Urdu Articles

صاحب کشف المحجوب، بزبانِ اغیار

* ڈاکٹر محمد سلطان شاہ 

پیغمبرانہ طریقِ دعوت الی الحق میں، حکمت ، موعظۃ الحسنۃ اور مجادلہ بطریق احسن کو بنیادی اہمیت حاصل ہے جیسا کہ قرآن مجید میں یوں صراحت فرمائی گئی ہے کہ: ’’ اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِا لْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِ لْھُمْ بِا لَّتِیْ ھِیَ اَحْسَن ‘‘(۱) حضور نبی معظم ، رسولِ مکرم ، ہادئ اعظم ﷺ نے انہی قرآنی اصولوں کی روشنی میں دینِ اسلام کی تبلیغ کی اور صرف ۲۳ برس کی قلیل مدت میں عرب کے بیشتر حصے کو نورِ اسلام سے منّور کر دیا۔ آپ ﷺ کسی بُت پرست کو بھی نظرِ حقارت سے نہیں دیکھتے تھے بلکہ اس کی ہٹ دھرمی ، ایذا رسانی اور مخاصمت کے باوجود اپنے مثبت رویّے سے اسے اپنے قریب آنے کا موقع دیتے تاکہ وہ آپ ﷺکے اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار کوبذاتِ خود ملاحظہ کر سکے اور اس کے ذہن میں موجود بے بنیاد اور مبنی بر دروغ پروپیگنڈہ رفع ہوسکے ۔ وہ جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اعلیٰ کردار کو دیکھ لیتا تو اس کے قلب سے کفر کی آلودگی دھل جاتی اور اس کا دل حلاوتِ ایمان قبول کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ۔اس کے بعد مشیتِ ایزدی کے تحت کفار کی کثرت دولتِ ایمان سے مشرف ہوتی، البتہ کچھ بد نصیب اس کے بعد بھی جب کہ ان پر دینِ حق کی صداقت بالکل واضح ہوچکی تھی ، کفر پر ڈٹے رہے ، محض اس لیے کہ دینِ اسلام میں آنے کے بعد وہ خواہشاتِ نفس کی پیروی نہ کرسکتے ، ان کی سیادت کا خاتمہ ہو جاتا اور ان کے بعض دُنیوی مفادات کو گزند پہنچتی ۔ اس سے واضح ہوا کہ پیغمبرانہ طریقِ تبلیغ میں جھوٹ کو سچ سے ، نفرت کو محبت سے اور دوری کو قرب سے بدل کر دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو اسلام کے قریب لایا جاتا ہے اور پھر حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعے انہیں دینِ حق کی تبلیغ کی جاتی ہے ۔ 
صوفیاء عظام اور علماء حق رحہم اﷲنے بھی حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کے طریقِ تبلیغ کو اپنانے کی 

*صدر شعبہ علوم اسلامیہ ، جی ، سی ، یونیورسٹی لاہور ۔
کوشش کی ۔ برصغیر پاک وہند میں صوفیاء کرامؒ کی مساعیِ جلیلہ سے اسلام کی وسیع پیمانے پر اور بڑی تیزی سے نشرو اشاعت ہوئی کیونکہ یہ لوگ کسی سے نفرت نہیں کرتے تھے ، غیر مسلموں کو اپنے قریب لاتے اور پھر اپنے اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار کے ذریعے ان کے دل موہ لیتے۔ اس طرح صوفیاء کرامؒ نے ہنود کی بڑی تعداد کو دائرۂ اسلام میں داخل کیا۔ برصغیر میں نورِ اسلام کو پھیلانے والے بزرگان میں ایک نام حضرت سیّد مخدوم علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش علیہ الرحمہ کا ہے جنہوں نے اپنے وطنِ مالوف سے ہجرت کر کے لاہور کو اپنا مسکن بنایا اور کثیر تعداد میں یہاں کے غیر مسلموں کو مسلمان کیا ۔ اس کا ذکر تذکرہ نویسوں نے کیا ہے اور شعراء نے بھی اس مضمون کو بڑے دلکش انداز میں نظم کیا ہے ۔ مثلاً چوہدری اکرم علی اختر، حضرت مخدوم علی ہجویری رحمۃ اﷲ علیہ کو ہندوستان کے ظلمت کدے کو نورِ اسلام سے منور کرنے والی ہستی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں : 
ایمان سے سرفراز کیا اہلِ ہند کو

ظلمت کدوں میں نور کے چشمے بہا دیے
(۲)
عصرِ حاضر کے عظیم نعت گو شاعر حفیظ تائب حضرت سیّد ہجویررحمۃ اﷲ علیہ کی منقبت میں یوں سخن سر ا ہیں : 
ظلمتوں میں مشعلِ دیں ، کی فروزاں آپؒ نے

کفر کے ایوان میں گونجا ترانہ آپؒ کا 
(۳) 
بشیر رحمانی نے اس مضمون کو یوں شعری قالب میں ڈھالا ہے :
اﷲ اﷲ یہ اثر ہے آپؒ کی تبلیغ کا 

نورِ ایمان کی جھلک ہے ظلمتِ کفار میں 

ساحروں کا سحر ٹوٹا ، زور ٹوٹا کفر کا 

کیسی آیاتِ سحر تھیں آپ ؒ کی گفتار میں 
(۴) 
اردو کے ایک اور عظیم نعت گو شاعر راجا رشید محمود کے مطابق مخدوم علی ہجویری قدس سرہ العزیز کے برصغیر میں قدومِ میمنت لزوم سے یہاں کے باسی بت پرستی چھوڑ کر توحید پرست بن گئے :

بت پوچنے والے لوگوں کو توحید پرستی میں ڈھالا

سینوں کو منور کر ڈالا مخدوم علی بن عثمانؒ نے 
(۵)
حضرت مخدوم علی ہجویری رحمۃ اﷲ علیہ کی زندگی ہی میں غیر مسلم ان سے متاثر نہ تھے بلکہ ان کی وفات کے بعد بھی کئی غیر مسلم مصنفین نے ان کے متعلق خامہ فرسائی کی ہے ۔ یہ ان کی عظمت کا اعتراف ہے کہ ان کی پُر کشش شخصیت وصال کے بعد بھی غیر مسلموں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے ۔ ان کے فیوض وبرکات سے مستفید ہونے والے مسلمانوں کی بڑی تعدا د کو دیکھ کر غیر مسلم بھی ان کی مدح سرائی کر رہے ہیں ۔ یہاں غیر مسلم مصنفین کی تحریروں کے چند اقتباسات نقل کیے جاتے ہیں ، جس میں انہوں نے اس عظیم صوفی کا ذکر کیا ہے :
گزٹیئر آف دی ڈسٹرکٹ لاہور ۸۴۔۱۸۸۳ء بیرسٹر ایف کننگھم (F.Cunningham) ، میک کریچن(Mac Crachen) ، کرنل بیڈن (Colonel Beadon)اور کرنل ہار کورٹ (Colonel Harcourt) کی مشترکہ کاوشوں سے مرتب ہونے کے بعد ضلع لاہور کے انگریز ڈپٹی کمشنر نے شائع کیا ۔ اس میں تین مقامات کا غزنوی عہد سے تعلق بتایا گیا ہے جن کی بہت تعظیم کی جاتی ہے ۔ ان میں مزار ملک ایازؒ ، مسجد وزیر خان کے احاطے میں مدفون سیّد اسحاق ؒ کا مزار اورمزار حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اﷲ علیہ شامل ہیں ۔ مخدوم علی ہجویری رحمۃ اﷲ علیہ کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ اپنے وقت کے ولیِ کامل تھے جو محمود غزنوی کی فاتح فوج کے ہمراہ ایک روحانی پیشوا کی حیثیت سے تشریف لائے اور لاہور میں کافی زیادہ عمر میں انتقال کیا ۔ گزٹیئر کے الفاظ ملاحظہ ہوں :
"Data Ganj Baksh, a learned divine of Baghdad, the St. Odo of his day, who accompanied the victorious army of Mahmud of Ghazni, in the character of Spiritual adviser, and died at an advanced age at Lahore." (۶)
تاہم اس گزٹ میں حضرت سیّد علی ہجویری علیہ الرحمہ کی سوانح عمری رقم نہ کیے جانے کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے :
"Whatever may have been his deeds, he has unfortunately had no Robert Wace to chronicle them. He has left a work entitled "Kashf-ul-Mahjub" (the Revelation of the Hidden), but it does not reveal a single fact connected with the history of his time".(۷)
’’ان کے اعمال کچھ بھی ہوں ، ان کی تاریخ لکھنے والا کوئی رابرٹ واس نہ تھا ۔ انہوں نے ایک کتاب بعنوان ’’کشف المحجوب‘‘ یادگار چھوڑی ہے لیکن یہ ان کے عہد کی تاریخ سے متعلق کوئی ایک حقیقت بھی منکشف نہیں کرتی ‘‘۔
رابرٹ واس(Robert Wace) جرسی کے جزیرے میں پیدا ہونے والا شاعر تھا جو "Wace of Jersey"کے لقب سے مشہور تھا، اس کا عہدِ حیات ۱۱۰۰ء تا ۱۱۸۰ء بتایا جاتا ہے ۔ (۸) 
رائے بہادر کنہیا لال نے اپنی معروف تصنیف ’’ تاریخِ لاہور‘‘ میں حضرت مخدوم علی ہجویری رحمۃ اﷲ علیہ کا انتہائی خوبصورت انداز میں ذکر کیا ہے ۔ یہ غیر متعصب ہندو مصنف رقمطراز ہے :
’’یہ بزرگ سلطان مسعود سلطان محمود کے بیٹے کے ہمراہ لاہور میں آیا اور مسلمانی دین کو پھیلانے میں بہت کوشش کی ۔ بڑے بڑے بزرگوں مثلاً خواجہ معین الدین حسن سنجری اجمیری وخواجہ فرید پاک پٹنی (رحمہم اﷲ )وغیرہ نے یہاں آکر چلے کاٹے اور فیض پایا تھا ۔ داراشکوہ اپنی کتاب ’’سفینۃ الاولیاء ‘‘اور مولانا جامی’’ نفحات الانس‘‘ میں اس بزرگ کی تعریف بحد کما ل لکھتے ہیں اور بیشک یہ بزرگ ایسا ہی ہوگا جیسی اس کی تعریف کتابوں میں درج ہے ۔ ۴۳۱ ہجری میں اس نے اپنے قدوم میمنت لزوم سے لاہور کو مشرف کیا ۔چونتیس برس برابر لاہور میں رہ کر ظاہری و باطنی علم پھیلایا اور خدا پرستی کا طریق لوگوں کو سکھایا ‘‘۔ (۹)
کنہیا لال حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ کی شہرۂ آفاق کتاب ’’کشف المحجوب‘‘ کی تعریف یوں کرتا ہے :
’’ اس بزرگ نے عربی وفارسی میں بہت سی کتابیں تصنیف کی ہیں چنانچہ کتاب ’’کشف المحجوب‘‘ بزبانِ فارسی تصوف کے علم میں اس نے ایسی لکھی ہے کہ اس کا ثانی روئے زمین پر نہیں ہے ‘‘ ۔(۱۰) 
اس امام الاولیاء کے مزارِ پُر انوار کے مرجع خلائق ہونے کا ذکر یہ مصنف ان الفاظ میں کرتا ہے :
’’ اس مزار پر آٹھویں روز بروز جمعہ میلا لگتا ہے اور خلقت کثیر جمع ہوتی ہے۔ بڑا میلہ یعنی عرس ماہ صفر کی ۱۷؍ تاریخ کو ہوتا ہے۔ دور دور سے خلقت آتی ہے اور اس میلے میں شامل ہوتی ہے ۔ ہر جمعرات کی رات کو بھی بہت سے لوگ شب بیدار آتے ہیں اور تمام رات عبادت میں مصروف رہتے ہیں ‘‘ ۔ (۱۱) 
ایک اور غیر مسلم مصنف’’ گنیش داس وڈیرہ ‘‘نے بھی فارسی زبان میں حضرت مخدوم علی ہجویری رحمۃ اﷲ علیہ کا ذکر کیا ہے۔ وہ ہندوستان میں ان کی آمد کا ذکر کرتے ہوئے رقم طراز ہے :
’’ در ۴۵۱ ھ چہار صدو پنجاہ ویک ہجری در لاہور تشریف آوردند بعد چہار دہ سال درسلطنت ابراہیم غزنوی بتاریخ ۴۶۵ ھ چہار صد وشعت وپنجم ہجری در لاہور ودیعت حیات سپردند‘‘ ۔ (۱۲)

’’گنیش داس‘‘ کے مطابق گوجر قوم نے حضرت علی ہجویری علیہ الرحمہ کے دستِ حق پر ست پر اسلام قبول کیا ۔ اس کے اپنے الفاظ ملاحظہ ہوں:
’’دراں عہد اکثر قوم گو جران مشرب در لاہور وطن گاہ داشتند معتقد او شدہ اسلام قبول کردند‘‘ ۔(۱۳) 
کے ۔ ایس لال (K.S.Lal)نے اپنی کتاب" "Muslims in Indiaمیں اس عظیم صوفی بزرگ کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے :
"He(Shaikh Ismail Bukhari) was followed by Ali Ibn Usman Hujwairi (also called Data Gunj Bakhsh) who died in 1072A.D and whose tomb at Lahore is one the most popular Muslim shrines in the Punjab". (۱۴)
’’ان (شیخ اسماعیل بخاری رحمۃ اﷲ علیہ ) کے بعد علی بن عثمان ہجویری رحمۃ اﷲ علیہ آئے (جو داتا گنج بخش بھی کہلاتے ہیں) جن کا وصال ۱۰۷۲ ء میں ہوا اور لاہور میں ان کا مقبرہ پنجاب کے بہت مشہور مسلم مزارات میں سے ایک ہے‘‘ ۔ 
تاہم پروفیسر تھامس آرنلڈ(Thomas Arnold) نے اپنی کتاب "The Preaching of Islam"میں حضرت علی بن عثمان ہجویری علیہ الرحمہ کا ذکر نہیں کیا حالانکہ ان کے مقامِ ملازمت یعنی گورنمنٹ کالج لاہورسے مزارِ گنج بخش کا فاصلہ فرلانگ ڈیڑھ فرلانگ ہے اور ان کے شاگرد شاعرِ مشرق حکیم الامت علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ کومخدوم علی ہجویری قدس سرہ العزیز سے بہت عقیدت تھی اور وہ ان کے مزار پر حاضری بھی دیا کرتے تھے ۔ آرنلڈ نے شیخ اسماعیل بخاری رحمۃ اﷲ علیہ کا ذکر کیا ہے لیکن شیخ فخر الدین زنجانی رحمۃ اﷲ علیہ اور ابو الحسن علی بن عثمان ہجویری رحمۃ اﷲ علیہ کا بالکل ذکر نہیں کیا ۔ اسی لیے "The Preaching of Islam"کے مترجم ڈاکٹر شیخ عنایت اﷲ نے حاشیے میں ان دونوں بزرگوں اور ان کی خدمات کا ذکر کیا ہے ۔ (۱۵) 
معروف جرمن مستشرق ڈاکٹر این میری شمل (Anne Marie Schimmel) (۱۹۲۲ء۔۲۰۰۳ء)نے اپنی کئی کتب میں حضرت علی بن عثمان ہجویری رحمۃ اﷲ علیہ کا تذکرہ کیا ہے اور ان کی تبلیغی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے ۔ ان کی کتاب "Islam in the Indian Subcontinent"سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو :
"During the 11th century, important mystical thinkers, mainly in Iran, composed basic works on Sufi thought and ethics; one of them, Ali Bin Uthman al Jullabi al-Hujwairi from Ghazna area reached Lahore after long wanderings and finally settled there and died around 1071A.D. His "Kashf-ul-Mahjub" is one of the most important sources for the history of early Sufi theory and practices and, at the same time, one of the first theoretical works on sufism written in persian language. Hujwairi, who followed the early ascetics in his preference for celibacy, soon assumed fame as saint, and under the name of Data Gunj Bakhsh he is regarded as the first patron saint of Lahore. One believed that he had the Supreme authority over the saints of India, and that no new saint entered the country without first obtaining permission from his spirit." (۱۶)
’’ گیارہویں صدی میں اہم صوفی مفکرین نے زیادہ تر ایران میں صوفی فکر اور اخلاقیات پر بنیادی کتب تالیف کیں ۔ ان میں سے ایک علی بن عثمان الجلابی الہجویری غزنہ کے علاقے سے طویل گشت کے بعد لاہور پہنچے اور آخر کار وہیں سکونت پذیر ہوگئے اور ان کا انتقال ۱۰۷۱ء کے لگ بھگ ہوا ۔ ان کی کتاب ’’کشف المحجوب‘‘ ابتدائی صوفیانہ نظریات اور اعمال کا ایک اہم مآخذ ہے اور فارسی زبان میں تحریر شدہ تصوف کی اوّلین نظریاتی کتب میں سے ایک ہے ۔ ہجویری( جنہوں نے تجرد کے لیے ابتدائی تارک الدنیا صوفیاء کی پیروی کو ترجیح دی ) نے جلد ہی ایک بزرگ کی حیثیت سے شہرت حاصل کر لی اور داتا گنج بخش کے نام سے لاہور کے پہلے سرپرست بزرگ مانے جاتے ہیں ۔ یہ یقین کیا جاتا ہے کہ آپ ہندوستان کے تمام اولیاء پر سپریم اتھارٹی رکھتے تھے اور یہ کہ ملک میں کوئی بزرگ آپ کی روح سے اجازت لیے بغیر داخل نہیں ہوسکتا تھا‘‘. 
ڈاکٹر این میری شمل نے اپنی ایک اور تصنیف "Pain and Grace"میں حضرت مخدوم علی ہجویری علیہ الرحمہ کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے :
"The first persian treatise on Islamic mysticism, the Kashf-ul-Mahjub, was written by Ali Hujwairi called Data Gunj Bakhsh(d.1071), whose tomb is in Lahore, is still a place of Pilgrimage for the people". (۱۷)
’’اسلامی تصوف پر پہلا فارسی مقالہ ’’کشف المحجوب ‘‘ علی ہجویری (متوفی ۱۰۷۱ء) نے لکھا جو داتا گنج بخش کہلاتے ہیں ۔ لاہور میں ان کا مزار اب بھی عوام الناس کے لیے مقام زیارت ہے ‘‘۔ 
اسلامی تصوف ، اقبالیات اور سیرتِ رسول ﷺ پر متعدد کتب کی مصنفہ ڈاکٹر شمل نے ایک مقالہ "Poetic Visions of Lahore"کے عنوان سے لکھا ۔ اس میں بھی انہوں نے حضرت سید ہجویر علیہ الرحمہ کا تعارف کروایا ہے ۔ تصوف پر گہری نظر رکھنے والی اس مستشرق خاتون کے اس مقالے میں لکھا ہے:
"When Hujwairi died around the year 1072A.D, his tomb became a place of pilgrimage and a spiritual centre of the Punjab. Even more, it was considered to be the gateway to India for all those mystics who, coming from Iran and Turkestan, entered the plains of North Western India to continue their way into farther and farther areas with aim of spreading basic, simple teachings of mystically tinged Islam; love of God, love of the Prophet, and the love of one's fellow beings. Thus Khwaja Mu'inuddin Chishti, who arrived in the subcontinent about one century after Hujwairi's death, first paid a visit to his shrine in Lahore, seeking permission from saint's spirit to proceed further into Rajasthan, a province just conquered by the Muslims. He settled in Ajmer, and Chishti Order which he organised from there was to become the most successful mystical fraternity in India ". (۱۸)

’’جب ہجویریؒ کا ۱۰۷۲ء کے قریب انتقال ہوا تو ان کا مزار ایک زیارت گاہ اور پنجاب کا ایک روحانی مرکز بن گیا۔ حتی کہ یہ ان صوفیاء کے لیے ہندوستان کا راستہ تصور کیا جانے لگا جو ایران اور ترکستان سے آتے ہوئے شمال مغربی ہندوستان کے میدانوں میں داخل ہوئے تاکہ مزید اگلے علاقوں میں صوفیانہ رنگ والے اسلام کی بنیادی اور سادہ تعلیمات، محبتِ الٰہی ، محبتِ رسول ﷺ اور دوسرے انسانوں کی محبت کو پھیلانے کے کام کو جاری رکھ سکیں ۔اس طرح خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمہ نے ، جو برصغیر میں ہجویریؒ کے وصال کے قریباً ایک صدی بعد پہنچے ،آگے راجستھان، ایک صوبہ جومسلمانوں نے اسی وقت فتح کیاتھا ، کی طرف بڑھنے سے قبل اس بزرگ کی روح سے اجازت لینے کی خاطر پہلے ان کے مزار پر لاہور میں حاضری دی۔ آپؒ نے اجمیر میں سکونت اختیار کی اور سلسلۂ چشتیہ جو انہوں نے وہاں سے منظم کیا ، ہندوستان کا سب سے زیادہ کامیاب سلسلۂ طریقت بن گیا ‘‘۔ 
ایک روسی مستشرق والنیتن ژوکوفسکی (م ۱۹۱۸ء) نے ’’کشف المحجوب‘‘ کو تصحیح کے بعد لینن گراڈ (روس ) سے شائع کیا اور اس پر روسی زبان میں مقدمہ لکھا جس میں حضرت گنج بخش ہجویری علیہ الرحمہ کے حالات بیان کیے ہیں ۔ اس مقدمے کو ایران سے فارسی میں ترجمہ کرکے شائع کیا گیا ہے تاہم راقم تلاش بسیار کے باوجود اس تک رسائی حاصل نہیں کرسکا ۔ اس کا ذکر محققِ عصر، حکیم اہل سنت حکیم محمد موسیٰ امرتسری علیہ الرحمہ نے ’’کشف المحجوب‘‘ کے اردو ترجمے پر اپنے مبسوط مقدمے میں کیا ہے ۔(۱۹) 
رینالڈ اے نکلسن (Reynold A.Nicholson)نے حضرت علی ہجویری رحمۃ اﷲ علیہ کی مایۂ ناز تصنیف ’’کشف المحجوب‘‘ کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا جو ۱۹۱۱ء میں ای جے برل لیڈن سے شائع ہوا۔ اس کے آغاز میں اس نے آٹھ صفحات پر مشتمل مقدمہ (Preface) لکھا جس میں اس مستشرق (Orientalist)نے تصوف کے بنیادی مآخذ ومراجع پر انحصار کرتے ہوئے حضرت گنج بخش رحمۃ اﷲ علیہ کے مختصر حالات بیان کیے ہیں ۔نکلسن لکھتا ہے :
’’ابو الحسن علی بن عثمان بن علی الغزنوی الجلابی الہجویری رحمہ اﷲ افغانستان کے شہر غزنہ کے باسی تھے۔ ’’کشف المحجوب‘‘ میں اتفاقیہ طور پر جو کچھ انہوں نے اپنے متعلق لکھا ہے ، اس کے علاوہ ان کی زندگی کے بارے میں بہت کم معلومات ملتی ہیں ۔ وہ ابوالفضل محمد بن الحسن الختلی رحمہ اﷲکے مرید تھے جن کے مرشد ابوالحسن الحصری رحمہ اﷲتھے ۔ ان کے علاوہ حضرت ہجویری رحمہ اﷲکے استاد ابوالعباس احمد بن محمد الشقانی ؒ تھے ۔ انہوں نے ابوالقاسم گرگانی رحمہ اﷲاور خواجہ مظفر ؒ سے بھی اکتسابِ فیض کیا۔ انہوں نے شیوخ کی ایک بڑی تعدا د کا تذکرہ کیا ہے جن سے گشت کے دوران اُن کو ملاقات کرنے اور گفتگو کرنے کا موقع ملا ۔ آپ نے اسلامی سلطنت میں شام سے ترکستان اور دریائے سندھ سے بحیرۂ احمر تک طویل سفر کیا ۔ وہ مقامات وممالک جن کی آپ نے سیر کی ، ان میں آذر بائیجان ،بسطام میں مقبرہ بایزید ، دمشق ، رملہ ، شام میں بیت الجن، طوس ، اوزکند، میھنہ میں ابو سعید بن ابی الخیرؒ کا مزار ، مرو، سمر قند کے مشرق میں جبل البتّم شامل ہے ۔ آپ ؒ کچھ عرصہ کے لیے عراق میں مقیم ہوگئے جہاں وہ بری طرح قرض میں پھنس گئے۔’’ کشف المحجوب‘‘ سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ آپ کو شادی شدہ زندگی کا مختصر اور ناخوشگوار تجربہ ہوا ۔ ’’ریاض الاولیاء‘‘ کے مطابق آخر کار آپ نے لاہور پہنچ کر مستقل سکونت اختیار کر لی اور اسی شہر میں باقی زندگی گزاری۔(۲۰) 
نکلسن نے حضرت علی ہجویری علیہ الرحمہ کی تصانیف کی تعداد دس بیان کی ہے ۔ ان میں ان کا دیوان ، منہاج العابدین ، اسرار الخرق والمؤنات ، کتاب فنا و بقا ، حسین بن منصور الحلاج کے ارشادات کی شرح، کتاب البیان لاہل العیان ، بحر القلوب ، الر عایت لحقوق اﷲ ،ایمان ۔ یہ کتب مرور زمانہ کی نذر ہوگئیں ۔ ان کی زندگی کے آخری ایام میں لاہور میں سکونت کے دوران لکھی گئی کتاب ’’کشف المحجوب ‘‘ابو سعید الہجویری رحمہ اﷲ کے بعض سوالات کے جواب میں لکھی گئی ۔(۲۱
اس مستشرق نے مخدوم علی ہجویری رحمہ اﷲکے عقائد اور فلسفہ پر بھی روشنی ڈالی ہے ۔ اس سلسلہ میں وہ لکھتا ہے :
"Although he was a Sunni and a Hanafi, al-Hujwairi, like many Sufis before and after him, managed to reconcile his theology with an advanced type of mysticism, in which the theory of "Annihilation" (fana) holds a dominant place, but he scarcely goes to such extreme lengths as would justify us in calling him a Pantheist. He strenously resists and pronounces heretical the doctrine that human personality can be merged and extinguished in the being of God". (۲۲)
’’اگرچہ وہ ایک سُنّی اور ایک حنفی تھے لیکن اپنے بہت سے متقدمین اور متاخرین صوفیاء کرام کی طرح سیّد ہجویری نے دین اور تصوف کی اعلیٰ شکل کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کا اہتمام کیا ۔ایسا تصوف جس میں فنا کے نظریے کو اہم مقام حاصل تھا لیکن وہ کبھی اس انتہا تک نہیں جاتے کہ ہم انہیں ’’وحدت الوجودی‘‘ کہنے میں حق بجانب ہوں ۔ آپ نے بڑی محنت سے مزاحمت فرمائی اور اس عقیدے کو کفر یہ قرار دیا کہ انسانی شخصیت خدا کی ذات میں مدغم ہوسکتی ہے اور ختم ہوسکتی ہے‘‘ ۔

حوالہ جات 
۱۔ سورہ النحل ، ۱۶: ۱۲۵

۲۔ راجا،رشید محمود ، (مرتب)، مناقبِ سیدِ ہجویر ؒ (لاہور :محکمہ اوقاف ، حکومت پنجاب ، ۲۰۰۲ء ) ص۴۳۔
۳۔ ایضاً ،ص ۲۳۔
۴۔ مجلہ معارف اولیاء ، جلد ۱ ، شمارہ ۲ ( اپریل ۲۰۰۳ء) ص ۱۵۰۔
۵۔ مناقبِ سیدِ ہجویرؒ ، ص ۴۷۔
۶- Gazetteer of the Lahore District , 1883-4(Lahore: 
Sang-e-Meel Publications, 1989),p.152. 
۷۔ ایضاً۔
۸- Webster's Encyclopaedic Unabridged Dictionary of 
English Language (New York / Avenel, New Jersey: Granmercy Books, 1989) , p.1603. 
۹۔ کنہیا لال ۔ تاریخِ لاہور : سنگ میل پبلی کیشنز لاہور، ۲۰۰۱ء، ص۲۹۲۔
۱۰۔ ایضاً ، ص ۲۹۴۔ ۱۱۔ ایضاً، ص۲۹۴۔
۱۲۔ وڈیرہ ، گنیش داس ، چار باغ پنجاب ، مرتبہ پروفیسر کرپال سنگھ ( امرتسر: سکھ ہسٹری ڈیپارٹمنٹ ، خالصہ کالج ، ۱۹۶۵ء )، ص ۲۷۹۔ ۱۳۔ ایضاً۔
۱۴- Lal, K.S., Early Muslims in India (Lahore: Iqbal
Publications, n.d.),pg.122. 
۱۵۔ عنایت اﷲ، ڈاکٹر ،شیخ (مترجم ) دعوتِ اسلام (لاہور : محکمہ اوقاف پنجاب ، ۱۹۷۲ء) ،ص۲۷۸۔
۱۶- Anne Marie Schimmel , Islam in the Indian Subcontinent
(Lahore: Sang-e-Meel Publications,2003) pg.8.
۱۷ - Anne Marie Schimmel , Pain and Grace (Leiden: E.J.Brill, 
1976) pg.4.
۱۸ - Schimmel , Poetic visions of Lahore in"Lahore....The City 
Within" by Samina Qureashi, Pg.21.
۱۹۔ امرتسری ، حکیم، محمد موسیٰ ، مقدمہ کشف المحجوب در مہروماہ (ماہنامہ ) لاہور ، جلد ۴۷ ، شمارہ ۱۲، (جنوری ، فروری ۲۰۰۰ء)، ص ۱۶۷۔
۲۰ - Al-Hujwairi, Ali bin Uthman, The Kashf-ul-Mahjub, English
translation by Reynold A. Nicholson (Lahore: Islamic Book Foundation, 1976) p.xvii-xviii.
۲۱۔ ایضاً ، ص xx-xix۔
۲۲۔ ایضاً، ص xxi-xx۔