Urdu Articles

حضرت خواجہ غلام فریدؒ اور وحدت الوجود

* ڈاکٹر محمد سلطان شاہ

حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ (1261ھ۔1329ھ) کا شمار صفِ اوّل کے صوفی شعراء میں ہوتاہے۔ آپ ایک جیّد عالم، پابند شریعت صوفی اور قادر الکلام شاعر تھے۔ پنجابی زبان کے سرائیکی Dialect میں خواجہ صاحب کا کلام تصوف و معرفت کا بیش بہا خزینہ ہے۔ آپ سلسلۂ چشتیہ میں اپنے بڑے حضرت مولانا غلام فخر الدین قدس سرہ سے بیعت تھے اور انہوں نے ہی آپ کو 1287ھ خرقۂ خلافت سے سرفراز کیا۔ اُن کا 1292ھ میں وصال ہوا تو آپ مسند خلافت پر متمکن ہوئے اور اپنے آپ کو خلقِ خدا کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ پورے برصغیر پاک و ہند کے مختلف شہروں ، قصبوں اور دیہات سے کثیر تعداد میں لوگ آ کر آپ کے دست حق پرست پر تائب ہوئے، بعض غیر مسلموں کو دولت ایمان نصیب ہوئی اور خاص طور پر سرزمین پنجاب میں ہر سو اُن کی قافیاں گونجنے لگیں۔
صوفی لوگ سب سے زیادہ توحید کے پرچارک ہوتے ہیں۔ وہ اپنے محبوب حقیقی کی معرفت حاصل کرکے اسے اپنے اپنے انداز میں دوسرے لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ صوفیہ نے توحید کے حوالے سے وحدت الوجود کا درس دیا ہے یا وحدت الشہود کے ذریعے دوسروں تک اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا پیغام پہنچایا ہے۔ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ صوفیاء وحدت الشہود کے قائل ہیں جبکہ چشتیوں نے وحدت الوجود کو اپنایا ہے جسے فارسی زبان میں ہمہ اوست اور انگریزی میں Pantheism کہا جاتا ہے۔ چونکہ حضرت خواجہ غلام فریدعلیہ الرحمہ ایک چشتی صوفی تھے اس لیے انہوں نے اپنے کلام میں بڑے زوردار انداز میں فلسفہ وحدت الوجود کا پرچار کیا ہے۔
شیخ محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ (1)کو وحدت الوجود کا بانی قرار دیا جاتا ہے اُن کی دو کتابیں ’’الفتوحات المکیہ‘‘ اور ’’فصوص الحکم‘‘ بڑی شہرت کی حامل ہیں۔ اُن کے مقلدین کا مسلک یہ ہے کہ ظاہر و باطن خدا کے سوا کوئی موجود نہیں ہے، یہ دکھائی دینے والا عالم جو خدا کا غیر محسوس ہوتا ہے اور جسے ’’ماسوا‘‘ کہتے ہیں، 

* صدر شعبہ علوم اسلامیہ، جی سی یونیورسٹی لاہور 
ماسوا نہیں ہے بلکہ خدا کا مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی لامحدود شان کے ساتھ اس عالم میں جلوہ گر ہے۔ یہ غیریت اور کثرت جو محسوس ہوتی ہے ۔ ہمارا وہم اور صرف ہماری عقل کا قصور ہے، جسے ہم غیر سمجھ بیٹھے ہیں، حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ (2) لیکن بعض ماہرینِ تصوف اور خاص طور پر مستشرقین (Orientalists) نے وحدت الوجود اور ہندوؤں کے ویدانتی فلسفہ میں تعلق تلاش کرنے کی کوشش کی ہے جیسا کہ ولیم اسٹوڈارٹ (William Stoddart) نے "Sufism: The Mystical Doctrine and Methods of Islam" میں لکھا ہے:
"The Sufi doctrine of Wahdat al-Wujud is, in fact, the equivalent of the Vedantic advaita, which some have called 'Monism', but which is perhaps more accurately translated as 'non-duality'. (3)
برصغیر کے صوفیاء کرام کے ہاں وحدت الوجود ہندوؤں کے اثرات سے رائج نہیں ہوا کیونکہ اس فلسفے کے بانی حضرت شیخ اکبر علیہ الرحمہ ہسپانوی تھے، اس کی تعلیمات کے زیرِ اثر وحدت الوجود اسلامی تصوف میں داخل ہوا اور پھر عرب و عجم کے بیشتر صوفیہ اس کے قائل ہو گئے۔ برصغیر پاک وہند میں ہندوؤں کی روحانی شخصیات پر اسلامی اثرات واضح نظر آتے ہیں جیسا کہ ڈاکٹر تاراچند نے تسلیم کیا:
"But the fact remains that a number of elements were absorbed into Hinduism through its direct contact with Islam and these elements were presented to India impressed with the Islamic mould." (4)
تاراچند نے مزید لکھا ہے کہ ساتویں صدی کے جنوبی ہند کے کئی عقائد پر اسلام کی نمایاں چھاپ نظر آتی ہے جیسے وحدہٗ لا شریک کی عبادت، تزکےۂ نفس، گورویا پیرو مرشد کا احترام، ذات پات کا ترک کرنا وغیرہ۔
حضرت خواجہ غلام فریدؒ ایک وجودی صوفی تھے۔ انہوں نے نظم و نثر میں وحدت الوجود کے نظریے کی تبلیغ کی ہے۔ ’’ارشادات فریدی‘‘ میں خواجہ صاحب نے شیخ الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمہ کی توحید وجودی سے متعلق رائے بیان فرمائی ہے کہ خواجۂ اجمیر قدس سرہ نے حضرت خواجہ بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ سے راز دارانہ انداز میں فرمایا:
’’اے بیٹا توحید وجودی وہ کیفیت ہے کہ عارف کو توحید کے نشہ میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خود عارف اور کل عالم میں ذاتِ حق ہے۔ یہ اَمر اس فرضی تصورات کا ثمرہ اور نتیجہ ہے جو بزرگوں سے فنا اور بقا کے حصول کے لیے مقرر کیے ہیں مگر درحقیقت آپ کو اور کائنات کو عین ذات جاننا کفر ہے کیونکہ یہ صرف تنزیہہ کے خلاف ہے اور اسی طرح توحید ظلی یعنی جو صوفی عالم کو اللہ کا سایہ جانتے ہیں، وہ بھی غلطی پر ہیں کیونکہ جب حضرت محمد ﷺ کا سایہ نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ کا سایہ کیونکر ہو سکتا ہے۔ ہاں عالم اسماء صفاتِ الٰہی کا مظہر ہیں ۔ اِسی مناسبت کے سبب سے عارف عالمِ سکر میں توحید وجودی اور ظلی کے قائل ہوئے ہیں۔‘‘ (5)
حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی شاعری میں وحدت الوجود کے تصور کی بڑی وضاحت ملتی ہیں۔ ڈاکٹر شہزاد قیصر کے الفاظ میں ’’حضرت خواجہ غلام فرید کا سب سے اہم کام نظریہ وحدت الوجود کی نظریاتی تعلیم اور اس کے احساساتی پہلو کی حقیقی پاکیزگی کو بحال کرنے کی ذمہ داری قبول کرنا ہے۔‘‘ (6) دراصل وحدت الوجود برصغیر کے صوفی شعراء کا مقبول ترین موضوع رہا ہے۔ معتزلہ نے توحید کا جو خالص تصور پیش کیا تھا جس میں صفات کو بھی عین ذات قرار دیا گیا، وہ وحدت الوجود کی تمہید تھا۔ بعد میں آہستہ آہستہ یہ فلسفہ صوفیہ میں مقبول ہوتا گیا۔
خواجہ غلام فریدؒ کے سرائیکی دیوان کی اُردو شرح ڈاکٹر مہر عبد الحق نے ’’پیام فرید‘‘کے نام سے کی ہے اُن کے بعد خواجہ طاہر محمود کوریجہ نے دیوانِ فرید کا اُردو ترجمہ، تحقیق اور تصحیح ’’دیوان خواجہ فرید‘‘ (7)کے نام سے شائع کیا۔ آئندہ سطور میں اسی سے خواجہ صاحب کا کلام اور اُس کا اُردو ترجمہ نقل کیا جا رہا ہے۔ جس میں وحدت الوجود کو منظوم شکل میں پیش کیا گیا ہے۔
خواجہ صاحب کائنات کی ہر شے میں خدا تعالیٰ کا جلوۂ محسوس کرتے ہیں ۔ا نہوں نے اسے اپنے کلام میں یوں بیان کیا ہے:
کل شئے وچ کل شے ظاہر ہے

سوہنا ظاہر عین مظاہر ہے

کتھے ناز نیاز دا ماہر ہے

کتھے درد کتھاں درمان آیا
(8)
(تمام اشیائے کائنات میں اس کا ظہور ہے، اور یہ صاحبِ حسن و جمال اپنے مظاہر میں واضح طور پر موجود ہے، کہیں یہ ناز و نیاز کے انداز میں اور کہیں درد اور کہیں درمان کی صورت میں جلوہ گر ہے)
خواجہ غلام فریدؒ کے مطابق دیگر ادیان کی مذہبی کتب بھی اللہ تعالیٰ کے وجود کے ذکر پر مشتمل ہیں، وہ تو ہندوؤں کے ویدووں میں اللہ تعالیٰ کی واحدانیت پاتے ہیں اسی لیے انہوں نے کہا ہے:
چاروں بید بدانت پکارن

اوم برم نارائن دھارن

آتم اوتم روپ سدھارن

دویت فرید ہے جوٹھا لارا
(9)
(چاروں بید شاستر پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ وہ ’’قادرِ مطلق‘‘ خالق کائنات کا روپ اختیار کرے یا رب الارباب کا یا روح مطلق کا، ہے تو وہی ایک ’’فرید‘‘ دوئی تو ایک دھوکہ ہے)
خواجہ صاحب نے اپنے کلام میں متعدد بار شیخ اکبر علیہ الرحمہ کا ذکر کرتے ہوئے خود کو اُن کامقلد قرار دیا ہے۔ مثلاً:
ٹھپ فقہ اُصول عقائد نوں

رکھ ملت ابن العربی دی

ہے دلڑی غیروں پاک تری

مصباح عجب مشکوٰۃ عجب
(10)
(فقہ و اصول کی کتابوں کو بند کرکے رکھ دے۔ ابن العربی کا مسلک اختیار کر، تیرا دل غیر کی محبت سے پاک ہے، یہی چراغِ ہدایت ہے اس کی روشنی بھی عجب اور اس کا نور بھی عجب)
انہیں تو ہر طرف اپنا محبوب حقیقی ہی نظر آتا ہے، اسی لیے فرماتے ہیں:
ہر صورت وچ دیدارِ ڈٹھم

کل یار اغیار کوں یار ڈِٹھم 
(11)
(میں نے ہر صورف میں دلدار حقیقی کا جلوہ دیکھا ہے اور اپنے پرائے سبھی میں اسی کو موجود پایا ہے)
مختلف مظاہرِ فطرت میں اللہ تعالیٰ کی ذات کا جلوہ نظر آتا ہے اس لیے خواجہ صاحب فرماتے ہیں:
کتھ پھل گل باغ بہار ڈٹھم

کِتھ بلبل زار نزار ڈِٹھم

کِتھ خس خاشاک تے خارِ ڈٹھم

ہک نور دے سَبھ اطوار ڈِٹھم
(12)
(وہ کہیں پھول کی نزاکت میں، کہیں بہار کی لطافت میں، کہیں بلبل کے نالوں میں، کہیں خس و خاشاک کے انبار میں اور کہیں خارزار میں دکھائی دیا ہے۔ اِس نورِ مطلق کے سبھی مختلف اطوار میں نے دیکھ لیے ہیں)
خواجہ غلام فریدؒ ماسوا کو ترک کرنے کا یوں درس دیتے ہیں:
سَت سِک غیر خدا دی

سَب شے وہم خیال

باجھوں احد حقیقی

کل شے عین زوال
(13)
(خدا کے سوا کسی سے محبت نہ کر، اس کے سوا باقی سب کچھ صرف وہم و خیال ہے۔ اُس وحدہٗ لا شریک کے سوا باقی سب کچھ فانی ہے)
خواجہ صاحب فرماتے ہیں کہ اُن کے مرشد نے انہیں علی الاعلان فلسفہ ہمہ اوست کا درس دیا ہے:

جو کجھ ظاہر برملا

جاناں میں کیویں ماسوا

مرشد محقق وَج وَجا

ہمہ اوست دا ڈتڑا سبق
(14)
(ایک حقیقت جو سامنے ہے میں اسے کیسے نظر انداز کروں۔ میرے مرشد نے تو مجھے علی الاعلان ’’ہمہ اوست‘‘ کا سبق دیا ہے)
خواجہ صاحب کے نزدیک اللہ تعالیٰ کائنات کی ہر شے میں جلوہ نما ہیں:
تینوں عرش کہوں افلاک کہوں

تینوں ناز نعیم جنان کہوں

تینوں تت جماد بنات کہوں

حیواں کہوں انساں کہوں

تینوں مسجد مندر دیر کہوں

تینوں پوتھی تے قرآن کہوں
(15)
(تجھے عرش کہوں یا افلاک کہوں، تجھے بہشت بریں کے نازوادا میں دیکھوں یا تجھے جمادات، نباتات یا حیواں و انسان میں دیکھوں، تجھے مسجد و مندر میں جلوہ گر پاؤں یا تجھے ہندوؤں کی مذہبی کتاب پوتھی اور قرآن میں تلاش کروں)
اس صوفی کے نزدیک ہر سالک پر فرض ہے کہ وہ وحدت الوجود پر یقین رکھے:
مذہب وجودی فرض ہے

بیو کُل اجائی غرض ہے

دیدیم باچشم یقین

ھذا جنون العاشقیں
(16)
(’’وحدت الوجود‘‘ کا مسلک ہر سالک پر فرض ہے، باقی سب کچھ بے سود ہے۔ ہم نے یہ حقیقت اپنی ان آنکھوں سے دیکھ لی ہے، یہی تو جنونِ عاشقی ہے)
ایک اور مقام پر وحدت الوجود کا یوں اظہار ملتا ہے:
اصل الاصول شہد تہ

ہمہ سو بسو ہمہ کو بکو

چہ شہود عین بعینہ

نہیں فرصت اتنی کہ دم بھروں
(17)
(ہر طرف وہی ہے، میں نے مشاہدہ کر لیا ہے۔ مشاہدہ بھی ایسا کہ آنکھ سے آنکھ ملی ہوئی ہے، سانس لینے کی بھی فرصت نہیں)
خواجہ صاحب کے نزدیک وجودی سالک جلوۂ طور کا نظارہ کرتا ہے:
ہمہ اوست تے بھید نیارے

چانن وحدت تے ونجارے

ہر ہر شے وچ کرن نظارے

اصل تجلی طوری نوں
(18 )
(مسئلہ ہمہ اوست کے اسرار انوکھے ہیں۔ یہ صرف وہی عارف کامل حل کر سکتے ہیں جو وحدت الوجود پر یقین رکھتے ہیں اور ہر شے میں جلوۂ طور کا نظارہ کرتے ہیں)
اپنے مرشد اور ابن العربی کے حوالے سے اپنے قاری اور سامع کو غیر اللہ کی محبت ترک کرنے کی تعلیم دیتے ہیں:
سکھ خلت سَٹ غیر دی علت

ابن العربی دی رکھ ملت

آکھیم سوہنے فخر جہان (19)
(تنہائی اور خلوت اختیار کر، غیر کی محبت ترک کر اور ابن العربی کا مسلک اختیار کر، میرے مرشد حضرت فخر جہاں نے مجھے یہی ارشاد فرمایا ہے)
خواجہ صاحب کو ہر سو اللہ تعالیٰ کا جلوہ نظر آتا ہے۔ اسی لیے فرماتے ہیں:
سمجھ سنجانی غیر نہ جانی

سب صورت سجانے

اول آخر ظاہر باطن

یار عیاں بیانے
(20 )
(یہ حقیقت جان لے کہ یہاں پہ ’’غیر‘‘ کوئی نہیں، ہر صورت میں وہی جلوہ فرما ہے ازل سے ابد تک، ظاہر اور باطن میں وہی محبوب حقیقی واضح اور عیاں ہے)
وحدت الوجود کی تعلیم دیگر صوفی شعراء نے بھی دی ہے لیکن خواجہ غلام فرید ؒ کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن العربی ؒ سے جس محبت و عقیدت کا اظہار کیا ہے، وہ کسی پنجابی صوفی شاعر کے ہاں اس طرح نہیں ملتا۔
حوالہ جات
1 ۔ شیخ ابوبکرمحی الدین محمد ابن علی جو بالعموم ابن العربی اور الشیخ الاکبر کہلاتے ہیں۔ ایک اور ابن العربی بھی ہیں جن کا نام ابوبکر محمد بن عبداللہ ہے۔ اُن کی تفسیر ’’احکام القرآن‘‘ بہت مشہور ہے۔ شیخ اکبر بلادِ مشرق میں ابن عربی اور صاحبِ احکام القرآن ابن العربی کے نام سے مشہو رہیں۔ (اُردو دائرہ معارفِ اسلامیہ6.5:1)
2۔ میکش اکبر آبادی۔ مسائل تصوف، بک ہوم لاہور، 2004ء، ص 59۔
3۔ Stoddart, William, Sufism: The Mystical Doctrine and Methods of Islam,
Thorsons Publishers Ltd. Welling borough, Northamptonshire, P.49.

4۔Chand, Tara: Influence of Islam on Indian Culture, Book Traders Lahore, pp.III-2
5۔ فریدی، نور احمد خان۔ ’’خواجہ فریدؒ کی کافیوں میں تصوف کا پہلو‘‘ عکس فرید از ڈاکٹر تونسوی، سرائیکی ادبی بورڈ ملتان، 1999ء، ص55۔
6۔ شہزاد قیصر، ڈاکٹر۔ حضرت خواجہ غلام فریدؒ کے نظریہ وحدت الوجود کے زاویے، حوالہ سابق، ص146۔
7۔ عبدالحق، ڈاکٹر مہر (مرتب) پیام فرید، سرائیکی ادبی بورڈ ملتان 1995ء۔
8۔ کوریجہ، خواجہ طاہر محمود دیوانِ خواجہ غلام فریدؒ ۔ الفیصل ناشران و تاجران کتب اُردو بازار لاہور ، جون2002ء۔
9۔ ایضاً، ص 158۔ 10۔ ایضاً، ص 199۔ 11۔ ایضاً، ص 205۔
12۔ ایضاً، ص 357۔ 13۔ ایضاً، ص 358۔ 14۔ ایضاً، ص 332۔
15۔ ایضاً، ص 313۔ 16۔ ایضاً، ص 375۔ 17۔ ایضاً، ص 386۔
18۔ ایضاً، ص 407۔ 19۔ ایضاً، ص 447۔ 20۔ ایضاً، ص 485۔