Urdu Articles

شیخ زکریا ملتانی ؒ کا طریقِ دعوت و تبلیغ(پارٹ ون)

شیخ زکریا ملتانی ؒ کا طریقِ دعوت و تبلیغ
اور اشاعتِ اسلام میں کردار

* ڈاکٹر محمد سلطان شاہ

برصغیر پاک وہند میں اشاعتِ اسلام کا سہرا صوفیہ کرام کے سر ہے جن کی مساعئ جمیلہ سے کفر و شرک کے مستحکم قلعے نیست و نابود ہو گئے، ہند کے بُتکدوں کی رونق ماند پڑنے لگی، شمعِ توحید فروزاں ہونے سے کفر کی تاریکی چھٹ گئی اور دیارِ ہند میں ہر سو صدائے لا الٰہ الا اللّٰہ گونجنے لگی، اس خطۂ ارض میں قدم رنجہ فرمانے والے صوفیۂ عظام نے اپنے اعلیٰ کردار کے ذریعے یہاں کے باسیوں کے دل موہ لیے اور وہ جو ق در جوق دولتِ اسلام سے بہرہ ور ہونے لگے۔ یہ انہی بزرگانِ دین کے قُدوم میمنت لزوم کا اثر ہے کہ آج یہاں کروڑوں مسلمان موجود ہیں۔ پروفیسر ٹی ۔ ڈبلیو ۔ آرنلڈ (T.W.Arnold) نے اپنی کتاب "The Preaching of Islam"میں لکھا ہے :
Among the .......... millians of indian Musalmans there are vast numbers of converts or descendants of comverts, in whose conversion forse played no part and the only influences at work were the teaching and persuasian of peaceful missionaries.( ۱ )
ترجمہ: ہندوستان میں آباد لاکھوں مسلمانوں میں سے اکثر ایسے نو مسلم یا نو مسلموں کی نسل سے ہیں جن پر مسلمان ہونے کے لیے کسی طرح کا جبر یا تشدّد نہیں ہوا بلکہ پُر امن دعاۃ اسلام کی تعلیم و ہدایت سے انہوں نے بخوشی اسلام قبول کیا۔
ہندوستان کے ابتدائی مبلغینِ اسلام صوفیاءِ عظام تھے لیکن بعض مستشرقین (Orientalist) نے اور کچھ مسلم محققین نے بھی اس کا ردّ کیا ہے کہ برصغیر میں اسلام کی ترویج مسلمان درویشوں کی تبلیغ سے ہوئی۔ ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلی نے لکھا ہے کہ اشاعتِ اسلام کے لیے جدوجہد بنیادی طور پر صوفیہ کے لائحۂ عمل کا جزو نہ تھی ۔(۲)

* چیئرمین شعبہ عربی و علومِ اسلامیہ ، جی۔ سی ۔ یونیورسٹی لاہور

ظلی صاحب کا یہ اعتراض مبنی بر حقیقت نہیں ۔ اس کی تردید مولانا سیّد ابو الاعلیٰ مودودی کے اس جملے سے ہوتی ہے ۔
’’ مسلمانوں میں جو جماعت سب سے زیادہ تبلیغِ دینِ الہٰی کے ذوق و شوق سے سرگرمِ سعی رہی ہے وہ صوفیائے کرام کی جماعت ہے ۔‘‘ (۳)
بزرگان دین نے ہمیشہ تبلیغِ دین کو مقدّم رکھا اور اس کے لیے بڑی حکمت سے کوشاں رہے انہوں نے ہندوستان کے دور دراز علاقوں کے سفر کیے اور مختلف علاقوں میں خانقاہیں قائم کیں۔ ڈاکٹر مولوی عبدالحق نے لکھا ہے:
’’ مسلمان درویش ہندوستان میں پر خطر اور دشوار گزار رستوں ،سربفلک پہاڑوں اور لق و دق بیابانوں کو طے کر کے ایسے مقامات پر پہنچے جہاں کوئی اسلام اور مسلمان کے نام سے واقف نہ تھا ۔ ‘‘ (۴)
اگرچہ مسلم فاتحین نے سیاسی طور پر ہندوؤں پر غلبہ حاصل کر لیا تھا لیکن انہوں نے کسی کو جبراً مسلمان بنانے کی کوشش ہرگز نہ کی۔ انہوں نے تو تبلیغِ اسلام کا فریضہ سرانجام دینے کے لیے بزرگانِ دین پر انحصار کیا۔جیسا کہ عبدالمجید سالک نے لکھا ہے :
’’ سلطان محمود غزنوی اور اس کے بعد فاتحین ،سلاطین اور شاہانِ مغل نے تبلیغ و اشاعتِ دین کا کام بزرگانِ دین اور صوفیہ کرام کے سپرد کر دیا تھا۔ یہ مقدس لوگ برابر ہندوستان آتے رہے اور اپنے انفاسِ قدسیہ اور مرحمت و شفقت سے یہاں کے لوگوں کے قلوب میں اسلام کے اثرات راسخ کرتے رہے ۔‘‘ (5)
برصغیر میں اسلام کی اشاعت صوفیۂ کرام نے کس انداز میں کی ؟ اُن کا منہجِ تبلیغ کیا تھا ؟ کیا ان کے ہاں مبلغینِ اسلام تیار کرنے کی حکمت عملی وضع کی گئی یا انفرادی طور پر تبلیغِ دین حق کی گئی ؟ ان سوالات کے تسلی بخش جوابات کے لیے زیر نظر مضمون میں سلسلہ سہروردیہ کے عظیم صوفی شیخ الاسلام حضرت بہاء الدین ابو محمدزکریا ملتانی قدس سرہٗ (۵۶۶ھ ۔ ۶۶۱ھ) کی تبلیغی مساعی اور ان کے طریقِ دعوت پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے ۔
شیخ الاسلام ؒ کے تبلیغی اوصاف :
حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی علیہ الرحمۃ کی ذاتِ گرامی ان تمام اوصاف کی حامل تھی جو ایک مبلغ میں ہونا ضروری ہے ۔ اولاً شیخ الاسلام ؒ بنو ہاشم کے چشم و چراغ تھے ۔ آپ کے آباءِ کرام اسلام کے کامیاب مبلغ تھے جن کی تبلیغِ اسلام کے لیے خدمات کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر محمد خورشید شعبہ تاریخ و مطالعۂ پاکستان اسلامیہ یو نیورسٹی بہاولپور رقم طراز ہیں :
’’ جب سلطان محمود غزنوی (۹۹۷ء ۔ ۱۰۳۰ء )نے ۱۰۰۰ء میں ایک لاکھ ستر ہزار افواج کے ساتھ برصغیر کی جانب کوچ کیا تو حضرت شیخ حسینؒ بھی جہاد کی غرض سے اس کے ہمراہ تھے ۔ سلطان محمود غزنوی نے دیبال پور (کوٹ کروڑ) کو فتح کرنے کے بعد حضرت شیخ حسینؒ کے فرزند شیخ شمس الدینؒ اور دیگر فوج کے ہمراہ راجہ دیپال کے دارالحکومت تلمبہ کی جانب کوچ کیا ۔ جبکہ تبلیغِ اسلام اور مذہبی تعلیم کو عام کرنے کی غرض سے حضرت شیخ حسین ؒ نے دس ہزار فوج کے ہمراہ کوٹ کروڑ میں مستقل قیام کا فیصلہ کیا اور تھوڑے ہی عرصہ میں اس علاقہ کو اسلامی تعلیمات اور درس و تدریس کے ایک بڑے مرکز میں تبدیل کر دیا ۔ حضرتؒ کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت شیخ سلطان علیؒ (۱۰۳۴ء ۔۱۱۱۷ء) نے اپنی تمام عمر اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں صرف کی۔ اس کے بعد ان کے فرزند رئیس الاولیاء حضرت محمد غوث وجیہ الدین ؒ (وفات ۱۱۸۵ء) نے یہیں رہتے ہوئے تبلیغ اسلام اور اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لیے کام کیا ۔ ‘‘ (۶)
موخر الذکر بزرگ حضرت زکریاؒ کے والد گرامی تھے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ شیخ بہاء الدین کے آباؤ و اجداد نے بھی تبلیغ اسلام کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دیں ۔ چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت بہاء الدین زکریاؒ کو تبلیغ اسلام اور دینی خدمات کا کام ورثے میں ملا ۔
ثانیاً شیخ الاسلام بہاء الدین زکریا رحمۃ اللہ علیہ ایک جیّد عالم دین تھے۔ انہوں نے ابتدائی زندگی میں حصولِ علم کے لیے بڑی تگ و دو کی ۔ سب سے پہلے انہوں نے قرآن پاک حفظ کیا۔ مؤرخین کے مطابق انہوں نے سات سال کی عمر میں ساتوں قرأتوں کے ساتھ کلام اللہ شریف حفظ کر لیا۔ پھر مقامی اساتذہ سے اکتسابِ علم کیا۔ ان کے اساتذہ کی تفصیل نہیں ملتی۔ ان میں ایک نام مولانا عبدالرشید کرمانیؒ کا لیا جاتا ہے ۔ 
اپنے والد گرامی کے وصال کے بعد تحصیل علم کی غرض سے خراسان چلے گئے ۔ تقدس باطنی کے ساتھ سات برس تک درس ظاہری میں مشغول رہے ، وہاں سے بخارا پہنچے اور علم حاصل کرنے میں مشغول ہوئے ۔ یہاں تک کہ درجۂ اجتہاد حاصل کیا، وہاں سے مکہ کی جانب روانہ ہوئے اور وہاں آ کر حصولِ علم میں مشغول ہو گئے۔ حج بیت اللہ کے بعد حضور سرورِ کائنات و فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اطہر کی زیارت سے مشرف ہوئے اور پانچ سال تک روضۂ مبارک کے مجاور رہے اور شیخ کمال الدین محمد یمنی سے جو بڑے محدثین میں سے تھے، علمِ حدیث حاصل کیا ۔ (۷) حمید اللہ شاہ ہاشمی نے لکھا ہے کہ آپؒ نے خراسان، بخارا، مکہ معظمہ، مدینہ منورہ، نجف اشرف، بیت المقدس ، بغداد شریف اور دیگر شہروں کا کٹھن سفر محض علم اور حصولِ علم کے لیے کیا ۔ (۸)
ایک مبلغ کے لیے خود عالم ہونا اوّلین شرط ہے اور حضرت شیخ الاسلام ؒ اس شرط پر پورے اترتے تھے۔ ایک کم علم یا کج فہم شخص یقیناًدینِ حق کی تبلیغ کا اہل نہیں ہو سکتا ، اس کی تبلیغ میں اثر نہیں ہوتا ۔ حضرت بہاء الدین زکریاؒ اپنے عہد کے باکمال عالم تھے ، مولانا عبدالرحمن جامی نے "نفحات الانس" میں لکھا ہے کہ ہر روز ان سے ستر عالم و فاضل استفادہ کرتے تھے۔ (۸ ۔الف) اسی لئے وہ ایک کامیاب مبلغ ثابت ہوئے۔
تبلیغِ اسلام کے لیے مبلغ کا باعمل ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ و ہ گفتار کے بجائے کردار سے بڑے مؤثر انداز میں تبلیغ کر سکتا ہے۔ ایک صالح شخص اعلیٰ اخلاق کا حامل ہوتا ہے۔ اُس کے صدق اور اخلاص سے لوگ ضرور متأثر ہوتے ہیں۔ حضرت زکریا ملتانی علیہ الرحمۃ انتہائی پارسا تھے۔ حامد بن فضل اللہ جمالی کے مطابق زمانہ طالب علمی میں ہی اُن کی تقویٰ کی بڑی شہرت تھی۔ ان کی پارسائی، صلاحیت اور زہد کی وجہ سے اہل بخارا ان کو ’’بہاؤ الدین فرشتہ ‘‘کہتے تھے۔ (۹) جب آپ تحصیل علم سے فارغ ہوئے تو مجاہدہ اور نفس کشی کی طرف توجہ کی اور لگاتار بیس برس تک سخت مجاہدہ کیا ۔ آپ کے زہد وتقویٰ کے باعث آپ کے مرشد شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی قدس سرہٗ نے صرف سترہ دن میں آپ کو سلسلہ عالیہ سہروردیہ کی خلافت سے سرفراز فرمایا۔ اس پر شیخ الشیوخ نے جب دوسرے مریدین میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں تو ان سے مخاطب ہو کر شیخ ؒ نے فرمایا : ’’ دوستو! تشویش نہ کرو، تم سب گیلی لکڑیاں رکھتے ہو اور گیلی لکڑیوں میں آگ یکبارگی نہیں لگتی اور زکریا ؒ سوکھی لکڑیاں رکھتا تھا جس میں فوراً آگ لگ گئی ۔ ‘‘ (۱۰)
اگرچہ دنیوی مال و اسباب کے بغیر بھی تبلیغ ہو سکتی ہے لیکن اگر کسی کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت کی نعمت سے نوازا ہو اور وہ اس نعمتِ ربّانی کو دین کی اشاعت کے لیے خرچ کرے تو یقیناًبہتر نتائج نکلیں گے۔ حضرت بہاؤ الدین زکریا کو اللہ تعالیٰ نے دولت و ثروت کے وافر خزانے عطا فرمائے تھے جنہیں آپ نے عوام الناس کی فلاح و بہبود اور دینِ اسلام کی ترویج کے لیے وقف کر دیا ۔
شیخ زکریا ؒ کی تبلیغی سرگرمیاں:
حضرت شیخ الاسلام ؒ کے تبلیغی کام کا احاطہ کرنا مشکل ہے ، ان کی ایسی سرگرمیاں تین عنوانات کے تحت زیرِ بحث لائی جا سکتی ہیں : 
الف ) تبلیغ اسلام کے لیے ذاتی جدوجہد

ب) علماء و مبلغین کی تعلیم و تربیت
ج) اولاد و خلفاء کی تبلیغ کے لیے تربیت
الف)تبلیغ اسلام کے لیے ذاتی جدوجہد :
حضرت بہاؤ الدین زکریاؒ ملتانی خود اسلام کے مبلغ تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی مسلمانوں کی اصلاح اور غیر مسلموں کی تبلیغ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ وہ ملتان میں قائم کردہ خانقاہ میں خود درس دیا کرتے تھے ۔ ڈاکٹر شمیم محمود زیدی رقمطراز ہیں :
’’ شیخ بعد از نماز بر بالای منبرمی رخت و تفسیر قرآن و حدیث، تدریس می کرد و گاہ گاہ از اشعار و حکایات و نقل قول بزرگان پیشین استفادہ می کرد ‘‘ (۱۱)
ترجمہ: شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی ؒ نماز کے بعد منبر پر بیٹھ جاتے اور قرآن حکیم کی تفسیر بیان فرماتے اور حدیث کی تدریس کرتے ، کبھی کبھی پچھلے بزرگوں کے قول، حکایات اور اشعار سے بھی استفادہ کرتے ۔
حمید اللہ شاہ ہاشمی، حضرت شیخ ؒ کے وعظ و ارشاد کے حوالے سے رقم طراز ہیں :
’’ عصر کی اذان سنتے ہی مسجد میں تشریف لا کر عصر باجماعت ادا فرماتے تھے۔ اس کے بعد منبر پر تشریف لے جاتے۔ قرآن وحدیث کا وعظ فرماتے ۔ اس موقعہ پر دور ونزدیک کے لوگ کام چھوڑ کر جوق در جوق آتے اور وعظ سنتے ۔ تاثیر اس قدر تھی ک جو مسلمان سنتا ، ضرور متأثر ہوتا تھا اور برے کاموں کو چھوڑ کر زہد و تقویٰ اور نیک اعمال اختیار کرتا تھا۔ ‘‘ (۱۲)
روضۂ مبارک کے مشرق کی طرف جو ایک وسیع چبوترہ ہے ، حضور کے وقت کا ہے ، اس پر حضور نے بلاناغہ بیس سال تک روزانہ نمازِ عصر کے بعد وعظ فرمایا ہے ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں وعظ سن کر مشائخ نے وجد کیے ہیں، عام مسلمانوں نے ہدایت پائی ہے اور ہزارہا دیگر مذاہب کے لوگ دینِ اسلام سے مشرف ہوئے ہیں۔ (۱۳)
حضرت شیخ الاسلام ؒ جب ملتان تشریف لائے تو آپ نے سلسلۂ سہروردیہ کی عظیم خانقاہ قائم کرنے کے لیے جس جگہ کا انتخاب کیا وہ قلعہ کہنہ (قاسم باغ) پر واقع برصغیر کے تاریخی مندرپرہلاد جی کے سامنے تھی۔ جو ہندو بھی پوجا پاٹ کر کے مندر سے نکلتا اور آپ کے نورانی چہرے کو دیکھتا توضرور متأثر ہوتا اور آپ کی پرکشش شخصیت، آپ کے اعلیٰ اخلاق اور آپ کی دل موہ لینے والی گفتار کے باعث حلقہ بگوشِ اسلام ہو جاتا۔

ب)مبلغین کی تعلیم وتربیت کے لیے درسگاہ کاقیام :
شیخ الاسلامؒ اپنے مرشد شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردیؒ کے حکم سے ملتان تشریف لائے اور انہوں نے آتے ہی ایک علمی، دینی اور صوفیانہ درس گاہ کی بنیاد رکھی ۔ یہ مدرسہ برصغیر کا قدیم ترین دینی مدرسہ شمار ہوتا ہے جس میں جملہ علوم وفنون ، منقولات اور معقولات کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اس کا نصاب درسِ نظامیہ سے مماثل تھا۔ اس درس گاہ کے دو شعبے تھے ، ایک علماء پیدا کرتا تھا اور دوسرا مبلغین ۔ مبلغین کے حوالہ سے شیخ الاسلامؒ کے تذکرہ نگارنور احمد فریدی (۱۴) نے کافی معلومات جمع کی ہیں جو یہاں پیش کی جارہی ہیں :
مبلغین کے لیے ضروری تھا کہ جس ملک میں انہیں بھیجا جائے، انہیں وہاں کی زبان اور ثقافت سے پوری واقفیت ہو ، تاکہ وہاں پہنچ کر اپنے آپ کو اجنبی محسوس نہ کریں۔ اس لیے آپ نے ہر ملک سے ایک ایک فاضل عالم طلب کر کے اپنی درس گاہ میں ملازم رکھا ، اسے معقول تنخواہ اور رہائش کا تسلی بخش انتظام فرمایا ۔
جب علماء فارغ التحضیل ہو کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ ایک ایک کو الگ الگ بلا کر پوچھتے کہ کیا تم فی سبیل اللہ تبلیغ کرنے کو تیار ہو ؟ اس طرح کافی نوجوان اپنے آپ کو اس مقصد کے لیے پیش کرتے تھے ۔ جو جس ملک میں جانا چاہتا ، وہ اسی کمرے میں اس علاقے کی زبان اور ثقافت کی تعلیم حاصل کرتا۔ دو سال کے بعد شیخ الاسلامؒ اس مبلغ کے استاذِ محترم کو پانچ ہزار اشرفی عنایت کرتے کہ شہر سے اس ملک کے لیے مفید اور ضروری سامان خرید کر دیتے اور پھر اپنی دعاؤں کے سایہ میں منزل مقصود کی طرف روانہ فرماتے ۔ چلتے وقت مبلغ کو ہدایت فرماتے :
۱۔ سامان کم منافع پر فروخت کرنا۔
۲۔ لین دین میں اسلامی تعلیمات کو سامنے رکھنا ۔
۳۔ ناقص چیزوں کو فروخت نہ کرنا ، بلکہ فقراء اور مساکین کو مفت دے دینا ۔
۴۔ خریداروں سے خندہ پیشانی سے پیش آنا۔
۵۔ جب تک لوگوں کا اعتماد حاصل نہ ہو، ان پر اسلام پیش نہ کرنا۔
اس طرح علمائے ربانیین سوداگروں کے لباس میں سامانِ تجارت لے کر روانہ ہوتے اور جاوا، سماٹرا، فلپائن اور چین تک پہنچ کر دوکانیں کھولتے اور دیانتداری سے لین دین کرتے اور ساتھ ہی لوگوں پر اسلام پیش کرتے جس کا خاطر خواہ نتیجہ نکلتا اور لوگ ان کے حسنِ اخلاق ، ان کی خدا ترسی، دینداری، دیانت داری اور معاملات میں صفائی ستھرائی دیکھ کر گرویدہ ہو جاتے اوربالآخر اسلام قبول کر لیتے ۔ آج مشرق بعیدکے چھوٹے چھوٹے جزیروں میں جو کروڑوں مسلمان نظر آتے ہیں، یہ انہی تاجر مبلغین کی سعئ مشکور کا نتیجہ ہیں۔

شیخ گروہ ھای متعددی از واعظان و مبلغان دینی را تحت بر نامہ ای منظم بہ طرف سند و مکران گسیل داشت و بر خی را بہ طرف کشمیر و دھلی و بعضی را بہ جانب افغانستان فرستاد در آخر ہر سال این گروہ ھای تبلیغی پیش می آمدند و از نتیجۂ فعالیتہای خود گزارشی تہیہ می کردند و ھر جا کہ با اشکالی بر خورد می کردند شیخ آنہا راھنمای مر کرد ۔ این گروہ زندگی خود را از پول شیخ کہ بصورت کالاھای تجارتی بہ آنہا دادہ می شد تأسین میکردند۔ (۱۵)
ترجمہ: شیخ واعظین اور مبلغین کے مختلف گروہوں کو ایک منظم پروگرام کے تحت سندھ اور مکران کی طرف روانہ فرماتے اور کسی کو کشمیر،دھلی اور بعض کو افغانستان کی طرف بھیجتے تھے ۔ ہر سال کے آخر میں یہ گروہ شیخ کے پاس واپس آتے اور اپنی کارکردگی بیان کرتے اور جہاں کہیں انہیں مشکلات کا سامنا ہوتا شیخ ان کی راہنمائی فرماتے ، شیخ ان کی ضروریاتِ زندگی کے لیے تجارت کا سامان دیتے تاکہ وہ اس کے ذریعے گزر بسر کر سکیں ۔
ڈاکٹر حمیرا دستی اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ تاریخ و مطالعۂ پاکستان ، بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی تحقیق کے مطابق انڈونیشیا میں سلسلۂ سہروردیہ ملتان کے تاجروں کے ذریعے متعارف ہوا۔ (۱۶)یہ تاجر دراصل حضرت شیخ الاسلامؒ کے بھیجے ہوئے مبلغ تھے جن کے ذریعے وہاں اسلام کی تبلیغ و اشاعت ہوئی اور سلسلۂ سہروردیہ کی ترویج ہوئی ۔نور احمد فریدی حضرت شیخ الاسلام ؒ کے تربیت یافتہ مبلغین کے متعلق رقم طراز ہیں :
’ ’ واعظین اور مبلغینِ کرام کی متعدد جماعتیں کشمیر سے راس کماری اور گوادر سے بنگال تک مصروفِ عمل تھیں ۔ حضرت شیخ الاسلامؒ کی آمد سے پہلے حضرت سلطان سخی سرورؒ کی تبلیغی جماعتیں موجود تھیں۔ مگر صحیح قیادت میسر نہ ہونے کے سبب ان میں سستی اور بے راہروی سی پیدا ہو گئی تھی۔ حضرت نے ان کی بھی بھرپور سرپرستی فرمائی۔ دس دس میلوں کے فاصلے پر ان کی قیام گاہیں مقرر ہوئیں۔ جہاں سر سبز اور گھنے درختوں کے سایہ تلے کئی کئی دنوں تک وعظ و نصیحت کی مجالس گرم رہتیں۔ سال کے خاتمے پر مبلغین کے یہ گروہ جو آج کل ’’سنگ ‘‘ اور ’ ’ جماعت‘‘ کے نام سے موسوم ہیں ، پانچ پانچ سو کی تعداد میں قال اللّٰہ و قال الرسول سے لوگوں کے دلوں کو گرماتے، ملتان حاضر ہوتے اور اپنی کارگزاری تفصیل سے بیان کرتے۔‘‘(۱۷)

اس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت شیخ زکریا ؒ نے انفرادی تبلیغ کے بجائے اجتماعی نظام قائم فرمایا۔ انہوں نے ایک تبلیغی جماعت کی تربیت کر کے اسے اسلام کی اشاعت پر لگا دیا ۔دراصل حضرت شیخ علیہ الرحمہ نے اس قرآنی آیت کی عملی تفسیر کا اہتمام فرمایا :
وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَ یَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ اُولٰءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ o (آل عمران ۳:۱۰۴)
ترجمہ: اور چاہیے کہ تم میں سے ایک جماعت ہو جو بھلائی کی طرف بلاتے ہوں اور نیکی کی ہدایت کرتے ہوں اور برائی سے منع کرتے ہوں اور وہی فلاح پانے والے ہیں ۔
شیخ بہاؤ الدین زکریا ؒ ان مبلغین کی دینی تعلیم ، روحانی تربیت کے علاوہ ان لوگوں کی سفری مشکلات اور خطرات سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے گھوڑے اور سواری کا بندوبست کرتے تھے، نیز شمشیر زنی اور نیزہ بازی کی باقاعدہ تربیت دی جاتی تھی گویا اس مدرسے کے فارغ التحصیل علماء اور مبلغین دین ودنیا اور ظاہر و باطن کی امتزاجی تربیت سے مکمل انسان بن جاتے تھے ۔ (۱۸)
حضرت بہاؤ الدین زکریا رحمۃ اللہ علیہ کے تربیت یافتہ مبلغین اور مدرسہ بہائیہ کے فاضلین معاشی مسائل سے کافی حد تک آزاد تھے کیونکہ شیخ الاسلام ؒ خود انہیں تجارت کے لیے سرمایہ مہیا فرماتے تھے۔ اس کے علاوہ انہیں درس وتدریس کے دوران مختلف فنون کی تعلیم بھی دی جاتی تھی مثلاً خطاطی اور جلد سازی کا کام سکھایا جاتا تھا (۱۹) تاکہ ضرورت پڑنے پر وہ ان مہارتوں کے ذریعے اپنے لیے رزقِ حلال کما سکیں۔
حضرت شیخ الاسلام ؒ کے خدام نے تبلیغ کی جدوجہد کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے ہر قریہ اور آبادی میں دینی تعلیم کے مدارس قائم کیے جنہیں ’’خانقاہوں ‘‘سے موسوم کیا جاتا تھا۔ انہیں ملتان کے مرکزی تبلیغی یونیورسٹی کے نصاب کے مطابق انسانی کمال اور روحانی جلال کے حصول و عروج کی باقاعدہ تعلیم دی جاتی تھی۔ ایسے روحانی سنٹر پنجاب اور سندھ میں چپہ چپہ پر قائم تھے اور جب یہ اللہ والے رشد وہدایت کا عَلم لہرا کر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی بجا آوری کے لیے روانہ ہوتے تو ان کے آنے سے پہلے لوگوں کو اطلاع ہو جاتی تھی اور وہ تمام کام نبٹا کر ان خدا شناسوں کے انتظار میں دیدہ و دل فرشِ راہ کر دیتے تھے۔ سہروردی فقراء ہر منزل پر ایک دو یوم ضرورت کے مطابق قیام کر کے تبلیغی مجالس ترتیب دیتے ، صاحبِ حال صوفی اور نامور مشائخ اثر میں ڈوبی ہوئی تقریریں کرتے ، جس سے سامعین کے قلوب لرز جاتے ، فولادی طبائع نرم ہو کر موم بن جاتی تھیں۔ خشونت آمیز نگاہوں سے خشیتِ الٰہی کی دھاریں پھوٹ پڑتیں۔ بڑے بڑے سنگدل انسان خدا کے قہرو غضب اور اس کی بے پناہ گرفت سے کانپ اٹھتے اور بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگتے ۔ ایک ہی نشست میں ہزاروں فاسق و بدکار تائب ہو کر قطب و ابدال بن جاتے۔ (۲۰)

ان کے علاوہ تبلیغی جماعتیں جو اس مقصد کے لیے روانہ کی جاتی تھیں ، وہ اپنے نان و نفقہ کا بوجھ کسی پر نہیں ڈالتی تھیں ، بلکہ شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے ان کو لاکھوں روپے کا سامانِ تجارت خرید کر دیا جاتا تھا ۔ ہر پڑاؤ پردوکانیں کھل جاتیں، نانبائی کھانا تیار کرتے ، بُزاز کپڑوں کی دکانیں سجاتے اور بنجارے قسم قسم کا سامان لے بیٹھتے ۔محافظ دستہ جنگی مظاہرے کر کے نوجوانوں کو جہاد کے لیے اُبھارتا ، زور آزمائی ہوتی ، گھوڑ دوڑ، نیزہ بازی اور شمشیرافگنی کے کمالات سے مردہ دلوں میں زندگی کی ایک نئی روح دوڑنے لگتی۔ (۲۱)
ج) اولاد و خلفاء کی تبلیغ کے لیے تربیت :
حضرت شیخ الاسلام قدس سرہٗ نے اپنی اولاد اور خلفاءِ مجاز کی تربیت اس انداز سے کی کہ ان کے وصال کے بعد بھی تبلیغ اسلام کی خاطر ان کی روشن کر دہ شمع توحید کی کرنیں چار سو بکھرتی رہیں۔ طالبانِ حق کو معرفت کی مے ملتی رہی اور کفر و شرک کی دلدل میں دھنسی ہوئی انسانیت کو خانقاہِ زکریاؒ کے فیض یافتہ صوفیہ عظام نجات دلاتے رہے۔ اس طرح شیخ الاسلام ؒ کا روحانی ورثہ جب لوگوں میں تقسیم ہوا ، انہوں نے اس عظیم مبلغ کے حقیقی وارث ہونے کا حق ادا کر دیا ۔
حضرت شیخ الاسلامؒ نے صاحبزادوں کی تعلیم کے لیے بڑے نامور اساتذہ مقرر کر رکھے تھے جن کو انعام و اکرام سے نوازتے تھے ، ان پر بڑی نوازشیں کیں اور ان کے دامن میں سونا چاندی انڈیل دیااور جب شیخ الاسلام ؒ گھر پر ہوتے تو ان بچوں کو خود بھی تعلیم دیتے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت کے فرزند اور پوتے علم وفضل میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے ۔ (۲۲) صاحبزادگان کے اساتذہ میں سب سے معروف مولانا نجم الدین تھے۔(۲۳)جن بیٹوں نے قابل اساتذہ سے اکتسابِ فیض کیا ہو اور ان کی روحانی تربیت شیخ الاسلام ؒ جیسی ہستی نے کی ہو، ان کا مبلغِ اسلام اور داعئ دینِ متین ہونا یقینی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے شیخ الاسلامؒ کو سات فرزند عطا فرمائے تھے جن کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں :
۱۔ شیخ الاسلام صدر الدین عارف ؒ ۲۔ شیخ علاء الدین محمد ؒ 
۳۔ شیخ قدوۃ الدین محمد ؒ ۴۔ شیخ شمس الدین محمد، محبوبِ خدا ؒ 
۵۔ شیخ شہاب الدین محمد ؒ ۶۔ شیخ ضیاء الدین محمد ؒ 
۷۔ شیخ برہان الدین محمدؒ 
ان صاحبزادگان نے اپنی زندگیاں ترویجِ اسلام کے لیے وقف کر دی تھیں ۔ سات فرزندان کے علاوہ شیخ الاسلامؒ کی تین صاحبزادیاں بھی تھیں۔ آپ کے داماد بھی صوفیہ میں سے تھے۔ ایک بیٹی نور بانو فخر الدین عراقی ؒ کے حبا لۂ نکاح میں آئیں ۔اس سے سیّد کبیر الدین عراقی پیدا ہوئے جنہوں نے حضرت کی آغوشِ شفقت ہی میں پرورش پائی اور آپ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہو کر بڑے مرتبے کو پہنچے ۔ دوسری صاحبزادی سلطان بی بی المعروف بی بی فاطمہ تھیں جن کی شادی سلطان التارکین حمید الدین حاکم رحمۃ اللہ علیہ سے ہوئی تھی، جن سے خاندانِ جلیلہ کے مورثِ اعلیٰ نور الدین پیدا ہوئے۔ تیسری صاحبزادی عائشہ بی بی کا نکاح میر حسینی رحمۃ اللہ علیہ سے ہوا۔ (۲۴) آپ کے صاحبزادوں کی طرح آپ کے دامادوں اور ان کی اولاد نے بھی اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لیے بھرپور جدوجہد کی ۔
حضرت شیخ الاسلامؒ کے بعد آپ کے فرزند ارجمند حضرت شیخ صدر الدین عارفؒ مسند آرائے رشد و ہدایت ہوئے جن کے وصال کے بعد حضرت شیخ ابو الفتح رکن الدین خانقاہ سہروردیہ کے سجادہ نشین بنے اور سرچشمۂ علم وعرفان کی حیثیت سے اپنے عظیم آ باؤ اجداد کی طرح مخلوقِ خدا کو فیض یاب کرتے رہے۔ (۲۵)
حضرت بہاء الدین زکریاؒ کے مریدین کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ آپ کے خلفاء نے سلسلہ سہروردیہ کی ترویج کے ساتھ ساتھ اشاعتِ اسلام کا فریضہ بطریقِ احسن سرانجام دیا ۔ آپ نے حضرت سید جلال الدین سرخ بخاری (۵۴۵ھ) کو خرقۂ خلافت عطا فرما کر روحانی علوم کی دولت سے مالامال کر دیا۔ وہ تیس برس تک آپ کی خدمت میں رہے پھر حضرت صدر الدین عارفؒ (فرزندِ اکبر و سجادہ نشین درگاہ زکریا) کے حکم پر اُوچ تشریف لے گئے۔ ان دنوں اوچ کے گرد ونواح میں ہندوؤں کا تسلط تھا ۔ سیّد جلال الدین ؒ نے پوری خود اعتمادی کے ساتھ دینِ اسلام کی تبلیغ کی اور کفّار کو راہِ راست پر لانے کی ذمہ داری قبول کی اور اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کی ۔ (۲۶)
شیخ فخر الدین عراقی (متوفی ۶۸۸ھ) آپ کے خلیفۂ مجاز اور داماد تھے۔ انہوں نے مختلف ممالک کی سیاحت کی جن میں روم ، عراق ، مصر اور شام شامل ہیں تاہم ان کی تبلیغی سرگرمیوں کا ذکر تذکرہ نویسوں کے ہاں نہیں ملتا۔ ان کا اور ان کے صاحبزادے شیخ کبیر الدین کے دمشق میں حضرت شیخ محی الدین ابن عربی کے پہلو میں مدفون ہونے کا ذکر متعدد مورخین نے کیا ہے۔ (۲۷)
حضرت مخدوم لعل شہباز قلندرؒ (سیّد عثمان المروندی) بھی شیخ الاسلامؒ کے مرید اور خلیفہ تھے۔ آپ نے سندھ میں آکر یہاں کے عوام کی روحانی اور اخلاقی اصلاح کی۔ ان کی اصلاحی اور تبلیغی خدمات سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں ۔ سہو ان کفر و عصیان کا مرکز تھا۔ بدھ اور برہمنوں کی کثرت تھی ، آپ کے آنے سے اسلام کی اشاعت ہوئی ۔ حضرت شہباز قلندرؒ کے سندھ میں گھو منے اور تبلیغ کرنے کے سلسلے میں ’’تحفۃ الکرام ‘‘میں لکھا ہے کہ لعل سائیں نے سندھ کے کونے کونے کی سیر کی تھی اور ان کی یہ سیاحت یقیناًتبلیغی لحاظ سے ہوتی تھی ۔ (۲۸)
شیخ الاسلامؒ کے دیگر خلفاء میں سے میر حسینی نے ہرات میں ، خواجہ حسن افغان نے افغانوں میں اور شیخ اسماعیل قریشی نے عمر پور میں تبلیغ اسلام کی ۔(۲۹) پیر نواب موسیٰ کو ولایت سندھ میں رشد وہدایت پر مامور کیا گیا اور کئی قوموں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ پیر پتھورو نے ضلع تھرپارکر میں ،مخدوم جمار نے رانی پور ضلع خیر پور میں اور حیدر زرکنی نے سمر قند میں سلسلۂ رشد وہدایت جاری کیا۔ (۳۰)
شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی ؒ اور ان کے خلفاء کا اثر صرف مغربی پنجاب اور سندھ تک محدود نہ تھا بلکہ افغان علاقے میں بھی ان کے معتقد تھے۔ افغان اپنا سلسلۂ نصب بنی اسرائیل سے ملاتے ہیں ۔ سلطان محمود غزنوی کے زمانے تک بیشتر افغان غیر مسلم تھے۔ روسی مستشرق بارٹولڈ کا بھی خیال ہے کہ افغانوں میں اسلام بارہویں صدی عیسوی کے قریب پھیلنا شروع ہوا اور قریب قریب یہ وہی زمانہ تھا جب ۱۱۸۲ء میں شیخ بہاء الدین زکریا ؒ کی ولادت ہوئی اور تعلیم و تربیت اور شیخ شہاب الدین سہروردی ؒ سے خلافت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے موجودہ پاکستان میں آپ کو ارشاد و ہدایت کے لیے وقف کر دیا۔ (۳۱) حضرت شیخ الاسلامؒ کے خلفاء میں سے شیخ حسن افغان رحمۃ اللہ علیہ بہت مشہور ہیں، ان کی بابت آپ فرمایا کرتے تھے:
’’ روزِ قیامت وقتی از من سوال کنند کہ دربار گاہ ماچہ آوردہ ای؟ خواہم گت : صدق و اعتقاد و حسن افغان را ‘‘۔ (۳۲)
حضرت شیخ زکریا ؒ نے اپنے اس خلیفہ کو افغانوں میں جا کر تبلیغ کرنے کا حکم دیا۔
ان کے علاوہ بھی مخزن افغانی میں شیخ بہاؤ الدین زکریا ؒ کے دوسرے افغان مریدوں کے نام ملتے ہیں ۔ (۳۳) بعد میں ان کے مریدین اور دوسرے ایسے سہروردی بزرگوں نے افغانستان میں اسلام کی تبلیغ کی جن کا منبعِ فیضان شیخ الاسلام ؒ ہی تھے۔
شیخ الاسلام ؒ کے تمام وابستگان کی تعداد اور ان کی تبلیغی مساعی کو حیطۂ تحریر میں نہیں لایا جا سکتا۔ مختصراً اتنا کہا جا سکتا ہے کہ برصغیر کے اس عظیم صوفی کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے جنوبی ایشیاء میں اسلام کی نشر و اشاعت کا بندوبست فرمایا ، مراکش سے جاوا اور سماٹرا تک ان کے ذریعے اسلام پھیلا اور سلسلہ سہروردیہ کی ترویج ہوئی۔
قرامطہ کے اثرات زائل کرنے کی کوششیں :
حضرت شیخ الاسلام بہاؤ الدین زکریا ملتانی ؒ نے جہاں غیر مسلموں کو مشرف بہ اسلام کرنے کے لیے حکمت اور موعظۃ الحسنہ کے قرآنی اصولوں پر عمل کیا ، اسی طرح انہوں نے نام نہاد مسلمانوں کے گروہوں کو بھی جنہیں وہ غلط سمجھتے تھے، راہِ راست پرلانے کی سعی کی۔ چونکہ حضرت خود حنفی تھے ، اس لیے وہ قرامطہ کو غلط سمجھتے تھے ۔ قرامطہ کی تحریک کا آغاز حمدان قرمط نے واسط کے مضافات سے کیا۔ ۲۶۴ھ؍۸۷۷ء میں عراق کے زیریں علاقے میں زنج کی جنگ غلامی میں منظم ہونے والے باغیوں نے قرامطہ کی تحریک کی بنیاد رکھی جس میں شمولیت کے لیے بعض رسوم کا بجا لانا ضروری تھا۔ پرجوش تبلیغ کے باعث اس خفیہ جماعت کا دائرہ عوام کسانوں اور اہل حرفہ تک وسیع ہو گیا۔ الاحساء میں انہوں نے خلیفۂ بغداد سے آزاد ہو کر ایک ریاست کی بنیاد رکھ لی اور خراسان، شام اور یمن میں ان کے ایسے اڈے قائم ہو گئے جہاں سے ہمیشہ شورشیں ہوتی رہتی تھیں۔ اس تحریک نے نویں اور بارہویں صدی عیسوی کے درمیان ساری اسلامی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بعد میں ایک جاہ طلب گھرانے یعنی اسماعیلی خاندان نے اس تحریک پر قبضہ کر لیا۔ انہوں نے ۲۹۷ھ؍ ۹۱۰ء میں خلافت فاطمیہ کے نام سے ایک حریف سلطنت قائم کی۔ (۳۴) ایک دور میں ملتان بھی قرامطیوں کا گڑھ تھا ۔ ان کا اثر ختم کرنے کے لیے سلطان محمود غزنوی نے ملتان پر حملہ کیا تھا۔ (۳۵)
ملتان کے اسماعیلی ،بحرین اور یمن کے اسماعیلیوں کی اولاد ہونے کے داعی تھے ۔ یمن میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اولاد سے عبدالرحمن بن احمد بن عبداللہ بن محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب نے عباسیوں کے خلاف علویوں کے حق میں ۲۰۹ھ ؍ ۸۲۵ء میں خروج کیا۔ چنانچہ اس تحریک کے لوگ بھی سندھ اور ملتان میں آ کر آباد ہو گئے تھے۔ یہاں انہوں نے بڑی بڑی جاگیریں خرید کر بڑا اثر و رسوخ حاصل کر لیا تھا۔ یہ لوگ ہندی بولتے تھے تاکہ عوام سے رابطہ ہو سکے ۔ بعد ازاں یہ اسماعیلی ملتان کے علاقے سے اٹھ کر بمبئی ، گجرات اور جنوبی ہند کے دوسرے علاقوں کے علاوہ موجودہ پاکستان کے شمالی علاقوں تک پھیل گئے جہاں یہ آج تک باقی ہیں۔ (۳۶)
حضرت بہاء الدین زکریا قدس سرہ العزیز نے اسماعیلی فرقے کا اثر ورسوخ کم کرنے کے لیے باقاعدہ تبلیغی کاوشیں کیں۔ آپ اور آپ کے خلفاء کی کوششوں کے باعث اس فرقے کی ترویج رک گئی بلکہ ڈاکٹر میمن عبدالمجید سندھی کے الفاظ میں ’’ سندھ اور ملتان کے قرمطی اور اسماعیلی لوگوں نے اپنے عقائد ترک کر کے سنی حنفی عقائد اختیار کر لیے ۔‘‘ (۳۷) اس کے متعلق قاضی جاوید رقم طراز ہیں :
شیخ بہاؤ الدین زکریاؒ کی شخصیت میں جملہ سہروردیہ اوصاف کی تجسیم ہوئی تھی۔ ان کی عقیدہ پرستی اور راسخ الاعتقادی کی تشکیل میں اسماعیلی اثرات کے خلاف عوامی ردّ عمل نے بھی قابل ذکر کردار ادا کیا تھا۔ شیخ کے زمانے میں ملتان اور خصوصاً اس کے گرد و نواح کے علاقے اسماعیلی اثرات سے پاک نہیں ہوئے تھے۔ شیخ نے اسماعیلی اثرات کے خلاف جہاد کیا ، شاگردوں اور مریدوں پر مشتمل مبلغین کی کئی جماعتیں نہ صرف قرب و جوار بلکہ دور دراز کے علاقوں میں بھی راسخ الاعتقاد یت کے دفاع کی خاطربھیجیں ۔ (۳۸)
ایک زمانے میں ملتان قرامطیوں کا گڑھ تھا۔ دو سو برس تک قرامطیوں نے ملتان پر حکومت کی ۔ اگرچہ محمود غزنوی اور اس کے بعد کے حکمرانوں نے قرامطہ فرقے کو ختم کرنے اور ملتان پر ان کے اقتدار کو مٹانے کی پوری کوشش کی ۔ ان کی کوششوں سے ان کی حکومت تو ختم ہو گئی مگر ان عقائد سے تعلق رکھنے والے ابھی ملتان اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں موجود تھے ۔ (۳۹) شیخ الاسلام ؒ نے عوام الناس میں قرامطہ اور اسماعیلیوں کے اثرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ آپ کی تبلیغ سے کئی راہ راست پر آگئے۔ (۴۰)
شیخ الاسلام ؒ کی تبلیغی سرگرمیاں اور مسلم مؤرخین :
مسلمان مؤرخین اور تذکرہ نویسوں نے حضرت شیخ الاسلام بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کی تبلیغی کوششوں کی بڑی تحسین کی ہے ۔ یہاں سوانحی تذکروں، صوفیانہ تاریخی کتب اور دیگر تاریخِ ہند کے ذرائع سے کچھ اقتباسات نقل کیے جارہے ہیں جن میں حضرت شیخ کی تبلیغی خدمات اور ہندوستان کی تاریخِ تصوف میں آپ کے مقام و مرتبہ کی وضاحت کی گئی ہے :
شیخ نور محمد بخش نے اپنی مایہ ناز تصنیف ’’سلسلۃ الذھب ‘‘ میں حضرت شیخ کے تذکرے میں لکھا ہے :
’ ’ بہاؤ الدین زکریا الملتانی قدس سرہ رئیس الاولیاء ببلاد ہند و کان عالما بعلوم الظاہرۃ صاحب الاحوال والمقامات من المکاشفات والمشاہدات مرشدًا ینتسعب منہ کثیر من الاولیاء فی الارشاد وہدایۃ الناس من الکفر الی الایمان و من المعصیۃ فی الطاعۃ من النفسانیۃ الی الروحانیۃ۔ ‘‘ (۴۱)
ترجمہ: بہاؤ الدین زکریا ملتانی قدس اللہ سرہٗ ہندوستان کے رئیس الاولیاء تھے آپ علوم ظاہری کے زبردست عالم اور صاحبِ احوال و مقامات اور صاحبِ مکاشفات و مشاہدات تھے ، آپ ایسے مرشد کمال تھے جن سے اکثر اولیاء کے سلسلے نکلتے ہیں، آپ کا کفر سے ایمان ، معصیت سے اطاعت اور نفسانیت سے روحانیت کی طرف ہدایت کرنے میں بڑا مقام ہے ۔
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (۹۵۸ھ۔۱۰۵۲ء) نے صوفیہ کے احوال پر مبنی کتاب ’’اخبار الاخیار‘‘ مرتب کی جس میں انہوں نے حضرت شیخ الاسلام کے متعلق لکھا :
’’ خلیفہ شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی ست رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما از اکابر اولیاء ہندست صاحب کرامات ظاہرہ و مقامات باہرہ و برکاتِ شاملہ ‘‘ ۔ (۴۲)
ترجمہ: آپ شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی کے خلیفہ تھے ، آپ کا شمار ہندوستان کے اکابر اولیاء میں ہوتا ہے ، ظاہری کمالات ، بلند مراتب اور اعلیٰ برکات و فیوض سے آراستہ تھے۔‘‘

شہزادہ داراشکوہ نے اپنی کتاب ’’ سفینۃ الاولیاء‘‘ میں ان کا ذکر یوں کیا ہے :
ترجمہ: ’’پھر آپ شیخ الشیوخ سے اجازت لے کر ملتان آئے اور وہیں مستقل سکونت اختیار کر لی اور طالبانِ حق کی ہدایت و ارشاد میں مشغول ہوئے ۔ آپ کی برکت سے بہت سی مخلوق راہِ راست پر آئی اور اس شہر اور اطراف کے تمام لوگ معتقد ہوئے اور آج بھی اس نواح میں آپ کے مرید کثرت سے موجود ہیں ۔‘‘ (۴۳)
حضرت شیخ الاسلام کے تذکرہ نویس نور احمد خان فریدی حضرت شیخ بہاؤ الدین زکریا کی تبلیغ کے اثرات کا بڑے دلکش انداز میں یوں ذکر کرتے ہیں :
’’ حضرت جب اس سرزمین میں تشریف لائے تھے، یہ علاقہ کفر والحاد کا گہوارہ بن رہا تھا لیکن اب کایا پلٹ چکی تھی۔ ملک کے طول و عرض میں ہزاروں مبلغین حضرت کے اشارہ پر مئے توحید کے خم لنڈھاتے پھرتے تھے اور چپہ چپہ پر قرآن وحدیث کے درس جاری تھے ۔‘‘ (۴۴)
ڈاکٹر محمد ریاض جو حضرت شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی علیہ الرحمۃ کو ’’ صوفی گر‘‘ مشائخ کرام میں شمار کرتے ہیں۔ (۴۵) ، آپ کی تبلیغی خدمات کے حوالے سے رقم طراز ہیں :
’’ شیخ زکریا کی تبلیغ کے نتیجے میں اشاعتِ اسلام کا کام کافی آگے بڑھا اور مسلمانوں کی اصلاحِ احوال بھی ہوئی ۔ ‘‘ (۴۶)
پروفیسر محمد خورشید شعبۂ تاریخ و مطالعہ پاکستان اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور حضرت بہاؤ الدین زکریا کے متعلق لکھتے ہیں :
’’ ۱۲۱۷ء میں ملتان پہنچ کر شیخ (شہاب الدین سہروردیؒ ) کے خلیفہ کی حیثیت سے خانقاہ سہروردیہ قائم کی۔ اس کے نتیجے میں اسلامی تعلیمات اور رشد وہدایت کا مرکز کوٹ کروڑ سے ملتان منتقل ہو گیا اور یہ کہ اسی خطۂ پاکِ ارض (کوٹ کروڑ) کے توسط سے ملتان رشد وہدایت کا مرکز میں تبدیل ہوا اور سلسلہ عالیہ سہروردیہ کا مرکز و محور ٹھہرا۔ مابعد بزرگانِ دین کی دینی تعلیمات اور اشاعتِ اسلام کے سبب مدینۃ الاولیاء کہلایا ۔‘‘ (۴۷)
عزیز احمد نے سلسلۂ چشتیہ اور سہروردیہ دو بڑی خانقاہوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے :
’’ اجمیر میں چشتی سلسلہ کی خانقاہ اور ملتان میں سہروردی خانقاہ کا قیام تیرہویں صدی میں صوفیانہ مذہبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تبلیغ کے بھی مرکز تھے ۔‘‘ (۴۸)

یہاں ان کا اشارہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری اور حضرت شیخ الاسلام بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمہما اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔
مولانا قاضی اطہر مبارک پوری اپنی کتاب ’’ ہندوستان میں عربوں کی حکومتیں ‘‘ میں حضرت زکریا کے متعلق رقم طراز ہیں :
’ ’ شیخ الاسلام بہاؤ الدین زکریا بن محمد ملتانی ؒ (متوفی ۶۶۶ھ) رحمۃ اللہ علیہ اسی ہباری خاندان کے چشم و چراغ تھے جنہوں نے منصورہ کے بنوہبار کے تقریباً تین سو سال بعد ملتان میں رشد و ہدایت اور علم وفضل کی بساط بچھائی۔ اس ہباری فقیر نے اپنے دلق و سجادہ کے ذریعے ہباری حکمرانوں کے تخت و تاج سے زیادہ دوام و ثبات پایا اور ملتان کا نام اس خانوادۂ علم وفضل کی وجہ سے مدتوں روشن رہا ۔‘‘ (۴۹)
اعجاز الحق قدوسی نے حضرت شیخ الاسلام ؒ کے بارے میں تحریر کیا ہے :
’’ ملتان واپس آنے کے بعد آپ نے اصلاح و تربیت کا کام بڑے پیمانے پر انجام دیا اور آپ کے فیوض و برکات سے سارا ہندوستان منور ہو گیا ۔‘‘ (۵۰)
مولانا عبدالرشید طالوت نے حضرت بہاؤ الدین زکریا ؒ کو ان الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے :
حضرت شیخ بہاؤ الدین زکریا رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے خلفاء کو خاص امتیاز حاصل ہے ۔ یہ وہی قدسی نفوس تھے جن کا پیکر صناعِ ازل سے عشق کے خمیر سے تیار کیا گیا تھا ۔ جو اپنے سینے میں پارے کی طرح بے تاب دل رکھتے تھے ۔ یقین ان کا ایمان اور عشق ان کی سپر تھی۔ اسلام کی عظمت و سربلندی کے لیے یہ ملکوتی انسان قندیل ایمان لے کر Six Hundred Soldier Saints(چھ سو درویش مجاہدین) کی شکل میں بنگال کی رزم گاہ میں بجلی بن کر گوڑ گوبند کے لشکر پر کودے اور کبھی جمالِ خداوندی کا مظہر بنے ۔ انڈونیشیا ، فلپائن اور چین کے قریہ قریہ میں دعوتِ حق دیتے نظر آئے جو رضائے الہٰی کے لیے بحرِ ہند کے طوفانوں سے الجھے ، سیام اور برما کی پہاڑیوں سے ٹکرائے اور ظلمات کے پردوں کو چاک کرتے ہوئے وہاں تک پہنچے جہاں تک تخیلِ انسانی کی رسائی ہوسکتی ہے ۔ الغرض کشمیر ، سندھ، گجرات ، دکن، بنگال اور مشرقِ بعید کی بھولی بھٹکی مخلوق کو اسلام سے متعارف کرانے میں ہمارے شیخ الاسلام ؒ کابڑا حصہ ہے ۔ (۵۱)
کرم الہٰی بدر ’’تاریخِ ملتان‘‘ میں حضرت شیخ کی تبلیغی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں :
’’ شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی ؒ وہ ہستی ہیں جنہیں اس سلسلہ (سہروردیہ) کو تمام ہندوستان میں پھیلانے کا شرف حاصل ہے ۔آپ نے ملتان اور اوچ میں سلسلہ عالیہ کی خانقاہیں قائم کیں اور یہ حضرت غوث کی تبلیغی کوششوں کا ہی نتیجہ تھا کہ وہ سرکش قبائل جنہوں نے بارہا اسلامی علمبردار غزنوی اور غوری مجاہدین سے ٹکر لی تھی ، اسلام کے محافظ بن گئے اور ملتان قبۃ الاسلام کہلایا ۔۔۔۔۔ غوث بہاؤ الحق زکریا ملتانی ؒ وہ سرچشمہ فیض ہیں جس نے سندھ اور ملتان میں اسلام کے پودے کو سدا بہار کر دیا ۔‘‘ (۵۲)
اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ کے مطابق حضرت شیخ بہاؤ الدین زکریا ؒ کے سلسلے کو زیادہ تر سندھ اور پنجاب میں فروغ حاصل ہوا، اگرچہ ان کے مریدین ہرات ، ہمدان اور بخارا میں بھی تھے۔ (۵۳)
ڈاکٹر روبینہ ترین نے ’’ ملتان کی ادبی و تہذیبی زندگی میں صوفیائے کرام کاحصہ ‘‘ میں لکھا ہے :
’’ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے ملتان میں ایک علمی و دینی مدرسہ قائم کیا جس کے فارغ التحصیل اور تربیت یافتہ علماء، مبلغین اور واعظین نے نہ صرف برصغیر بلکہ بیرون ملک یعنی جاوا، سماٹرا ، انڈونیشیا ، فلپائن، خراسان اور چین تک اسلام کی روشنی پھیلائی۔ ‘‘ (۵۴)
آگے چل کر لکھتی ہیں کہ بہاؤ الدین زکریا ملتانی نے اپنی ساری عمر لوگوں کی فلاح اور رشد وہدایت کے لیے وقف کر دی تھی۔ (۵۵)
حضرت بہاؤ الدین زکریاؒ کے ایک اور سوانح نگار حمید اللہ شاہ ہاشمی نے لکھا ہے : 
’’ برصغیر پاک وہند میں جن برگزیدہ ہستیوں کے طفیل اسلام کا نور چار سو پھیلا ، ان میں شیخ الاسلام حضرت غوث بہاؤ الدین ملتانی ؒ نمایاں حیثیت رکھتے ہیں ۔‘‘ (۵۶)
ڈاکٹر میمن عبدالمجید سندھی برصغیر کی اس عظیم روحانی شخصیت کے بارے میں رقم طراز ہیں :
’’ سلسلہ سہروردیہ برصغیر پاک وہند میں حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی ؒ کے خلفاء خاص طور پر حضرت غوث بہاؤ الدین زکریا ملتانی ؒ کے ذریعہ پھیلا اور مختلف علاقوں تک پہنچا لیکن یہ سعادت موجودہ پاکستان کے علاقوں پنجاب اور سندھ کو حاصل ہے کہ یہ روحانی اور اخلاقی تحریک پہلے یہاں پہنچی اور یہاں سے دوردراز علاقوں اور شہروں تک پہنچ گئی۔ اس تحریک کے بزرگوں نے تبلیغ کے ذریعے اسلام کی اہم خدمات انجام دیں۔ کئی غیر مسلموں نے اس سلسلہ کے بزرگوں کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ہے، بے شمار لوگ روحانی فیض سے مستفیض ہوئے۔ (۵۷)
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ نے حضرت زکریا کی تبلیغی خدمات کا یوں ذکر فرمایا ہے :’’ مغربی پنجاب میں اشاعت کا فخر سب سے زیادہ حضرت بہاؤ الحق زکریا ملتانی ؒ کو حاصل ہے ۔ ‘‘ (۵۸)
مولانا سید عبد الحي لکھنوی نے ’’نزھۃ الخواطر و بہجۃ المسامع والنواظر ‘‘ میں لکھا ہے کہ ملتان تشریف لانے کے بعد حضرت شیخ الاسلامؒ ہمہ تن دعوت و ارشاد پر متوجہ ہو گئے جس سے لوگوں پر اس قدر اثر ہوا کہ ان سے پہلے کسی صاحبِ طریقت کے ارشاد و دعوت سے اس قدر فائدہ نہ ہوا تھا۔ (۵۹)
محمددین کلیم مؤرخ لاہور نے لکھا ہے کہ :
حضرت بہاؤ الدین ملتانی علیہ الرحمۃ مختلف ممالک اور شہروں کی سیر و سیاحت کے بعد ملتان تشریف لائے، یہاں آ کر آپ نے سلسلہ عالیہ سہروردیہ کا ایک بڑا زبردست مرکز قائم کیا جس کا کام مبلغ پیدا کرنا تھا۔ انہوں نے آپ کے تبلیغی دوروں کے حوالے سے یہ بتایا کہ عام طور پر گرمی کا موسم کشمیر ، بلخ، بخارا ، دمشق، نیشا پور اور افغانستان کی طرف گزرتا اور سردی کے ایّام راجپوتانہ، سندھ اور پنجاب کے میدانی علاقہ میں وعظ و تبلیغ پر جاتے۔ ساون بھادوں کے مہینوں میں دیبل ، ملہیر اور سہوان کی طرف نکل جاتے۔ (۶۰)
مخدوم حسن بخش ’’ انوارِ غوثیہ ‘‘ میں حضرت شیخ زکریاؒ کی تبلیغ کے ذریعے اسلام کی اشاعت کے متعلق رقم طراز ہیں :
’’ حضرت کے وعظ سن کر ملک سندھ اور علاقۂ ملتان اور لاہور کے اہل ہنود میں سے بھی بے شمار خلقت نے جس میں بہت متمول تاجر اور بعض والیانِ ملک بھی تھے ، دینِ اسلام اختیار کیا اور حضور کے مرید ہوئے ۔‘‘ (۶۱)
دراصل حضرت بہاؤ الدین زکریا قدس سرہ العزیز کی شخصیت میں اتنی کشش تھی کہ آپ کے وعظ و نصیحت سے لوگ بہت متاثر ہوتے تھے ۔حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ حضرت بہاؤ الدین زکریا کی ذات میں بڑی تاثیر تھی ۔ (۶۲)
غیر مسلموں کا اعترافِ عظمت:
حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی قدس سرہ العزیز کی تبلیغی مساعی اور سلسلہ عالیہ سہروردیہ کی ترویج کے لیے خدمات کا اعتراف غیر مسلم قلمکاروں نے بھی کیا۔ ان کا ذکر متعدد مستشرقین کی کتب میں ملتا ہے۔ یہاں بطور نمونہ بعض غیر مسلم مصنفین کی کتب سے حضرت شیخ الاسلام ؒ سے متعلق اقتباسات ملاحظہ فرمائیں ۔
سر تھامس آرنلڈ (Sir Thomas W. Arnold) سابق پروفیسر گورنمنٹ کالج لاہور اپنی تصنیف’’دعوتِ اسلام ‘‘(The Preaching of Islam) میں رقم طراز ہیں :
The Conversion of the inhabitants of the western plains of the Punjab is said to have been effected through the preaching of Baha al-haqq of Multan (otherwise known as shaykh Baha al-Din Zakriyya) and Baba Farid ul-Din of Pakpattan, who flourished about the end of the thirteenth and beginning of the fourteenth centuries. (۶۳)
ترجمہ: پنجاب کے مغربی صوبوں کے باشندوں نے بہاؤ الحق ملتانی (جو شیخ بہاؤ الدین زکریا کے نام سے بھی معروف ہیں ) اور بابا فریدؒ پاک پتنی کی تعلیم و تلقین سے اسلام قبول کیا۔ یہ دونوں بزرگ تیرہویں صدی کے قریب خاتمہ اور چودہویں صدی عیسوی کے شروع میں گزرے ہیں ۔
معروف مستشرق اے ۔جے۔ آربری (A.J.Arbery) اپنی کتابِ تصوف "Sufism" میں حضرت زکریا ملتانی علیہ الرحمہ کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں :
Shihab al- Din wrote many books, large and small, the most famous and influential being the Awarif al-Maarif which became fundemental text book of the order. His teaching was carried to India by Baha al - Din Zakariya of Multan, and therefore found immediate acceptance. (۶۴)
ترجمہ: شیخ شہاب الدین (سہروردی ) نے بہت سی چھوٹی بڑی کتابیں لکھی ہیں جن میں سب سے معروف اور اثر انگیز’’عوارف المعارف ‘‘ہے جو اس سلسلے بنیادی درسی کتاب بن گئی ہے۔ ان کی تعلیمات ہندوستان میں بہاؤ الدین زکریا ؒ ملتانی کے ذریعے پہنچیں۔ اس لیے فوری قبولیت پائی۔
’’کیمبرج ہسٹری آف اسلام ‘‘میں بھی سلسلہ سہروردیہ کے بہاؤ الدین زکریاؒ کے ذریعے ہندوستان پہنچے کا ذکر موجود ہے ۔(۶۵)
ایل بی ون جونز (L.Bevan Jones) جو بپٹسٹ مشنری سوسائٹی سے تعلق رکھتے تھے ، سلسلۂ سہروردیہ کا تعارف کرواتے ہوئے شیخ بہاؤ الدین زکریا علیہ الرحمۃ کا یوں ذکر کرتے ہیں ۔

The Order was Founded by Dia-ud-Din Abi Najib Suhrawardi, who died in A.D.1167. It was introduced into India by Shaikh Baha-ud-Din Zakriya of Multan, a disciple of shaikh Shahab-ud-Din, who succeeded the founder. Baha-ud-Din died in A.D.1266. His tomb in Multan is greatly revered. His Spiritual descendants were active and successful propagendists of Islam.(۶۶)
ترجمہ: اس سلسلے کی بنیاد ضیاء الدین ابی نجیب سہروردی نے رکھی جن کا 1167ء میں انتقال ہوا۔ ہندوستان میں اسے ملتان کے شیخ بہاؤ الدین زکریاؒ نے متعارف کرایا جو بانئِ سلسلہ کے جانشین شیخ شہاب الدینؒ کے مرید تھے۔ بہاؤ الدینؒ نے 1266ء میں وفات پائی۔ ملتان میں ان کے مزار کا بہت احترام کیا جاتا ہے ۔ ان کی روحانی اولاد نے اسلام کی اشاعت کا کام مستعدی اور کامیابی سے سرانجام دیا۔