے توبہ کس طرح ہوئی تھی جس کا احمد حماد سرخسی ؒ نے مفصل جواب دیا۔(۳۲)
مشائخ اہل شام وعراق میں حضرت شیخ ذکی ابن العلاء رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں نے انہیں شعلۂ محبت میں مثلِ شعلہ پایا۔ان کی کرامات مشہور ہیں۔(۳۳ )
صاحبِ کشف المحجوب کی شیخ ابو جعفر بن مصباح صید لانی رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ملاقاتیں رہی ہیں۔ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر صیدلانیؒ کو دیکھا ہے۔ ان کے مرید چار ہزار کے قریب عراق میں تھے ۔ (۳۴) حضرت علی ہجویری ؒ فرماتے ہیں کہ وہ تحقیقِ تصوف میں نہایت سلیس بیان رکھتے تھے ۔ حضرت حسین بن منصور حلاج کے ساتھ خاص تعلق رکھتے تھے۔ آ پ کی بعض تصانیف مَیں نے پڑھی ہیں۔(۳۵ )
حضرت شیخ ابو العباس احمدبن محمدشقاقی رحمۃ اللہ علیہ اصول وفروع میں بڑے ماہر اور امامِ وقت گذرہے ہیں ۔بہت سے مشائخ کبار کی زیارت سے مشرف ہوئے ۔متصوفین کی جماعت میں خاص طور پر ’’کبراء قوم‘‘ مانے گئے۔ آپؒ خود کو مقام فنا کے ساتھ تعبیر فرماتے ہیں ۔(۳۶)
حضرت سیّد ہجویر رحمۃ اللہ علیہ کو ابوالعباس کی صحبت سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ اس لیے کشف المحجوب میں اُن کے متعلق رقمطراز ہیں:
’’میرے دل میں اُن کی زبردست محبت ہے اور مجھ پر ان کی بحدِ غایت ،صادق شفقت ہے اور بعض علوم میں وہ میرے استاد بھی ہیں۔ جب تک میں ان کے پاس رہا، مَیں نے تعظیم شرع کرنے والا ان سے زیادہ کسی کو نہ پایا‘‘۔(۳۷)
حضرت مخدوم علی ہجویری قدس سرہ العزیز شیخ ابوالعباس شقاقی رحمۃ اللہ علیہ سے اپنی ایک ملاقات کا ذکر یوں کرتے ہیں:
’’ایک روز میں شیخ ابوالعباس شقاقی رحمۃ اللہ علیہ کی خد مت میں حاضر ہوا۔ انہیں میں نے یہ آیت پڑھتے ہوئے پایا:ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْکًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰی شَیْء(مثال دیتا ہے اللہ اس بندۂ مملوک کی جو کسی شے پر قادر نہیں ) اوروہ رُو رہے تھے کہ ایک نعرہ مار کر بے ہوش ہوگئے ۔ میں نے گمان کیا کہ شاید دنیا سے رحلت فرما گئے۔ میں نے عرض کیا حضور! یہ کیا حال ہے ؟ فرمایا کہ گیارہ سال ہوئے کہ اس آیت تک آیا ہوں، اب اس سے آگے جا نہیں سکتا ‘‘۔(۳۸)
آپؒ مزید فرماتے ہیں:
’’ مَیں علی بن عثمان جلابی کہتا ہوں کہ مَیں نے شیخ امام ابو العباس ؒ سے سنا کہ وہ فرماتے تھے کہ ایک دن میں ایک مجلس میں تھا ، ایک گروہ سماع کررہا تھا۔ مَیں نے ان کے مابین شیاطین دیکھے کہ ناچ رہے تھے اور اس جماعت کی طرف توجہ کرتے تھے‘‘۔(۳۹)
مندرجہ بالا واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ حضر ت سیّد علی بن عثمان ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے عہد کے معروف مشائخِ عظام سے ملاقاتیں کیں اور ان سے علمی وروحانی موضوعات پر گفتگو کی، انہیں بعض اولیاء کرام کی کرامات دیکھنے کا بھی موقع میسر آیا۔ اپنے شیخ طریقت کے علاوہ دیگر صوفیۂ کرام کے فیوض وبرکات حاصل کرنے کے بعد وہ ہندوستان تشریف لائے اورہندوستان کی روحانی سلطنت کی سلطانی پر مامور ہوئے۔ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۔
حوالہ جات
۱۔ جمالی، حامد بن فضل اللہ ،سیر العارفین ، مترجم محمدایوب قادری(لاہور:اُردو سائنس بورڈ،جنوری۱۹۸۹ء) ص ۶۔۵
۲۔ محمد بشیر انور ،ابوہری ملتانی، ڈاکٹر(مترجم) خلاصۃ العارفین ،(ملتان : بیکن بکس ۲۰۰۳ء )ص ۶۵۔
۳۔ ظہور احمداظہر، ڈاکٹر،شیخ ابوالفضل ختّلی(لاہور :پنجاب یونیورسٹی ،ستمبر ۲۰۱۱ء)ص ۷۸۔
۴۔ ہجویری ،سیّد علی بن عثمان ،کشف المحجوب ،مترجم ابوالحسنات محمداحمد قادری ،(لاہورمرکز معارف اولیاء ،داتاؒ دربار کمپلیکس ،جنوری ۲۰۱۲ء)ص ۳۲۶۔
۵۔ صباح الدین ،عبدالرحمن ،سیّد ،بزم صوفیہ ،(اسلام آبادپاکستان نیشنل بک فاؤنڈیشن ،۱۹۹۰ء)ص ۵۔
۶۔ ظہور الحسن شارب، ڈاکٹر ،تذکرہ اولیائے پاک وہند (لاہور :الفیصل کمپنی ، س۔ن)ص۱۴۔
۷۔ معشوق یار جنگ بہادر،نواب مولانا، اخبار الصالحین (لاہور :ملک اینڈکمپنی ،۱۴۰۴ھ)ص۱۰۶
۸۔ عبدالرحمن جامی، مولانا ،نفحاتِ الانس ،مترجم شمس بریلویؒ (لاہور :پروگریسوبکس ،جولائی ۱۹۹۸ء)ص ۵۱۵
9. Zhukovsky, Sidney Jerrold and E. Derison Ross, Persion Sufism: Being a Translation of Professor Zhukovsky's Introduction to His Edition of the Kashf al-Mahjub, Bulletin of the School of Oriental Studies, University of London, Vol.5, No.3(1929), p.477.
10. Ibid.
11. Anna Suvorova, Muslim Saints of South Asia: The eleventh to fifteenth centuries, English translation by M. Osama Faruqui (New York: Routledge Curzon, 2004).
12. John A. Subhan, Sufism: Its Saints and Shrines (New York: Samuel Weiser Inc. 1970) p.127
۱۳۔ قشیر ی ،ابوالقاسم بن ہوازن ،رسالہ قشیریہ ،مترجم ،ڈاکٹر پیر محمد حسن (اسلام آباد :ادارہ تحقیقات اسلامی ، ۱۹۹۵ء) ص ۳۔۲۶۔
۱۴۔ ہجویری ،سیّد علی بن عثمانؒ ،کشف المحجوب ،مترجم ابوالحسنات محمد احمد قادری،ص ۳۹۹۔۴۰۰۔
۱۵۔ ایضاً، ص ۱۰۹۔
۱۶۔ داراشکوہ قادری، شہزادہ، سفینۃ الاولیاء ،مترجم محمدعلی لطفی(کراچی:نفیس اکیڈمی ،طبع ہفتم ،مئی ۱۹۸۶ء) ص۱۰۶
۱۷۔ قشیری،ابوالقاسم عبدالکریم بن ہوازن،رسالہ قشیریہ،ترجمہ،مقدمہ و تعلیمات از ڈاکٹر پیر محمد حسن(اسلام آباد: ادارہ تحقیقات اسلامی،۱۹۹۵ء)ص۸۵۱
۱۸۔ ہجویری ،سیّد علی بن عثمانؒ ،کشف المحجوب ،مترجم ابوالحسنات محمد احمد قادری ،ص ۳۱۴
۱۹۔ ایضاً ،ص۳۱۸۔
۲۰۔ عبدالرحمن جامیؒ ،مولانا ،نفحات الانس ،مترجم شمس بریلوی ،ص ۵۰۴۔۵۰۵۔
۲۱۔ ہجویری ،سیّد علی بن عثمانؒ ،کشف المحجوب ،مترجم ابوالحسنات محمد احمد قادری ،ص ۳۲۱۔
۲۲۔ ایضاً،ص۳۷۲
۲۳۔ عبدالرحمن جامیؒ ،مولانا ،نفحات الانس ،مترجم شمس بریلوی ،ص ۵۰۵
۲۴۔ ہجویری ،سیّد علی بن عثمانؒ ،کشف المحجوب ،مترجم ابوالحسنات محمد احمد قادری ،ص ۳۲۲
۲۵۔ ایضاً، ص ۳۲۳۔ ۲۶۔ ایضاً، ص۵۳۱ ۲۷۔ ایضاً،ص۵۴۲۔۵۴۳
۲۸۔ ایضاً،ص۵۴۵۔۵۴۶ ۲۹۔ ایضاً،ص۵۵۶ ۳۰۔ ایضاً،ص۵۷۵
۳۱۔ ایضاً،ص۳۲۶ ۳۲۔ ایضاً،ص۳۵۱ ۳۳۔ ایضاً،ص۳۲۴
۳۴۔ ایضاً،ص۴۳۷ ۳۵۔ ایضاً،ص۳۲۴ ۳۶۔ ایضاً،ص۳۱۹
۳۷۔ ایضاً ۳۸۔ ایضاً،ص۶۰۶ ۳۹۔ ایضاً،ص۶۳۰