Urdu Articles

شیخ زکریا ملتانی ؒ کا طریقِ دعوت و تبلیغ(پارٹ ٹو)

 ایک معروف ہندو مؤرخ ڈاکٹر تاراچند نے اپنی کتاب ’’تمدن ہندپراسلامی اثرات ‘‘ (Influemce of Islam on Indian Culture)میں جہاں حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری اور سید علی بن عثمان ہجویری رحمہما اللہ کی ہندوستان آمد کا ذکر کیا، وہاں انہوں نے حضرت بہاؤ الدین زکریا علیہ الرحمۃ جیسے صوفی کو بھی نظر انداز نہیں کیا ہے۔ (۶۷) کیونکہ ایسے نفوسِ قدسیہ کی کاوشوں سے ہندوستان میں اسلام کی نشرواشاعت ہوئی ہے ۔
گزیٹیئر آف دی ملتان ڈسٹرکٹ کا مصنف ای ۔ ڈی ۔ میکلیگن (E.D.Maclagan) حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی، آپ کے فرزند حضرت صدر الدین عارف اورحضرت شاہ رکنِ عالم رحمہم اللہ کے مختصر حالات اور مزارات کا ذکر کرتا ہے ۔وہ سندھ اور دوسرے علاقوں کے زائرین کی بہاؤ الدین زکریاؒ اور شاہ رکن عالم ؒ کے مزارات پر حاضری اور بیک آواز نعروں کا ذکر ان الفاظ میں کرتا ہے :
This (Rukn-i-Alam's) shrine and that of Bahawal Hakk are enlivened at times by the visite of bonds of pilgrims from Sindh and elsewhere, who march in with flags, crying out in chorus: "Dam Bahawal Hakk! Dam Bahawal Hakk!. (۶۸)
ڈاکٹر این میری شمل (Annemarie Schimmel) اپنی تالیف "Mystical Dimensiens of Islam"میں حضرت شیخ الاسلام ؒ کا ذکر یوں کرتی ہیں :

An even greater Suhrawardy impact on Muslim religious life was made by Baha' uddin Zakriya Multani, (d.ca.1262) a Contemporary of Fariduddin Gunj-i-Shakar. ( ۶۹)
ترجمہ: مسلمانوں کی مذہبی زندگی پر سلسلہ سہروردیہ کا زیادہ واضح اثر بہاؤ الدین زکریا ملتانی (متوفی 1262ء) کے ذریعے پہنچا جوفرید الدین گنج شکر ؒ کے ہمعصر تھے۔
ٍ این میری شمل نے اپنی ایک اور کتاب " Islam is the Indian Subcontinent"میں بھی شیخ الاسلام بہاؤ الدین زکریا قدس سرہ العزیز کا تذکرہ درج کیا ہے، جس میں انہوں نے برصغیر پاک وہند میں صوفیۂ کرام کی تبلیغی مساعی پر تفصیلی تبصرہ کیا ہے ۔
مرے ٹی ۔ ٹائی ٹس (Murray T. Titus) اپنی تصنیف "Islam in India and Pakistan"میں حضرت بہاؤ الدین زکریاؒ اور ہندوستان میں سلسلۂ سہروردیہ کی آمد کے بارے میں رقم طراز ہیں :
Following the appearance of the Chisti Order in India, the next darewish Fraternity to be introduced was Suhrawardi Order, which was sponsored by Baha-ud-Din Zakariya, a native of Multan....... A.D.1266 he died at Multan, where his tomb is greatly revered. (۷۱)
کے ۔ ایس ۔لال( K.S. Lal) نے اپنی کتاب "Early Muslims in India" میں سلسلۂ سہروردیہ کی ہندوستان میں ترویج و اشاعت کے حوالے سے لکھا ہے :
The founder of the Suhrawardi Silsila was Shaikh Shahabuddin Suharwardi. He directed his disciples to work in India. The most prominent among there was Shaikh Bahauddin Zakariya of Multan. Bahauddin Zakrariya was born at aror in 1182-83, and ofter a long sojourn of many important cntres of Muslim learning, he settled down in his khanqah at Multan where he died in 1262 after half a century,s work.(۷۲)
ترجمہ: سہروردی سلسلہ کے بانی شیخ شہاب الدین سہروردی تھے۔ انہوں نے اپنے خلفاء کو ہندوستان میں تبلیغی کام کرنے کا حکم دیا ۔ان میں سب سے نمایاں ملتان کے شیخ بہاؤ الدین زکریاؒ ہیں۔ بہاؤ الدین زکریاؒ اروڑ (صحیح نام کروڑ ہے ) میں ۸۳۔۱۱۸۲ ء میں پیدا ہوئے اور مسلم علوم کے بہت سے اہم مراکز کی طویل مسافت کے بعد آپ ملتان میں اپنی خانقاہ میں سکونت پذیر ہو گئے جہاں انہوں نے نصف صدی کے (تبلیغی) کام کے بعد ۱۲۶۲ء میں انتقال فرمایا۔
سر لیپل ایچ گرفین اور کرنل میسی نے تذکرۂ روسائے پنجاب (Punjab Chiefs) میں حضرت بہاؤ الدین زکریا علیہ الرحمۃ کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے :
حضرت بہاؤ الدینؒ 1170ء میں تحصیل لیہ کے مقام کڑوڑ میں پیدا ہوئے ۔ آپ اسد بن ہاشم کی اولاد سے تھے اور ہاشم پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا، ان کا مورثِ اعلیٰ سلطان حسین سلطان محمود غزنوی کے کسی حملہ کے ہمراہ ہندوستان آیا اور کوٹ کروڑ میں توطن اختیار کیا ۔ حضرت بہاؤ الدینؒ زمانۂ طفلی ہی میں تحصیلِ علم و کمال کے شوق سے اپنا گھر چھوڑ کر خراسان چلے گئے اور وہاں شیخ الاسلام مولانا شہاب الدین سہروردیؒ کے شاگرد بنے۔ مخدوم بہاؤ الدینؒ نے علم وفضل کی وجہ سے جلد ہی حقیقت آگاہی اور خدا شناسی میں اعلیٰ مرتبہ حاصل کرلیا اور اس کے بعد انہوں نے سفر و سیاحت اختیار کر کے کئی سال تک ترکستان ، شام اور عرب میں گشت کیا۔ 1222 ء میں آپ ملتان میں قیام فرمانے کی نیت سے ہندوستان واپس آئے۔ پہلے پہل تو ان کے یہاں سکونت پذیر ہونے کی مخالفت کی گئی مگر آخر کار سب مزاحمتیں دور ہو گئیں اور ان کی کرامات اور زہد و تقویٰ کا شہرہ تمام ملک میں پھیل گیا جس کی وجہ سے بیشمار آدمی ان کے مرید ہوگئے ۔(۷۳)
جے اسپنسر ٹری منگھم (J.Spencer Trimingham) نے صوفی سلاسل کے موضوع پر ایک تحقیقی کتاب لکھی ہے ۔ اس میں انہوں نے سلسلہ سہروردیہ اور ہندوستان میں اس کے بانی حضرت بہاؤ الدین زکریا قدس سرہٗ کے متعلق لکھا ہے :
"The Suhrwardi Silsila spread in India as a distinctive school of mystical ascription to be one of the major tariqas ........... the chief propagondist in Sindh and Punjab was another disciple, Baha ad - din Zakariya (A.D 1182 -1268), of Khurasanian origion, Who worked in Multan and was succeeded by his eldest son, Sadr ud-din M.Arif. (d.A.D. 1285), the succession continuing in the same family." (۷۴)

ترجمہ: سہروردی سلسلہ ہندوستان میں بڑے سلسلہ ہائے طریقت میں سے ایک نمایاں تصوف سے متعلق مکتب کے طور پر پھیلا ۔۔۔۔اس سلسلہ کے سندھ اور پنجاب میں بڑے مبلغ خراسانی الاصل (شہاب الدین سہروردی ؒ ) کے ایک دوسرے خلیفہ حضرت بہاؤ الدین زکریاؒ (1182ء ۔ 1268ء) تھے جنہوں نے ملتان میں (تبلیغی) کام کیا اور ان کے جانشین ان کے سب سے بڑے فرزند صدر الدین محمد عارفؒ (متوفی 1285ء) تھے ۔ جانشینی اسی خاندان میں چلتی رہی ۔
پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ (بھارت ) کے ڈیپارٹمنٹ آف پنجاب ہسٹوریکل اسٹڈیز کے ڈاکٹر فوجہ سنگھ (Fauja Singh) نے اپنی مبسوط کتاب "History of the Punjab"میں عظیم صوفی کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے :
" By and by, at Multan and Uch, permanent peats of learning associated with the names of Pirs and Fakirs were establihed. Among them, the Suhrwardy Order was the most prominent. The original founder of this branch was the sufi saint of Baghdad, Shahab - ud - Din Suhrawardy. But in Multan, the foundation of this order or Silsila was laid by the Sufi saint Baha - ud - Din Zakaria." (۷۵)
ترجمہ: آہستہ آہستہ ملتان اور اُوچ میں پیروں اور فقیروں کے ناموں سے وابستہ مستقل علم کے گہوارے قائم ہو گئے ۔ ان میں سلسلہ سہروردیہ زیادہ نمایاں ہے۔ اس شاخ کے اصل بانی بغداد کے صوفی بزرگ شہاب الدین سہروردیؒ تھے لیکن ملتان میں اس سلسلے کی بنیاد صوفی بزرگ بہاؤ الدین زکریاؒ نے رکھی۔
اس نامور بزرگ کا احترام کرنے والوں میں دونوں مسلم اور غیر مسلم شامل ہیں۔ قیام پاکستان سے قبل ان کے مزار پر حاضری دینے والوں میں ہندو اور سکھ بھی شامل ہوتے تھے۔ بعض غیر مسلم ان کی درگاہ پر حاضر ہو کر دعا کیا کرتے۔ مثال کے طور پر جے رائل روز بیری سوم (J. Royal Rosebery III) ہندؤوں کی اس بزرگ سے عقیدت کے حوالے سے رقم طراز ہیں :
Many Hirdus venerated Muslim saints. Mulraj's mother made offerings at the shrine of Bahawal Haq praying " that her son might not only conquer the English, but afterwards the sikhs and become king of the Punjab." (۷۶)

ترجمہ: بہت سے ہندو مسلم بزرگوں کا احترام کرتے ہیں، مول راج کی ماں نے حضرت بہاؤ الحق ؒ کے مزار پر نیاز چڑھا کر یہ التجا کی کہ اس کا بیٹا نہ صرف انگریزوں پر فتح حاصل کرے بلکہ بعد ازاں سکھوں کو بھی شکست دے اور پنجاب کا بادشاہ بنے ۔
مارشل جی۔ ایس ۔ہوج سن (Marshell G.S. Hodgson) اپنی کتاب "The Ventaer of Islam"میں حضرت شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی ؒ اور ان کے خلفاء کے متعلق رقم طراز ہیں:
" They devoted much time not only to the local preachings but also to the other parts of India. These preachers were usually the traders and were the masters of different languages which facilitated the spread of Islam." (۷۷)
ترجمہ: انہوں نے نہ صرف مقامی بلکہ ہندوستان کے دوسرے حصوں کی تبلیغ کے لیے بہت سا وقت وقف کیا ۔ عام طور پر یہ مبلغین تاجر تھے اور مختلف زبانوں کے ماہر تھے جس سے اسلام کی اشاعت میں مدد ملی۔
خلاصۂ کلام :
گذشتہ صفحات سے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ شیخ الاسلام حضرت بہاؤ الدین زکریا علیہ الرحمۃ برصغیر پاک وہند کے ایک عظیم مبلغ تھے ، اللہ تعالیٰ نے انہیں بے پناہ تبلیغی صلاحیتوں سے سرفراز فرمایا تھا ۔ آپ علم و عرفان اور تقویٰ واخلاق کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ آپ نے کفر و شرک میں مبتلا انسانیت کو توحید کا درس دیا، غافل مسلمانوں کو یادِ الہٰی کا سبق پڑھایا اور محبت سے محروم دلوں کو اللہ جل جلالہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے معمور کر دیا ۔ آپ نے ایک منفرد تبلیغی نظام قائم کرکے اشاعتِ اسلام کے لیے جو خدمت سرانجام دیں تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف میں رقم کی گئیں۔ آپ کی قائم کردہ درس گاہ نے علماء اور مبلغین تیار کیے اور آپ نے اپنی ذاتی دولت کو اللہ کے دین کی اشاعت کے لیے وقف کر دیا۔ آپ کے خلفاء اور اولاد نے آپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے فریضۂ تبلیغِ دین بطریقِ احسن ادا کیا۔ اس کا اعتراف مسلم مؤرخین کے علاوہ غیر متعصب غیر مسلم قلمکاروں نے بھی کیا ہے ۔ان کا منہجِ دعوت آج کے مبلغین کے لیے بھی لائق تقلید ہے ۔

حوالہ جات
1۔ Arnold, T.W, The Preaching of Islam 
(Lahore:Shirkat-i-Qualam,1956) P.254.
2۔ ظلی، ڈاکٹر اشتیاق احمد، اسلام کی توسیع و اشاعت میں صوفیاءِ کرام کا حصہ، آئین ( ہفت روزہ) ماہانہ ایڈیشن ، دسمبر 1988ء ، ص ۵۰
شیخ محمد اکرام نے بنیادی طور پر یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ تبلیغ اسلام شاید صوفیاءِ کرام کا اولین مقصد نہ تھا۔ بعد ازاں اسی کو ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلی نے تفصیل سے اپنے مضمون میں اختیار کیا۔ ملاحظہ ہو : آبِ کوثر (لاہور: ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ ، طبع پانزدہم ،۱۹۹۲ء ) ص ۱۹۰۔۱۹۲۔
3۔ مودودی، سیّد ابوالاعلیٰ، تصوف اور تعمیر سیرت، مرتبہ عاصم نعمانی (لاہور: اسلامک پبلی کیشنز) ص۱۰۲
4۔ عبدالحق، مولوی۔ اردو کی ابتدائی نشوونما میں صوفیائے کرام کا کام (نئی دلی: انجمن ترقی اردو (ہند) ۱۹۹۱ء، ص۳
5۔ سالک، عبدالمجید، مسلم ثقافت ہندوستان میں، (لاہور : ادارہ ثقافتِ اسلامیہ ، طبع سوم، ۱۹۸۲ء) ص۴۹۰۔۴۹۱
6۔ محمد خورشید ، ’’ خطۂ بہاولپور میں علمی ودینی سرگرمیوں کا تاریخی جائزہ ‘‘ تحقیقی مجلہ ’’ علومِ اسلامیہ‘‘ (بہاولپور ، کلیہ علومِ اسلامیہ ، اسلامیہ یونیورسٹی ، ۱۹۹۸ء) جلد ۶، شمارہ ۱، ص۹۲
7۔ جمالی، حامد بن فضل اللہ، سیر العارفین، اردو ترجمہ از محمد ایوب قادری (لاہور : مرکزی اردو بورڈ ، ۱۹۷۶ء) ص۱۴۴۔۱۴۵
ہاشمی، حمید اللہ ، احوال و آثار حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی (لاہور : تصوف فاؤنڈیشن ، ۲۰۰۰ء) ص۲۷۔۲۸
8۔ ہاشمی ، حمید اللہ شاہ، مصدر سابق ، ص۲۸
الف۔ جامی، مولانا عبدالرحمن ، نفخات الانس ، اردو ترجمہ حیات صوفیہ از محمد ادریس انصاری(صادق آباد : ادارہ تبلیغ اسلام ، س۔ن) ص :۶۳۸
9۔ جمالی ۔ سیر العارفین ، ص۱۴۴ 10۔ حوالۂ سابق ، ص ۱۴۸
11۔ زیدی، بانو دکتر شمیم محمود، احوال و آثار شیخ بہاؤ الدین زکریاؒ ملتانی و خلاصۃ العارفین (راولپنڈی : مرکز تحقیقاتِ فارسی ایران و پاکستان ، ۱۹۷۴ء) ص

12۔ ہاشمی، حمید اللہ شاہ، احوال و آثار حضرت بہاؤ الدین زکریاؒ ملتانی، ص۸۹
13۔ مصدر سابق
14۔ فریدی، نور احمد خان ، تذکرہ حضرت بہاؤ الدین زکریاؒ ملتانی (لاہور:علماء اکیڈیمی ، شعبہ مطبوعات ، محکمہ اوقاف ، ۱۹۸۰ء) ص ۷۱۔۷۲
15۔ زیدی، بانو دکتر شمیم محمود ، احوال و آثار شیخ بہاؤ الدین زکریا ؒ ملتانی و خلاصۃ العارفین ، ص ۳۷
16۔ Humaira, Dasti, Multan-A Province of Mughal Empire (Karachi: Royal Book Co, 1998) P.41
17۔ فریدی، نور احمد خان، تذکرہ حضرت بہاؤ الدین زکریا ؒ ملتانی، ص ۷۲۔۷۳
18۔ ہاشمی،حمید اللہ شاہ، احوال و آثار حضرت بہاؤالدین زکریا ؒ ملتانی، ص۸۷
19۔ ترین، ڈاکٹر روبینہ، ملتان کی ادبی و تہذیبی زندگی میں صوفیائے کرام کاحصہ (ملتان: بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ، ۱۹۸۹ء) ص ۱۲۲
20۔ فریدی، نور احمد خان ، تذکرہ حضرت بہاؤ الدین زکریا ؒ ملتانی، ص۷۴
21۔ حوالۂ سابق 22۔ حوالۂ سابق ، ص ۳۰۶
23۔ زیدی، بانو دکتر شمیم محمود۔ احوال و آثار شیخ بہاؤ الدین زکریا ؒ ملتانی و خلاصۃ العارفین ، ص۴۳
24۔ مصدر سابق، ص۴۲
فریدی، تذکرہ حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی ؒ ، ص۳۰۶
25۔ حضرت شیخ صدر الدین عارفؒ اور حضرت شاہ رکن عالم ؒ کے حالاتِ زندگی اور خدمات کے لیے ملاحظہ ہوں: 
فریدی، نور احمد خان، تذکرہ حضرت صدر الدین عارف ؒ (ملتان: قصر الادب ،۱۹۵۷ء) 
فریدی، نور احمد خان، تذکرہ شاہ رکن عالم ملتانی ؒ (لاہور: ۱۳۸۱ء)
26۔ ترین، ڈاکٹر روبینہ ، ملتان کی ادبی و تہذیبی زندگی میں صوفیائے کرام کا حصہ، ص۹۶
27۔ فریدی، مولوی نور احمد خان، تاریخِ ملتان، (ملتان :قصر الادب ، بار اوّل) جلد اوّل ، ص ۱۵۷
28۔ عالم فقری، علامہ، اولیائے پاکستان ، ص ۱۵۱۔۱۵۲
29۔ فریدی، تاریخ ملتان ، حصہ اوّل، ص ۱۶۰۔۱۶۱
30۔ سندھی، ڈاکٹر عبدالمجید ، پاکستان میں صوفیانہ تحریکیں (لاہور : سنگ میل پبلی کیشنز ، ۱۹۹۴ء) ص ۳۷۲، ۳۷۹،

31۔ اکرام، شیخ محمد، آبِ کوثر (لاہور: ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ، ۱۹۹۲ء) ص ۲۶۸
32۔ زیدی، شمیم محمود ، احوال و آثار شیخ بہاؤ الدین زکریاو خلاصۃ العارفین، ص ۷۱
33۔ اکرام، آبِ کوثر ، ص۲۶۹
34۔ مختصر اردو دائرۂ معارفِ اسلامیہ (لاہور:دانش گاہِ پنجاب، ۱۹۹۷ء) ص۶۵۸۔۶۵۹
35۔ Al-Utbi, Kitab -i- Yamini, Translated by Rev. James Reynolds (Lahore:A Qausain Goldmohur reprint, 1975) PP.326-329
36۔ رحمانی، ڈاکٹر انجم، پنجاب ۔۔۔ تمدنی و معاشرتی جائزہ (لاہور: الفیصل ناشران و تاجران کتب ، ۱۹۹۸ء) ص۱۸۹۔۱۹۰۔
37۔ سندھی، ڈاکٹر عبدالمجید، پاکستان میں صوفیانہ تحریکیں (لاہور: سنگ میل پبلی کیشنز ، ۱۹۹۴ء) ص ۳۶۱
38۔ جاوید، قاضی ، ہندی مسلم ثقافت (لاہور: وین گارڈ بکس، ۱۹۸۳ء) ص۳۱
39۔ ترین، ڈاکٹر روبینہ، ملتان کی ادبی وتہذیبی زندگی میں صوفیائے کرام کا حصہ، ص۱۷۷۔۱۷۹
40۔ سندھی، ڈاکٹر عبدالمجید ، پاکستان میں صوفیانہ تحریکیں ، ص۳۶۲
41۔ عبدالحق محدث دہلوی، شیخ، اخبارالاخیارمع مکتوبات (خیر پور: فاروق اکیڈیمی ،س،ن) ص۲۷
عبدالحق محدث دہلوی ، شیخ ، اخبار الاخیار، مترجمین مولاناسبحان محمود و مولانا محمد فاضل (کراچی :مدینہ پبلشنگ کمپنی، سن، ن) ص ۶۴
اخبار الاخیار کا ایک اور اردو ترجمہ انوار صوفیہ کے نام سے محمد لطیف ملک نے کیا ہے ، جسے مقبول اکیڈیمی لاہور نے ۱۹۸۸ء میں پہلی بارشائع کیا۔
42۔ عبدالحق محدث دہلوی، اخبار الاخیار ، ص ۲۶۔۲۷
43۔ داراشکوہ ، شہزادہ، سفینۃالاولیاء، اردو ترجمہ محمد علی لطفی (کراچی:نفیس اکیڈیمی، طبع ششم ، ۱۹۸۲ء) ص ۱۵۲
44۔ فریدی، نور احمد خان، تذکرہ حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی ، ص۲۹۹
45۔ محمد ریاض، ڈاکٹر، ’’ برصغیر میں صوفیائے کرام کی تبلیغِ اسلامی‘‘ سہ ماہی فکر ونظر اسلام آباد، جلد ۲۶، شمارہ ۲(اکتوبر ۔دسمبر ۱۹۸۸ء) ص۸۲
46۔ حوالۂ سابق ، ص۸۴
47۔ محمدخورشید ، خطۂ بہاولپور میں علمی ودینی سرگرمیوں کا تاریخی جائزہ ، حوالۂ مذکورہ ، ص۹۳
48۔ عزیز احمد، برصغیر میں اسلامی کلچر، اردو ترجمہ ڈاکٹر جمیل جالبی (لاہور: ادارہ ثقافتِ اسلامیہ، ۱۹۹۷ء) ص۱۲۲
49۔ اطہر مبارک پوری، مولانا قاضی، ہندوستان میں عربوں کی حکومتیں (لاہور: پروگریسیو بکس ۱۹۸۹ء) ص۱۰۲
50۔ قدوسی، اعجاز الحق ، تذکرہ صوفیائے پنجاب (کراچی : سلیمان اکیڈیمی ،۱۹۶۲ء) ص۱۱۰۔۱۱۱
51۔ فریدی، نوراحمد خان ، تذکرہ حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی، ص۱۰
52۔ بدر، کرم الہٰی، تاریخ ملتان (لاہور: امتزاج پبلیکیشنز ، ۱۹۷۹ء) ص ۱۲۷
53۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ (لاہور: دانش گاہ پنجاب ،۱۹۷۱ء ) جلد ۵، ص۹۵
54۔ ترین، ڈاکٹر روبینہ ، ملتان کی ادبی و تہذیبی زندگی میں صوفیائے کرام کا حصہ ، ص ۱۳۲
55۔ حوالہ سابق ، ص۱۳۶
56۔ ہاشمی، حمید اللہ شاہ ، احوال وآثار حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی، ص۱۳
57۔ سندھی ، ڈاکٹر عبدالمجید ، پاکستان میں صوفیانہ تحریکیں ، ص۳۵۱
58۔ مودودی، سید ابو الاعلیٰ، تصوف اور تعمیر سیرت ، ص ۱۵۳
59۔ عبدالحی بریلوی لکھنؤی، مولانا سیّد۔ نزہۃ الخواطر و بہجۃ المسامع والنواظر ، اردو ترجمہ ابو یحییٰ امام خان نوشہروی (لاہور : مقبول اکیڈیمی ، ۱۹۸۵ء) حصہ اوّل ، ص۱۹۵۔۱۹۶
60۔ کلیم ، محمد دین ،لاہور کے اولیائے سہرورد (لاہور : مکتبہ تاریخ لاہور، گڑھی شاہو ، ۱۹۶۹ء) ص ۸۶
61۔ حسن بخش، مخدوم ، انوارِ غوثیہ (لاہور : مطبع عام ،۱۳۲۸ھ ) ص ۴۸
62۔ حسن دہلوی، خواجہ، فوائد الفواد ، ملفوظات حضرت نظام الدین اولیاء 
اردو ترجمہ پروفیسر محمد مسرور (لاہور : علماء اکیڈیمی ، محکمہ اوقاف پنجاب ، ۱۴۰۰ھ؍۱۹۸۰ء) ص۵۸
63۔ Arnold, Sir T.W., The Preaching of Islam 
(Lahore:Shirkat-i-kaalam) P.281.
64۔ Arberry, A.J., Sufism - An Account of the Mystics of Islam (London: Geoge Allen & Union Ltd. 1950) P.86
65۔ Arberry, A.J. , "Mysticism" in "The Combridge History of Islam" edited by P.M. Holt Ann K.S. Lambton & B.Lewis (Combridge University Press, 1970) Vol.2, P.622
66۔ Jonas, L. Bevan, The People of Mosque ( Calcutta : Y.M.C.A Publishing House, 1939) P.165 
67۔ Tara Chand, Influense of Islam on Indian Cultare, (London: Book Traders P.O. Box 1854, 1979) P.47
68۔ Maclagan, E.D., Gaze Heer of the Multan District (Lahore: Civil and Miltory Gazettee, P.1902) p.339
69۔ Annemarie Schimmel, Mystical Dimension of Islam (Lahore: Sang-e-meel Publications, 2003) P.352
70۔ Annemarie Schimmel, Islam in Indian subcontinent (Lahore: Sang-e-meel Publications, 2003) PP.31-32
71۔ Titus, Marray T. , Islam in India and Pakistan (Karachi: Royal Book Company, 1990) P.128
72۔ Lal K. S., Early Muslims in India (Lahore : Iqbal Publications, n.d.) PP.124-125
73۔ گرفین ، سرلیپل ایچ ، کرنل میسی ۔ تذکرۂ رؤسائے پنجاب ،ارد وترجمہ سید نوازش علی (لاہور:سنگ میل پبلی کیشنز ، ۱۹۹۳ء) جلددوم ، ص۴۹۲
74۔ Trimingham, J. Spencer, The Sufi Orders In Islam (Oxford: At the Claredin Press, 1971) P.65
75۔ Fauja Singh, History of the Punjab (A.D. 1000-1526) (Patiala: Punjabi University , 1972) Vol.3. P.15
76۔ Roseberry iii, J. Royal, Imperial Rule in Punjab (New Delhi: Manohar Publications, 1987) P.80
77۔ Hodgson, Morshall G.S. The Venture of Islam of Humaira Dasti, Multan - A Pravince of the Mughal Empire (Karachi :
Royal book Company, 1978) P.41